دیور لولاب کے منظور احمد کی حراستی گمشدگی کا معاملہ

 سرینگر//فوج کی حراست میں لاپتہ ہوئے خاوند کا عمر بھر انتظار کرکے وعدہ نبھانے کا اعادہ کرتے ہوئے کپوارہ کے دیور لولاب کی12ویں جماعت میں زیر تعلیم مہر النسا کا ماننا ہے کہ 6ماہ قبل زیر حراست لاپتہ ہوااس کا منگیتر ضرور واپس آئے گا۔بشری حقوق کے ریاستی کمیشن سے حصول انصاف کی منتظر مہر النسا کی معصوم آنکھوں میں سجے خواب قبل از وقت ہی بکھر گئے ہیں۔ خاموش طبیعت،مرجھائی آنکھیں، سوکھے لب اورٹوٹے خوابوں کو لیکر مہر النساء اپنے تقدیر کو کوستے ہوئے شائد اندر ہی اندر یہ سوچ رہی تھی کہ میرے ساتھ ہی یہ کیوں ہوا۔کپوارہ کے دیور لالوب میں6ماہ قبل مبینہ طور پر فوجی حراست میں لاپتہ ہوئے نوجوان منظور احمد خان کی شادی لاپتہ ہونے سے قبل کئی ماہ مہر النساء سے طے ہوئی تھی،اور نومبر 2017میں انکی شادی ہونے والی تھی۔18برس کی عمر میں مہر النساء شائد اس طرح کا غم برداشت نہیں کر پا رہی ہے،اس لئے اس کی آنکھیں اس قدر مرجھائی ہوئی ہیں،شائد کسی درمیانہ عمر کی خاتون کی آنکھیں ہوں۔بات کرتے کرتے مہرالنساء آبدیدہ ہوجاتی ہے،اور اپنی روئیداد بیان کرتے ہوئے اس کے لب بھی تھرتھراتے ہیں۔مہرالنسا ء کا کہنا ہے 31 اگست 2017 کومنظوراپنے چاچا اور ہمشیرہ پروینہ کے ہمراہ تری مکھ بہک گئے،جہاں وہ موسم گرما میں رہتے آئے ہیں۔ اس کے نزدیک27آر آر کا کیمپ بھی قائم ہے اور انہوں نے داخلی گیٹ پر اس علاقے میں آنے والے لوگوں کیلئے ناموں کا اندراج اور اخراج کرنا لازمی بنادیا ہے۔انہوں نے کہا کہ منظور احمد فوجی چوکی پر سنتری کے پاس تینوں لوگوں کے نام کا اندراج کرنے کیلئے گیا،جبکہ وہ اور اس کی ہمشیرہ کیمپ کے باہر اس کا انتظار کرتے رہے،تاہم کافی دیر تک وہ باہر نہیں آیا،بلکہ انہیں میجر نشانت نے اس کے برعکس کیمپ کے اندر لیا۔انہوں نے کہا کہ جب منظور کے چاچانے سنتری سے منظور احمد کے بارے میں پوچھ تاچھ کی،تو وہ کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے سکا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران نصراللہ نامی ایک اور نوجوان کے رشتہ دار بھی آئے،جس کوبھی اسی کیمپ میں بند رکھا گیا تھا،اور وہ انکے بارے میں پوچھ تاچھ کرنے لگے،تاہم جب انہیں کوئی معقول جواب نہیں ملا،تو انہوں نے کچھ دیر انتظار کر کے شور مچانا شروع کیا،جبکہ فوجی اہلکاروں نے نصراللہ کو نیم مردہ حالت میں کیمپ کے عقب سے باہر پھینک دیا۔ان کہنا تھا کہ منظور احمد کو کیمپ میں بند رکھا گیا،اوراس سلسلے میں پولیس میں شکایت بھی درج کی گئی تاہم ہنوز  منظور کا کوئی بھی پتہ نہیں چلا ہے۔مہرالنساء نے بتایا کہ اس نے اس بات کا فیصلہ لیا ہے کہ جب تک منظور واپس نہیں آتا،وہ شادی نہیں کریں گی۔اس نے کہا کہ منظور نے انہیں بتایا تھا ، میرا انتظار کرنا، اس لئے میں اس کا انتظار کرئوں گی۔اس نے کہا’’جب منظور بہک پر چلا گیا تھا،تو اس نے کہا تھا کہ میں جلد واپس آئوں گا،میرا انتظار کرنا،مگر وہ آج تک واپس نہیں آیا،اور میں اس کا انتظار کر رہی ہوں۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر62/2017درج کیا ہے۔پولیس کی طرف سے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش کئے گئے رپورٹ میں کہا گیا ہے ’’ ایڈیشنل سپر انٹنڈنٹ آف پولیس کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی،جنہوں نے جائے واقع کا دورہ کیااور گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کرائے‘‘۔رپورٹ میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم نے باریک بینی سے اس علاقے میں منظور احمد کی تلاش کی،تاہم ابھی تک اس کا کوئی بھی سراغ حاصل نہیں ہوا ہے۔پولیس رپورٹ کے مطابق مذکورہ میجر سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی،تاہم انہوں نے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔رپورٹ کے مطابق تاہم فوج کی مذکورہ یونٹ نے اب تک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ترمکھ فوجی کیمپ کے گیٹ نمبر ایک کی اندراج سے متعلق داخلی اور اخراجی رجسٹر،جو ان سے طلب کی گئی تھی،پیش نہیں کی ہے۔