دیگوار پونچھ کی حدمتارکہ پر کرائسٹ سکول کی تُک کیا؟ ، گولہ باری تدریسی سرگرمیوں پر بھاری

پونچھ// حدمتارکہ کے دوتین کلومیٹرکی دوری پرواقع دیگوارگائوں میں محکمہ تعلیم نے چھ سال پہلے کرائسٹ اسکول قائم کرنے کی اجازت دے دی تھی جوآج سرحدی گولہ باری کے دوران عوام کیلئے باعث پریشانی اوربچوں کے تعلیمی نقصان اورجان ومال کیلئے خطرے کاباعث ثابت ہورہی ہے اوریہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ متعلقہ محکمہ نے کس بنیادپرحدمتارکہ سے عین دوتین کلومیٹرکی دوری سکول قائم کرنے کی اجازت دی؟۔حدِ متارکہ پر آباد گائوں دیگوار میں2014میںقائم کرائسٹ اسکول میںپونچھ قصبہ ودیگرعلاقوں کے زیرتعلیم طلباکے والدین آئے روزسرحدی کشیدگی کی وجہ سے ان کے تحفظ اورتعلیم متاثرہونے کی وجہ سے فکرمندہیں۔ذرائع کے مطابق جہاں پرکرائسٹ اسکول واقع ہے اس کے گردونواح میں اکثرگولہ باری ہوتی رہتی ہے اورسکول گولہ باری کی زدمیں آنے کاہروقت خطرہ لاحق رہتاہے جس کی وجہ سے والدین نفسیاتی طورپرپریشان ہیں ۔بتایاجاتاہے کہ سکول میں زیرطلباء کے والدین کوہمیشہ ڈرستاتارہتاہے کہ ایک طرف سرحدی گولہ باری سے جہاں طلبہ کی تعلیم متاثرہوتی ہے وہیں ان کی جانوں کوخطرہ رہتاہے۔جب بھی علاقہ میں گولہ باری کے تبادلہ کاسلسلہ شرع ہوتاہے سکول ہذامیں زیرتعلیم بچوں کی زندگی پر بھی خطرے کے بادل منڈلاناشروع ہوجاتے ہیں۔اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے نوین کھجوریہ نامی ایک شخص نے کہا کہ نہ جانے کرائسٹ اسکول کو دیگوار میں قائم کرنے کی اجازت کیا سوچ کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ دیگوار میں کرائسٹ اسکول پونچھ کی انتظامیہ کی جانب سے ہی نیا اسکول قائم کیا گیا ہے جہاں پونچھ قصبہ کے معصوم طالب علموں نے داخلہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگوار جیسے حساس علاقہ میں کرائسٹ اسکول کی عمارت صرف اسی علاقہ کے طلبہ کے لئے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ انتظامیہ نے  ہزاروں معصوم بچوںکی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوپر سے اس اسکول میں بچوں کی حفاظت کے لئے کئی سال گذرنے کے بعد بھی بینکر نہیں بنائے گئے ہیں تاکہ گولہ باری کے دوران بچوں کو وہاں منتقل کیا جاسکے۔انہوں نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی کہ وہ کرائسٹ اسکول کی انتظامیہ پر دبائو بنائیں کہ وہ اسکول کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کریں ۔سردار مہندر سنگھ نے اس سلسلہ میںبات کرتے ہوئے کہا کہ کرائسٹ اسکول کویہاں کے لوگ اپنے بچوں کے لئے سب سے بہتر ادارہ سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ بچوں کو دیگوار جیسے سرحدی علاقہ میں بھی بھیجنے کو تیار ہوجاتے ہیںلیکن کرائسٹ اسکول انتظامیہ کوان لوگوں کی مجبوری کاناجائزہ فائدہ نہیں اٹھانا چاہیئے بلکہ انھیں پونچھ قصبہ میں ہی کسی محفوط مقام پر اس اسکول کو منتقل کرنا چاہیئے۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ وہ کرائسٹ اسکول انتظامیہ پر دبائو بنائیں کہ وہ بچوں کا تعلیمی نقصان نہ ہونے دیں اور ان کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے اسکول وہاں سے منتقل کریں۔ اس حوالے سے جب کرائسٹ اسکول کے فوادر میتھیو سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ اسکول میں بچوں کی سہولت کے لئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اسکول سرحدی علاقہ دیگوار کے بچوں کے لئے بنایاگیا ہے جس میں پونچھ قصبہ کے بچوں  نے بھی داخلہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے بچوں کی حفاظت کے لئے بینکرس بھی بنائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں سی ای اوپونچھ مشتاق احمدکاکہناہے کہ چھ سال پہلے دیگوارمیں کرائسٹ سکول قائم کرنے کیلئے محکمہ تعلیم اوردیگرمتعلقہ محکمہ جات نے اجازت دی ہے ۔انہوں نے کہاکہ معلوم نہیں کہ کس طرح اجازت دی گئی ہے ۔