دیہی ترقی بلاک تھنہ منڈی میں بھاری مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، منظورنظرافرادکے حق میں کروڑو ں روپے کی اتھارٹیاں جاری کی گئیں

راجوری//دیہی ترقی کاانحصار محکمہ دیہی ترقی کے تعمیراتی کاموں کی عمل آوری پرمنحصر ہے اورسرکاری قواعدوضوابط کے تحت تشکیل دیئے جانے والے منصوبوں کی عمل آوری علاقہ کی تعمیروترقی یقینی بناتی ہے لیکن اگرقواعدوضوابط کی خلاف ورزی کرکے تعمیراتی کام انجام دیئے جائیں تواس سے نہ صرف علاقہ میں مستحق افرادنظراندازہوتے ہیں بلکہ سرکاری خزانے کی بھی لوٹ کھسوٹ ہوتی ہے۔تھنہ منڈی بلاک میں منظورنظرافرادکے حق میں محکمہ دیہی ترقی کے قواعدکوبالائے طاق رکھ کرکروڑوں روپے کی اتھارٹیاں جاری کرنے کاسکینڈل اُس وقت طشت ازبام ہواجب حال ہی میں تعینات ہوئے بی ڈی اونے سابق بی ڈی اوکی طرف سے کی گئی اتھارٹیوں کوغیرقانونی قراردیتے ہوئے لوگوں سے کہاکہ ان کی منسوخی کیلئے اے سی ڈی راجوری کوتحریری طورپرلکھاجائے گا۔معاملہ سامنے آنے پر تھنہ منڈی کے لوگوں نے الزام عائد کیاہے کہ محکمہ دیہی ترقی کے سابق بلاک ڈیولپمنٹ افسرتھنہ منڈی نے قواعدوضوابط کوبالائے طاق رکھ کرمنظورنظرافرادکوترقیاتی کاموں کی اتھارٹیاں دی ہیں جس سے غریب اورمستحق لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ۔ذرائع کے مطابق بلاک تھنہ منڈی میں گذشتہ کچھ عرصہ میں سابق بی ڈی اوکی طرف سے کروائے گئے کاموں کوقواعدوضوابط کوبالائے طاق رکھنے کاانکشاف اُس وقت ہواجب مارچ ماہ کے پہلے ہی ہفتہ میں تعینات ہوئے نئے بی ڈی اوتھنہ منڈی نے کہاکہ گزشتہ کچھ عرصہ میں جن ترقیاتی کاموں کی اتھارٹیاں (Approvals)دیئے گئے ہیں وہ قواعدکے مطابق نہیں ہیں ۔یہ معاملہ سامنے آنے پر تھنہ منڈی کے لوگوں نے کہاہے کہ سابق بی ڈی اونے اثرورسوخ رکھنے والے چندافرادکے حق میںچار۔پانچ کروڑکی اتھارٹیاں کی ہیں اور عام لوگوں کونظراندازکیاہے ۔لوگوں کاکہناہے کہ نئے بی ڈی اونے بھی یہ اعتراف کیاہے کہ ان سے پہلے جواتھارٹیاں دی گئی ہیں ان میں محکمہ پنچایت راج کے تمام قواعدوضوابط کونظرانداز کیاگیاہے اورپنچایت ڈیولپمنٹ پلان کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔لوگوں نے مانگ کی ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیئے کہ عام لوگوں کونظراندازکرکے کس طرح اثرورسوخ رکھنے والے افرادکے حق میں اتھارٹیاں دی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ منظورنظرافرادکوفوائدپہنچانے کیلئے محکمہ دیہی ترقی کے قواعدکونظراندازکرناافسوسناک ہے اورغریب اوربھولی بھالی عوام کے ساتھ کھلواڑہے جسے برداشت نہیں کیاجائے گا۔اس ضمن میں بلاک ڈیولپمنٹ افسر تھنہ منڈی مظاہر حسین شاہ نے بتا یا کہ انہیں بلاک تھنہ منڈی میں بطور بی ڈی او چارج سنبھالے ہوئے ایک ہی ہفتہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاک تھنہ منڈی میں 4-5 کروڑ روپے کی اتھارٹیا ں کی گئی ہیں جو محکمہ پنچائت کے قوانین کی خلاف ورزی کرکے دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاک تھنہ منڈی کے کچھ سرپنچ بھی ملوث ہیں جن کے دبائو کی وجہ سے سابق بلاک ڈیولپمنٹ افسر نے اتھارٹیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ہوا ہے غلط ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جو سالانہ پلان گرام سبھا میں تیار ہوئے ہیں،انکو لاگو کیاجائے گا ۔انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے جو غیر قانونی اتھارٹیاں کی گئی ہیں انکی منسوخی کیلئے اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ راجوری کو تحریری خط لکھا جائے گا۔