دہلی ہائی کورٹ کا این آئی اے عرضی پر

نئی دہلی//دہلی ہائی کورٹ نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی عرضی پر تین گرفتار مشتبہ نوجوانوں سے جواب طلب کیا ہے۔تینوں کی پولیس حراست میں توسیع کی این آئی اے کی عرضی ٹرائل کورٹ نے مسترد کی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو گرفتار3 مشتبہ افراد سے کہا کہ وہ این آئی اے کی درخواست پر جواب داخل کریں جس نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے جس نے جانچ ایجنسی کی طرف سے دائر درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ جسٹس رجنیش بھٹناگر نے اویس احمد ڈار، عارف فاروق بٹ اور کامران اشرف ریشی سے کہا کہ وہ این آئی اے کی عرضی پر جواب داخل کریں اور معاملہ 2فروری تک ملتوی کیا۔اویس احمد ڈار، عارف فاروق بٹ اور کامران اشرف ریشی کے لیے پولیس حراست طلب کی گئی تھی۔ این آئی اے نے عرضی  میں کہا ہے کہ تینوں کی حراست میں توسیع کی جائے تاکہ بڑی سازش کا پردہ فاش کرنے کے لیے ان کے سوشل میڈیا اور فون ڈاٹا سے متعلق تحقیقات کی جائے۔این آئی اے نے دہلی ہائی کورٹ کو مطلع کیا تھا کہ ملزمین کے الیکٹرانک آلات کا ڈاٹا اکثر سی ای آر ٹی-ان اور سی ایف ایس ایل سے وقت پر نہیں ملتا ہے، جس کے نتیجے میں تمام متعلقہ ثبوتوں کے ساتھ ملزم کا سامنا پہلے 30دن کے اندر ممکن نہیں ہوتا ہے۔ خاص طور پر بڑی اور پیچیدہ بین الاقوامی سازشوں کے معاملات میں۔این آئی اے کی درخواست کے مطابق، 27 نومبر کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے این آئی اے کی طرف سے دائر درخواست کو مسترد کر دیا ، جس میں سیکشن 43D(2)(b) کی دوسری دفعات کے تحت مزید پولیس حراست کی مانگ کی گئی تھی۔عدالت نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 (UAPA) کے تحت ملزم پولیس ریمانڈ پر تھا اور پہلے سے 30دن کا ریمانڈ ختم ہو چکا ہے۔این آئی اے نے اپنی عرضی میں کہا، ’’بلاشبہ، ہر ایک ملزم کے سلسلے میں پولیس حراست کو یو اے پی اے کی طرف سے زیادہ سے زیادہ 30 دنوں سے کم مدت کے لیے اجازت دی گئی ہے۔‘‘این آئی اے نے کہا کہ یہ حکم UAPA کی دفعہ 43D(2)(b) کے قانون سازی کے ارادے کے خلاف ہے جو واضح طور پر پولیس کو تفتیش کے مقاصد کے لیے ملزم کا ریمانڈ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے، جب تک کہ 30دن کی بالائی حد تک نہ پہنچ جائے۔این آئی اے نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ موجودہ معاملہ جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں میں حالیہ تیزی کے پس منظر میںہے۔