راجماش اورآلو بہترین مارکیٹ کی تلاش میں بڈنمبل کپوراہ کے کسان محکمہ زراعت کے مفید مشوروں کے منتظر

اشرف چراغ

کپوارہ//کپوارہ کے بڈنمبل علاقہ جہا ں آلو ،مکی اور راجماش فصلو ں کے بغیر کوئی دوسری فصل کاشت نہیں ہوتی ہے اورامسال خشک سالی کے باوجودکئی علاقوں میں یہ فصلیں بہتر بننے کی امید ہے ۔تحصیل صدر مقام سے 40کلو میٹر دور بڈنمل علاقہ میں 3400سو کنال پرآلو کی کاشت ہو رہی ہے اور یہا ں کی سالانہ پیداوار 27ہزار2سو کوئنٹل سے زیادہ ہوتی ہے لیکن بہتر مارکیٹ میسر نہ ہونے کی وجہ سے یہا ں کے کسانو ں کو اس سے وہ آمدن حاصل نہیں ہو پارہی ہے جس کی انہیں تو قع ہو ۔بڈنمبل علاقہ میں آلو کئے علاوہ راجماش اور مکی کی کا شت بھی ہوتی ہے اور ان کی پید وار بھی مناسب بازار نہ ملنے کی وجہ سے کاشت کارو ں کے لئے بہتر آمد کا ذریعہ نہیں بن پاتی ہے ۔

 

 

مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ بستی کے لوگو ں کا گزارہ آلو ،مکئی اور ارجماش کی کاشت پر منحصر ہے لیکن اس سال خشک سالی کی وجہ سے یہ فصلیں نقصان سے دو چار ہوئیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ان فصلوں کی سینچائی ہوئی وہا ں بہتر فصلیں تیار ہونے کی امید ہے لیکن قدیم زمانے میں یہا ں کے کسان گھوڑو ں پر آلو اور راجماش کی بوریا ں اٹھا کر گائو ں گائو ں جاکر فروخت کرتے تھے یا کسانو ں سے دھان کے بدلے آلو یا راجماش بھیجتے تھے لیکن اب علاقے میں سڑک رابظہ بھی بحال کیا گیا لیکن اس کے باجو د بھی لوگ محکمہ زراعت کے مفید مشورو ں کے انتظار میں ہیںتاکہ آلو اور راجماش کی بہتر مارکیٹ میسر ہوگا ۔ لوگو ں کا کہنا ہے کہ اگر بڈنمبل میںبر وقت بارشیں ہوں تو یہا ں آلو ،مکئی اور راجماش کی بہتر کاشت ہو سکتی ہے لیکن خشک سالی کی وجہ سے ان کی ساری محنت اکثر ارئیگا ں ہوتی ہے ۔انہو ں نے الزام لگایا کہ محکمہ آبپاشی نے بڈنمبل علاقہ میں کوئی بھی تالاب یا کوہل تعمیر نہیں کی اور جو ہیں وہ کئی سالوں سے خستہ حالت میں ہیں جس کے نتیجے میں سینچائی کے لئے پانی نہیں مل پارہا ہے ۔مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی حکومت نے آج تک بڈنمبل علاقہ کے فصل کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں دی اور ان کے فصل کو بازار تک پہنچانے کے لئے کوئی بھی اقدام نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان فصلو ں کو گھوڑ وں یا لو ڈ کیر یر کے ذریعے ضلع کے گائو ں گائو ں جاکر فروخت کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ معاش یہی فصل ہے ۔لوگو ں نے محکمہ زراعت کے ناظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بڈنمبل کا دورہ کر کے یہا ں کے لوگو ں کو اپنے بہتر مشورو ں سے نوازیں۔ لوگو ں کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل وہ چیف ایگریکلچر آفیسر کپوارہ سے ملا قی ہوئے اور انہیں مطالبہ کیا کہ بڈنمبل علاقہ کو آلو کی سیڈ گائو ں کے زمرے میں لائیں کیونکہ یہا ں کی آلو ملک کی بہترین آلو میں شمار ہوتی ہے۔