دہلی میں بجلی بحران کیلئے دہلی حکومت ذمہ دار ، مرکز کا الزام

یو این آئی
نئی دہلی//یو این آئی// مرکزی حکومت نے قومی راجدھانی میں بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو با جواز قرار دیا لیکن یہ بھی کہا ہے کہ یہاں بجلی کا بحران دہلی حکومت کی کوتاہیوں اور کم نظری کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔بجلی کی وزارت کے ذرائع کے مطابق موسم گرما کے آغاز اور اقتصادی صورتحال میں تیزی سے بہتری کی وجہ سے دہلی میں بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس سال پہلی بار 28 اپریل کو بجلی کی یومیہ کھپت 6000 میگاواٹ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔وزارت نے کہا کہ دہلی حکومت کوئلے کی سپلائی میں کمی کے لیے مرکز کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے ، لیکن دارالحکومت میں سپلائی میں کمی کی واحد وجہ دہلی ڈسکام اور دہلی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کا غلط فیصلہ ہے ، جس کے تحت ایک شہر کی بجلی کا بڑا حصہ نیشنل پول سے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ “دہلی میں سپلائی میں کمی کی ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دہلی حکومت نے 2015 میں این ٹی پی سی دادری اسٹیج-II تھرمل پاور پلانٹ سمیت 11 مرکزی اسٹیشنوں سے پیدا ہونے والی کل بجلی میں سے 2675 میگاواٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ‘مہنگی بجلی’ اور ‘آلودگی’ کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی حکومت نے این ٹی پی سی کے دادری-1 تھرمل پاور اسٹیشن سے پوری 756 میگاواٹ بجلی چھوڑ دی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ دادری-1 ماحول دوست قابل تجدید بجلی دے ، تو دہلی میں بجلی صارفین کے کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ دہلی حکومت نے جمعہ کو کہا تھا کہ کئی پاور پلانٹس میں صرف ایک دن کاا سٹاک بچا ہے جس کی وجہ سے دہلی میں بجلی کی سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے ۔دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی مربوط بجلی پیدا کرنے والی کمپنی این ٹی پی سی نے دہلی حکومت کے کوئلے کی کمی کے دعوے کے جواب میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ دہلی کو بجلی فراہم کرنے والے اونچہار اور دادری پاور اسٹیشن اپنی پوری صلاحیت اور ضرورت کے مطابق چل رہے ہیں۔