دیوبند میں کشمیری طالب علم کی گرفتاری

سرینگر// دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم طالب علم کی گرفتاری پر اتر پریش پولیس کے بیان کو بے بنیاد اور حقیقت سے بعید قرار دیتے ہوئے  یاری پورہ کولگام کے لوگوں نے پریس کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے نواز احمد تیلی کو بے قصور اور معصوم قرار دیا۔پولیس نے اتر پردیشن میں21اور22 فروری کی درمیانی شب کو جنوبی ضلع کولگام کے نون مئی یاری پورہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کو حراست میں لیا،جبکہ یو پی کے پولیس سربراہ ائو پی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے2کشمیری نوجوانوں نواز احمد اور عاقب ملک کو گرفتار کیا اور ان سے ہتھیار ضبط کیا گیا۔ نواز احمد تیلی کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے سنیچر کو پریس کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نواز معصوم ہے اور جموں کشمیر میں کسی بھی سیکورٹی ایجنسی اور پولیس ریکارڈ میں نواز احمد کا نام نہیں ہے۔ نواز کے بھائی وقار احمد نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز نے دارالعلوم دیو بند میں سال2016-17میں داخلہ لیا،اور گزشتہ2برسوں کے دوران وہ دیو بند ہی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔وقار نے بتایا کہ انکے بھائی نے2010 میں گریجویشن مکمل کی،جس کے بعد انہوں نے دارالعلوم سوپور میں داخلہ لیا،اور اس کے بعد دارالعلوم دیو بند میں داخلہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ جب نواز کی گرفتاری کی خبر ان کے والد غلام حسن تیلی،جو کہ پیشہ سے نجار ہے،پر غشی طاری ہوئی۔انہوں نے کہا’’آپ کشمیر کے کسی بھی پولیس تھانے یا سیکورٹی ایجنسی میں ریکارڈ کی جانچ کریں،نواز کے خلاف کوئی بھی منفی ریکارڈ نہیں ملے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انکا بھائی ایک دیندار نوجوان ہے اور اپنے خطبات میں بھی وہ سماجی بدعات اور مسائل کو اجاگر کرتا تھا۔احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے کولگام پولیس سے بھی رابطہ قائم کیااور نواز سے متعلق تمام تفصیلات فرہم کیںجبکہ دارالعلوم دیو بند سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس دوران نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق نواز احمد تیلی کے رشتہ دار اور اہل خانہ سنیچر کو ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام کے دفتر کے صحن میں جمع ہوئے اور نواز تیلی کو رہا کرنے کے حق میں نعرہ بازی کی۔