ذات پات پر مبنی ریزرویشن کو ختم کرنے کی درخواست مسترد

نئی دہلی//یو این آئی// سپریم کورٹ نے تعلیم میں ذات پات پر مبنی ریزرویشن سسٹم کو ختم کرنے کی درخواست کی سماعت سے انکار کردیا۔جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اور جسٹس ایس رویندر بھٹ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈاکٹر سبھاش وجیئرن کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ وہ اس درخواست کی سماعت کے حق میں نہیں ہیں۔اس کے بعد درخواست گزار نے عدالت سے درخواست واپس لینے کے لئے اجازت طلب کی، جسے انہوں نے قبول کرلیا۔درخواست گزار کا مطالبہ تھا کہ ذات پات کی بنیاد پر ریزرویشن کو ختم کرنے کے لئے وقت کی حد مقرر کرنے کی ہدایت دی جائے ۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ریزرویشن کے تحت ہونہار امیدوار کی نشست نسبتا کم ہونہار امیدوار کو دی جاتی ہے جس سے قوم کی ترقی متاثر ہوتی ہے ۔ ادھرسپریم کورٹ نے پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش کے کوئلہ پر مبنی بجلی پلانٹس کو بند کروانے کی ہدایت مرکزی حکومت کو دینے سے متعلق عرضی کو مزاح قرار دیتے ہوئے جمعہ کے روز خارج کر دیا۔ جسٹس نوین سنہا اور جسٹس آر سبھاش ریڈی کی بینچ نے دہلی حکومت کو سخت جھٹکا دیتے ہوئے کہا،‘یہ کافی مزاحیہ عرضی ہے ۔ ہم اس پر شنوائی نہیں کریں گے ’۔کیجریوال حکومت نے ہمسایہ ریاستوں اترپردیش، ہریانہ اور پنجاب کے کوئلہ پر مبنی 10 بجلی پلانٹس کو بند کرنے اور ان میں ‘فیول گیس ڈِسلفرائیزیشن(ایف جی ڈی) ڈیوائس’ لگانے کی مرکزی حکومت کو ہدایت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔