ذہنی تنائو امراض کی سروے رپورٹ

سرینگر// انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیر و سائنسز کاٹھی دروازہ کی طرف سے کشمیر میں ذہنی امراض پر کی گئی سروے میں اس بات کا انکشاف کیا گیاہے کہ وادی کی کل آبادی میں 11.3فیصد لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں جو پورے بھارت میں پائی جانے والی 7.3فیصد شرح سے کافی زیادہ ہے۔سروے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی زیادہ تعداد ذہنی امراض میں مبتلا ہے۔ سروے کے مطابق وادی کی کل آبادی میں 12.9فیصد خواتین اور 8.4فیصد مرد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ کشمیر میں سائنسی بنیادوں پر ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانے کیلئے کشمیر کے سب سے بڑے ذہنی امراض کے ادارے میں انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اور نیرو سرجری کاٹھی دروازہ میں  2016کے دوران ڈاکٹر ارشد حسین کی قیادت میں 4ہزار مریضوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ کشمیر میںمردوں کے مقابلے میںخواتین کی زیادہ تعداد ذہنی امراض میں مبتلا ہے۔ سروے کے مطابق بھارت کی کل آبادی میں صرف 7.3فیصد لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں تاہم صرف کشمیر میں یہ شرح سب سے زیادہ 11.3فیصد ہے جن میں مردوں کی شرح 8.4فیصد اور خواتین کی شرح11.3فیصد ہے ۔ذہنی امراض کے معروف معالجین ڈاکٹر ارشد حسین ، ڈاکٹر محمد مقبول ڈار، پروفیسر قیصر احمد ، پروفیسر رفیق احمد پانپوری ، ڈاکٹر زید احمد ، ڈاکٹر یاسر حسن راتھر پر مشتمل ٹیم کی طرف سے کی گئی سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ غربت میں زندگی بسر کرنے والے لوگ ، خواتین اور بچے بھی مختلف ذہنی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔  سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان پڑھ اور کم پڑھے لکھے نوجوان بھی مختلف ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان پڑھ لوگوں میں 12.7فیصدجبکہ ہائی سکول تک پڑھائی کرنے والے لوگوں میں 12.8فیصد لوگ مختلف ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن کے پاس کوئی ملکیتی زمیں نہیں ہے انکی شروع 13فیصد ہے جبکہ 1سے 8کنال تک زمین رکھنے والے لوگوں میں 11.5فیصد لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ نامساعد حالات سے متاثر ، طلاق شدہ اوربیوہ خواتین میں سب سے زیادہ 14.7 شرح  ہے۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے  اے وائی (AYY)  ، بی پی ایل زمرے کے تحت چاول حاصل کرنے والوں میں 10.8فیصد اور آئی پی ایل زمرے کے تحت چاول حاصل کرنے والوں میں 10.2فیصد لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی کے ایک لاکھ افراد میں سے 1.8فیصد لوگ خودسوزی کی خواہش رکھتے ہیں یعنی ہر ایک لاکھ کی آبادی میں 1775افراد خودکشی کی خواہش رکھتے ہیں۔