دہلی اجلاس کے بعد پہلی بار گپکار اتحاد کی مشاورت

سرینگر // گذشتہ ماہ نئی دہلی میں ہونے والے کل جماعتی اجلاس کے بعد پہلی بار ، گپکار الائنس نے اتوار کے روز نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی رہائش گاہ پر ایک بند دروازہ اجلاس کیا۔ اجلاس 6 جولائی سے جموں و کشمیر کے طے شدہ حد بندی کمیشن کے ممبروں کے دورے سے دو روز قبل منعقد کیا گیا۔کمیشن کے اراکین ضلعی انتخابی افسران اور سیاسی جماعتوں سے بات چیت کریں گے۔پی اے جی ڈی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس میٹنگ میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی ، سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنما ، ترجمان پی اے جی ڈی محمد یوسف تاریگامی ، این سی رہنما اور ممبر پارلیمنٹ جسٹس (ر) حسنین مسعودی اور این سی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے شرکت کی۔ڈاکٹر فاروق کی رہاش گاہ پریہ اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا جبکہ پی اے جی ڈی ذرائع نے بتایا کہ ممبران نے اجلاس میں متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا جس میں وزیر اعظم مودی کی زیرصدارت آل جماعتی اجلاس میں پیش کردہ پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔گذشتہ ماہ نئی دہلی میں منعقدہ آل جماعتی اجلاس میں جموں و کشمیر کے 14 رہنماؤں کے شریک ہونے کے بعد اتوار کو پی اے جی ڈی کا اجلاس پہلا اجلاس تھا۔گپکار الائنس کے ایک لیڈر نے کہا’’ہم 29 جون کو ملنے کا ارادہ کر رہے تھے لیکن محبوبہ مفتی کی سابقہ مصروفیات کی وجہ سے نہیںمل سکے، آج ہی ہمیں آل پارٹی اجلاس میں اپنی شرکت پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ رہنماؤں نے وزیر اعظم مودی کے جماعتی اجلاس اور جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔رہنما نے کہا ، "اتحاد اپنے بنیادی ایجنڈے کیلئے پرعزم ہے ، جس کیلئے یہ تشکیل پایا تھا اور ہم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم کس کیلئے کھڑے ہیں اور ہم کیا چاہتے ہیں‘‘۔تاہم ، انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کردیا ، یہ کہتے ہوئے کہ اتحاد کے چیف ترجمان میڈیا کو اجلاس کے بارے میں بتائیں گے۔جب سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اجلاس کی تفصیلات پیر کو شیئر کی جائیں گی۔ایک اور پی اے جی ڈی رہنما اور این سی کے ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی نے کہا کہ اس اجلاس نے "اتحاد کے اندر کچھ اختلافات کی افواہوں" کو ختم کردیا۔مسعودی نے کہا ، "میں صرف یہ بات بانٹ سکتا ہوں کہ یہ میٹنگ ہوئی اور ہر ممبر نے اس میں شرکت کی۔ اس سے افواہوں کو ختم کرنا چاہئے جو چل رہی تھیں۔ اتحاد میں کوئی اختلافات نہیں ہیں اور سب ایک ہی صفحے پر ہیں ،"