دیسہ کپرن سڑک سروے کی تبدیلی پر احتجاج

        
 ڈوڈہ//ڈوڈہ دیسہ۔ کپرن روڈ جو کہ خطہ چناب کے ڈوڈہ و دیگر مقامات کو وادی کشمیر کے ساتھ جوڑنے کا واحد اور نزدیک ترین راستہ ہے اس کے سروے کی تبدیلی کے خلاف گئی، ’گھئی‘بربھاٹہ اور دیسہ کے لوگوں نے احتجاج بلند کیا اور ڈوڈہ میں ضلع ترقیاتی کمشنر سے اس تعلق میں ملاقی ہوئے۔ان کا مطالبہ ہے کہ ڈوڈہ دیسہ۔کپرن روڈ جو کہ گذشتہ 47برس سے ڈوڈہ گئی و بھاٹہ سے ہوتے ہوئے سراری ہال سے کپرن ویری نا گ سے جاتی ہے اسکے سروے میں سیا سی اثر و رسوخ سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔جو کہ گئی۔ بھاٹہ دیگر کثیر آبادی کو نا منظور ہے۔اسلئے یہ اگر اس سروے میں تبدیلی لائی گئی تو چند علاقہ جات جن کی خاص اچھی آبادی ہے کو نئے سروے سے کچھ بھی استفارہ حاصل نہیں ہے۔بتایا جاتا ہے کہ گئی،بھاٹہ،ملان،زرنند،سارس،کرالان،موٹھلا نگری،گامری،ساریلہ،دھومری کی تقریباً12ہزار کی آبادی کو نئی سروے کے مطابق نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اسکو چھوٹے چھوٹے گائوں سے25کلومیٹر دور لے کر صرف ڈھائی ہزار کی آبادی کو استفادہ حاصل ہو رہا ہے۔جبکہ گئی سے بھاٹہ جو کہ پرانا سروے ہے صرف5کلومیٹر کی مسافت ہے اور ہزاروں کی آبادی کو اس سے فائدہ ہے۔یوں تو دوڈہ دیسہ ۔کپرن روڈ بر استہ بھاگواہ سے سال1976میں شروع کیا گیا تھا اور1982میں وقت کے وزیر اعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے باضابطہ طور دیسہ۔ کپرن روڈ پر کام شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔تب سے اس پر تخمینہ یعنی لاگت آنے کے کاغذات،تشکیل رپورٹ Technical ReportاورMapو دیگر لوازمات کے کاغذات تیار کئے گئے۔جس کے مطابق1763.15کروڑ روپہ لاگت آنے کا اندازہ تھا۔ڈوڈہ دیسہ کیرن روڈ براستہ سراری ٹاپ ضلع ڈوڈہ کو وادی کشمیر کے ویری ناگ کے ساتھ جوڑنے کا دوبارہ منصوبہ سال2011میں بتایا گیا اور اسکو ایڈمنسٹریٹو اپروولR&Bنے ایک خط بھی لکھا جسکی تائید ممبر پارلیمنٹ MPچوہدری لال سنگھ،MLAڈوڈہ عبدالمجید وانی اورMLCخالد نجیب سروی نے اس وقت کی تھی۔اس روڈ کا کام 47سال کے بعد گئی کے قریب پہنچا تو چند سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والے مفاد پسند عناصر نے کام میں رکاوٹ پیدا کی اور اسکو ڈوڈہ دیسہ کپرن کا نام اور سروے کی تبدیلی لانے میں علاقہ کی کثیر آبادی کے ساتھ سراسر نا انصافی ہونے میں بڑا اہم کردار حاصل کیا۔مگر لوگ آج سڑکوں پر نکل آئے نعرہ بازی کی،احتجاج کیا اور ضلع ترقیاتی کمشنر سے ملاقی ہوئے اور مداخلت کی اپیل کی۔ان لوگوں کا الزام ہے کہ کثیر آبادی کو نظر انداز کرکے چھوٹی آبادی کو نئی سروے کے مطابق فائدہ دیا جارہا ہے۔جس پر گئی، بھاٹہ، ملان و دیگر آبادی حکام بالا اور محکمہPMGSYکے اعلیٰ افسران کے خلاف سخت نالاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ PMGSYحکام نے اسکا کام ہاتھ میں لیا تھا مگر رقومات اور دیگر بل خزانہ سے نکال لے گئے مگر1100میٹر سڑک تعمیر چھوڑ دی گئی۔لوگوں نے 5کلومیٹر گئی سے بھاٹہ کی مسافت کو چھوڑ کر25کلومیٹر گئی سے دور دشوار گذار رستوں سے تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو کہ12ہزار کی آبادی کو نا منظور ہے۔ان لوگوں نے اس نمائندہ کو بتایا کہ اگر اس میں تبدیلی لائی گئی اور اسکو نئے سروے کے مطابق تعمیر کیا گیا جو کہ لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرئے گا وہ سروے ناقابل قبول ہے۔لہذا انہوں نے اس پر از سر نو نظر ثانی  کی اپیل کی ہے۔اس تعلق سےDDCنے بھی محکمہR&BاورPMGSYکوہدایت جاری کی تھی۔