راجستھان میں 175کشمیریوں کا قرنطینہ مکمل

سرینگر // ایران کے مختلف شہروں سے لوٹنے والے 140طلاب اور 35زائرین میں سے جمعہ کو مزید 2افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے اور اس طرح خصوصی پرواز کے ذریعے واپس لائے گئے175کشمیریوں میں سے 5کی رپورٹ مثبت آئی ہے ۔ آل انڈیا  میڈیکل انسٹی ٹیوٹ جود ھ پور میں زیر علاج کشمیری زائرین کا کہنا ہے کہ آرمی سرولنس سینٹر جیسلمیرمیں قرنطینہ میں رکھے گئے کشمیری زائرین میں زیادہ تر60سے 70سال تک کے عمررسیدہ خاتون و مرد شامل ہیں جو سخت گرمی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کے شکار ہورہے ہیں جبکہ لازمی قرنطینہ میں14دن مکمل کرنے کے بعد بھی 140طلبہ و طالبات کو دوبارہ قرنطینہ کیلئے دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔مرکزی سرکار کی ہدایت پر14مارچ کوخصوصی پرواز کے ذریعے ایران کے مختلف کالجوں میں ایم بی بی ایس کرنے والے 140طلبہ و طالبات کو راجستھان کے جیسلمیر میں قائم آرمی سنٹر میں 14دنوں کے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا لیکن 20دنوں کا عرصہ گزر جانے کے بائوجود بھی ان طلبہ و طالبات کو گھر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور جمعہ کو مزید 2کشمیری زائرین کی رپورٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی ان طلبہ و طالبات کو مزید 14دن قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آرمی ولنس سینٹر جیسلمیر میں قرنطینہ پر رکھی گئی طالبہ مہک زہرا نے کہا ’’ یہاں کوئی ہمیں کچھ نہیں بتا رہا ہے ، حد تو یہ ہے کہ ہمیں ہمارے تشخیصی رپورٹوں کے بارے میں بھی جانکاری نہیں دی جارہی ہے‘‘۔مہک نے بتایا’’ 14مارچ کو ہم دلی پہنچے جہاں سے ہمیں جیسلمیر منتقل کیا گیا لیکن منتقلی کے دوران طلبہ و زائرین کو ایک ساتھ رکھا گیا ‘‘۔مہک زہرا نے بتایا ’’ لازمی سہولیات کی عدم دستیابی اور گرمی کی وجہ سے ہم مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں کیونکہ نہ تو موسم اور نہ ہی خوراک ہماری عادتوں سے میل کھاتی ہے‘‘۔ آرمی ولینس سینٹر میں قرنطینہ پر رکھے گئے ایک زائرنے بتایا ’’ جیسلمیر پہنچنے پر 3کشمیری زائرین کی رپورٹ مثبت آئی تھی جس کے بعد زائرین کو 14دنوں کے قرنطینہ کیلئے بھیج دیا گیا ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ جمعہ کو مزید 2کشمیری زائرین کی رپورٹ مثبت آئی جس کے بعد انہیں آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ جودھ پورہ منتقل کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ایران سے لوٹنے وقت تمام زائرین کو ایک ماہ کی دوائی فراہم کی گئی تھی لیکن وہ دوائی بھی اب ختم ہوگئی ہے اور نئی دوائی بھی نہیں دی جارہی ہے‘‘۔مذکورہ زائر نے بتایا ’’ اسپتال میں بنیادی ڈھانچے کے علاوہ کچھ بھی بہتر نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ بیشتر زائرین اور طلبہ کے والدین کی عمر 60سے 70سال ہے جو گرمی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کے شکار ہورہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ ان زائرین میں کچھ پہلے سے ہی شوگر، گردوں اور بلڈپریشر کے علاوہ دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے جنکی حالت کافی خراب ہو رہی ہے۔ جیسلمیر میں قرنطینہ میں رکھے گئے طلبہ و طالبات کے والدین کے علاوہ زائرین کے لواحقین نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ راجستھان میں قرنطینہ مکمل کرنے والے0 14کی واپسی کا انتظام کرکے انہیں مزید کوفت سے بچائیں۔    جیسلمیر سے ایک اور طالب علم حسیب بزاز نے کشمیر عظمی کو بتایا’’ جیسلمیر میں فوجی ڈاکٹروں نے ہمیں گھر جانے کی اجازت دے دی ہے لیکن لاک ڈائون کی وجہ سے ہم کشمیر خود نہیں آسکتے‘‘ ۔حسیب بزاز نے بتایا ’’ ملک میں لاک ڈائون کی وجہ سے ہمارے قرنطینہ میں مزید 14دنوں کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں 8دن گزر چکے ہیں لیکن لاک ڈائون کی وجہ سے فوج ہمیں کشمیر پہنچانے کو تیار نہیں ہے‘‘۔