دینی مدارس صحت مند سماج کیلئے کارآمد:مولانا رحمت اللہ قاسمی

سرینگر//بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بپن روات کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے مدارس اسلامیہ کے حوالے سے منفی تاثرات کا اظہار کیا تھا کے رد عمل میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ جموں وکشمیر کے زعماء نے کہاہے کہ اگر فوجی سربراہ ایسے مدارس کی نشاندہی کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے صدر مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی اور دیگر ذمہ داران نے اخبارات میں شائع شدہ بھارتی آرمی چیف کے بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ ریاست میں قائم دینی مدارس کی تعداد بہت قلیل ہے جن میں سے مکمل تعلیم (فاضل تک)چند ہی مدارس میں ہوتی ہے اس لئے ایک سو سے بھی کم فارغین ان مدارس سے سالانہ تیار ہوتے ہیں جبکہ قوم کو ایسے ہزاروں افراد کی حاجت رہتی ہے جو مدارس اور مساجد میں خدمت انجام دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ طبقہ نہ ہی کبھی بے روز گار رہتا ہے نہ ہی حکومتی اداروں پر اپنا بوجھ ڈالتا ہے جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میںفارغ ہوتے ہیں اور وہ اپنی ملازمت اور روز گار کے سلسلے میں حکومت کے محتاج ہوتے ہیں اور حکومت اتنی بڑی تعداد کو روز گار فراہم نہیں کر پاتی اسی وجہ سے ایک سابق وزیر کے اخبارات میں شائع شدہ بیان کے مطابق کشمیر میں ہی ایسے بے روز گاروں کی تعداد کئی لاکھ ہے۔دینی مدارس میں چوبیس گھنٹے تعلیم اور تربیت کے نظام کا پابند ہونے کی بناء پر ان مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ نہایت مہذب، سنجیدہ ،نظم و نسق اور ڈسپلن کے پابند ، امت کے لئے فکر مند ،اور لوگوں کی خدمت کو اپنا مشن سمجھ کر ،ذاتی مفادات اور عزت وآرام کو قربان کرکے قوم کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اس طرح سے وہ عالم انسانیت کے لئے نہایت کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ حکومتی اداروں اورسکولوں میں (جن کی تعداد ہزاروں میں ہے )نظام تربیت کی کمی کی بنا پر امت کی نونہال پود کی تربیت میںکمی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ ظاہری تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اخلاقیات اور خدمت کا وہ جذبہ نہیں حاصل کرپاتے ہیں جس کی ایک اچھے معاشرہ کو وجود میں آنے کیلئے ضرورت ہوتی ہے۔ دینی مدارس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، خوف خدا اور آخرت کا تصور دئے جانے کی بنا پر ان مدارس سے فارغ ہونے والوں میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے جس کی تصدیق سرکار کے مختلف اداروں میں موجود اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد ہوسکتی ہے۔  رابطہ مدارس کے ذمہ داران یہ پوچھنا چاہتے ہے کہ آرمی چیف نے جن مدارس کا ذکر کیا ہے ان سے کون کون سے مدارس مراد ہیں؟ اگر موصوف نشاندہی فرمائیں تو مہربانی ہوگی۔ کیونکہ ہمارے دینی مدارس کا ریکارڈ روز روشن کی طرح واضح اور صاف ہے۔