دیوی گوڈاکے خیالات سے اتفاق

 سرینگر//سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہاہے کہ ہندوستان کے سابق وزیر اعظم دیوی گوڈا نے ٹمکور (کرناٹک ) میں ریاست جموںوکشمیر میں اٹانومی کی بحالی کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہے۔ پروفیسر سوز کے مطابق چونکہ وہ اُن کی کابینہ میں وزیر تھے ، اسلئے انہیں اس بات کا ذاتی طور علم ہے کہ دیوی گوڈا اپنی ذاتی حیثیت میں جموںو کشمیر کے حق میں اٹانومی کی بحالی کی حمایت کرتے تھے۔انہوں نے کہاکہ مجھے اس بات کا علم ہے کہ ملک کے کئی معاملات پر سابق وزیر اعظم دیوی گوڈا کی نظر بالکل صاف تھی اور ان معاملات میں کشمیر کا مسئلہ بھی تھا۔ دیوی گوڈا جی کا خیال تھا کہ کشمیر کے لوگ جذباتی طور ہندوستان کے دوسرے حصوں کے ساتھ تب تک وابستہ نہیں ہو سکتے ہیں جب تک کشمیر کی داخلی خود مختاری بحال نہیں ہو جاتی۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جس صورتحال میں دیوی گوڈا وزیر اعظم تھے اُس وقت ملک کا سیاسی نظام مستحکم نہیں تھا اور اُن حالات میں دیوی گوڈا اپنے خیالات کے متعلق کشمیر کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے تھے۔ دیوی گوڈا کا خیال تھا کہ داخلی خود مختاری کی بحالی ہندوستان کے آئین کے دائرے میں ہوتی تو ملک کےلئے اُس میں کوئی نقصان نہیں تھا۔ دیوی گوڈا جی نے موجودہ مرکزی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات کریں اور کشمیر کا جھگڑا طے کریں۔ میں اِن خیالات کا دلی مسرت کے ساتھ خیر مقدم کرتا ہوں۔“