ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

ایک سروے رپورٹ کے مطابق آج ہندوستان میں 14 ملین بچہ مزدور ہیں جو سماج کے ماتھے پر کلنک ہیں۔ ہندوسان نظام معیشت ایسا ہے جہاں ایک طرف رئیسوں کا ایک بڑا طبقہ ہے تو دوسری جانب بیشتر لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آج ہندوستان میں غریبی، ناخواندگی، بچہ مزدوری، دہشت گردی اور بدعنوانی کا راج ہے۔ایسے بے شمار علاقے ہیںجہاں، 12 سال کے کم عمر بچے زر دوزی، کاغذ کے ڈبے، جوتے چپل بنانے والے کارخانوں، ہوٹلوں میں کم اجرت اور کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ کام ٹھیک ڈھنگ سے نہ کرنے پر مالکان کی طرف سے مار پڑتی ہے۔ 6 سے 7سال کے بچے بس اور ٹرام میں چاکلیٹ اور ٹافی فروخت کرتے نظرآتے ہیں۔ ان معصوم نونہالوں میں اور ان کے والدین میں تعلیم کے تحت شعوری بیداری نہیں ہے۔ لہٰذا ان بچوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ بچوں کا ایک گروپ وہ ہے جن کے سر سے بد قسمتی سے والدین کا سایہ عالم طفلی میں اٹھ جاتا ہے۔ وہ امیر رشتے داروں کے گھروں میں پرورش پاتے ہیں۔ بیشتر خاندانوں میں ایسے بچوں کے ساتھ بہت ساری بندشیں ہوتی ہیں۔ ایسی حالت میں ان کی خفیہ صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ ان کی پرورش و پرداخت کا اثر ان کی زندگی پر گہرا نقش چھوڑجاتا ہے۔ ان کی صلاحیتیں ان کے ہم عمر بچوں کے مقابلے کم ہوتی ہیں۔ ان کی شخصیتیں پنپنے سے پہلے ہی مرجھا جاتی ہیں اور ان کا اثر تاحیات ان کی زندگی پر چھایا رہتا ہے۔ہندوستان جس کا شمار عظیم جمہوری ملک کی حیثیت سے ہوتا ہے، وہاں ان معصوموں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی معصوم ہیں جنہیں وطن کی خاک سے بے حد لگاؤ ہے۔ حب الوطنی کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ جب بین الاقوامی کرکٹ میچ ہوتا ہے تو یہ بچے دیوانہ وار ہندوستانی ٹیم کی حمایت کرتے ہیں جب کہ صلے میں انہیں کچھ بھی نہیں ملتا۔ ان بچوں میں تعلیم کے تئیں شعوری بیداری نہیں آئی ہے۔ نسل در نسل ان کا یہی حال ہے۔ بڑے بڑے سیاستداں اپنی شعلہ بار تقریر میں یہی کہتے ہیں کہ ہمارے بچے قوم کا سرمایہ ہیں۔ ہندوستانی بچے قوم کے معمار ہیں لیکن یہی نونہالان ہند جو قوم کا مستقبل ہیں جو بچہ مزدور ہیں ان کے روشن مستقبل کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کیا گیا؟ کیا ان معصوموں کی ترقی کے لیے کوئی منصوبہ بندی ہوئی؟ کیا کسی ایسے پروجیکٹ پر عمل درآمد ہو سکا جو ان بچوں کے تابناک مستقبل کا ضامن ہو۔ ہندوستان میں اگر بچہ مزدوروں کو تعلیم اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں تو ہندوستان معاشری طور پر مستحکم اور منظم ہو سکے گا۔ اسی ہندوستان کے لیے حکیم الامت شاعر مشرق ڈاکٹر سر علامہ اقبال نے کہا تھا:
اس خاک دل نشیں سے چشمے ہوئے وہ جاری
چین و عرب میں جن سے ہوئی تھی آبیاری
سارے جہاں میں جب تھا وحشت کا ابر طاری
چشم و چراغ عالم تھی سر زمین ہماری
ہندوستان کا شمار آبادی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ اتنی کثیر آبادی والے ملک میں کوئی بچہ نا خواندہ رہے۔ علم و حکمت کا ایسا چشمہ پھوٹے جو نونہالان ملت کو پوری طرح سیراب کر سکے جو قوم کا بڑا سرمایہ ہیں۔اور یہی مستقبل میں ایک منظم طاقت بن کر ابھریں گے۔ ان نونہالان کواعلی زبان اور تہذیب کے ساتھ ہی ذریعہ معاش سے جڑنا ہے۔ اس ضمن میں ’اسکول چلو ابھیان‘، ’سب کے لیے تعلیم، سب کے لیے ترقی‘ اور نہ جانے کتنے نعرے لگائے گئے لیکن خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ اس ضمن میں کچھ NGOs کام کر رہے ہیں جو جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں کو مفت تعلیم اور خوراک کا انتظام کرتے ہیں۔ ان کے نمائندے بیرون ممالک سے آکر یہاں کام کر رہے ہیں لیکن پس پردہ ان کا مقصد عیسائیت کا پرچار اور تبلیغ ہے۔ یہ امر ملت اسلامیہ کے لیے باعث تشویش ہے اور اس ضمن میں مسلمانوں کی پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے۔ الحمد اللہ ہمارے معاشرے میں اہل خیر حضرات کی بھی ایک خاصی تعداد ہے۔ ان کے مالی تعاون سے اطفال بازیابی مراکزقائم کیے جاسکتے ہیں، جہاں جدید تعلیم اور دینی تہذیب کے ساتھ ذریعہ معاش کی بھی گنجائش ہو۔ اگر ہم عہد کریں کہ بچہ مزدوری ختم کریں اور بچوں میں تعلیم اور Technology عام کریں تو مستقبل میں ہندوستان ایک منظم طاقت بن کر ابھرے گا۔ بقول ڈاکٹر علامہ اقبال :
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
Cell, Whatsapp: 9088470916
������