دیول کانگتی لکڑی پل موت کا کنواں ثابت

 کئی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں، پختہ پل تعمیر نہ کیاگیا

 
مہور//سب ڈیویژن مہور میں ڈونگا نالے پر مقامی عوام کی طرف سے خود ہی عبور و مرور کیلئے بنایاگیا لکڑی کا پل موت کا کنواں ثابت ہواہے جہاں سے گر کر اب تک کئی لوگ مارے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود حکام کی طرف سے اس مقام پرپختہ پل کی تعمیر نہیں کی جارہی ۔  دیول کانگتی کے مقام پر لوگوںنے خود ہی لکڑی کا پل لگارکھاہے جو اکثر موسم برسات میں ٹو ٹ جاتاہے جس کے بعد پھر سے لوگ نیا پل بناتے ہیں اور اسی کے ذریعہ اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر آر پار کاسفر کرتے ہیں ۔اس پل کے نیچے سے ایک خطرناک نالہ گزرتاہے جس نے اب تک کئی انسانوں کی جانیں لے لی ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیدورہ،وندارہ،پایل ناڑ اور کانگتی کے لوگ اسی عارضی پل سے گزر تے ہیںاور ان کیلئے کوئی متبادل نہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق اب تک پھسل کر کئی لوگ اس عارضی پل سے نیچے نالے میں گر کر لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔گزشتہ برس اسی مقام سے 28سالہ نوجوان بہار دین اور12سالہ عرفان حسین ایک ساتھ پل سے نیچے گر کر غرقآب ہوگئے اور ان کی نعشیں دو دنوں کے بعد ملی تھیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برسات کے موسم میں اس نالے میں زبردست طغیانی رہتی ہے اور اس وقت اسے عبور کرنا اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگرچہ اس مقام پر پل تعمیر کرنے کیلئے معاملہ بارہا حکام کے نوٹس میں بھی لایاگیاتاہم ابھی تک پختہ پل تعمیر کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔دیول کے سرپنچ قمردین نے بتایا کہ موسم برسات آنے والاہے اور انہیں خدشہ ہے کہ پھر سے کوئی حادثہ رونما نہ ہوجائے ۔ انہوںنے کہاکہ نالہ کو عبور کرتے وقت لوگوںکو اپنی جان خطرے میں ڈالناپڑتی ہے اور یہ افسوسناک بات ہے کہ اس جدید دور میں انہیں پل کی سہولت تک میسر نہیں ۔ انہوںنے مانگ کی کہ دیول کانگتی میں پختہ پل تعمیر کیا جائے۔