دہشت گردی ۔۔۔ اسباب اور سدب

 دہشت گردی عالمی توجہ کس حد تک جلب کر چکی ہے اُس کا اندازہ الیکٹرونیک و پرنٹ میڈیا کی آئے دن کی خبروں سے ہوتا ہے۔جہاں دہشت گردی پہ عالمی تنقید روزمرہ کی بات ہے ،وہیںکہیں کہیں روشن فکر افراد اپنے تجزیات میں دہشت گردی کے پس منظر میں جو اسباب و محرکات دخیل ہیں، اُنہیں سمجھنے اور اُن کا سدباب کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اِن تجزیات کی فلسفیانہ زمیں کے باوجود عالمی رہبر وں کا یہ ماننا ہے کہ پس منظر میں دہشت گردی کے جو بھی اسباب و محرکات بیاں کئے گئے ہوں دہشت گردی کا دفاع نہیں کر سکتے اور جس زاویہ سے بھی دیکھا جائے دہشت گردی قابل مذمت ہے اور کسی صورت سے بھی دہشت گردی کو جائز قرار نہیں دیا سکتا۔ عصر حاضر میں دہشت گردی کے پس منظر کے محرکات کو سمجھنے اور پرکھنے کی کوششیں جہاں نوم چومسکی جیسے عالمی شہرت یافتہ مفکر نے سمجھنے کی کوشش کی ہے، وہیں بھارت میں پروفیسر مکر جی اور ارون دتی رائے جیسے تجزیہ نگاروں نے بھی بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کے پس منظر کو پرکھنے کی قابل قدر کوشش کی ہیں۔ اُن واقعات میں ایک اہم واقع آج گئے 16سال پہلے 13 دسمبر 2001 ء کے روز بھارتی پارلیمان پہ مبینہ جنگجوؤں کا حملہ تھا۔
 13 دسمبر 2001 ء کے روز بھارتی پارلیمان پہ مبینہ جنگجوؤں نے ایک حملہ کیا جس حملے کے بعد افضل گورو سمیت شوکت گورو و پروفیسر عبدلرحمان گیلانی پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ اِس سازش میں شریک تھے۔افضل گورو کے مقدمے پہ جو فیصلہ صادر ہوا اُس پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔آخری فیصلے سے منعکس کہ یہ حروف کہ یہ فیصلہ قومی ضمیر کی تسکین کے لئے دیا گیا انصاف پہ ایک ایسا تازیانہ ہے جو رہتی دنیا تک انصاف کی تاریخ پہ حرف غلط کی صورت میں پیوست رہے گا ۔پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر عدالت عالیہ کو اپنے فیصلے کی صداقت پہ یقین تھا اور یہ بھی کہ جو فیصلہ دیا جا رہا ہے وہ انصاف کے تقاضے کسی شک و شبہ کے بغیرپورے کرتا ہے اور انصاف کے مقرر شدہ معیار وں پہ پورے کا پورا اترتا ہے تو قومی ضمیر کو فیصلے سے منعکس کرنے اور اُس کی دہائی دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟باقی یہ قانونی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں کہ کسی اور ملک کی عدلیہ نے حتّی بھارتی عدلیہ نے بھی کبھی کسی فیصلے میں قومی ضمیر کو بنیاد بنا کے فیصلہ صادر کیا ہے یا ایسا قانونی فیصلوں کی لمبی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ قومی ضمیر فیصلے کی بنیاد بن سکتا ہے تو پھر یہ بھی مشخص ہونا چاہیے کہ قومی ضمیر کو جانچنے والا آلہ کہاں ،کب اور کیسے بنایا گیا اور اگر یہ کسی آلے کی ترکیب نہیں ہے تو قومی ضمیر کی جانچ کی ترکیب کیا ہے؟
 افضل گورو کے مقدمے کو کن رنگوں میں رنگا گیا اُس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ مختلف تصانیف میں دہشت گردی کے سیاسی مضمرات کو پرکھا گیا ہے اور یہ بھی کہ جمہوری عمل کو دہشت گردی کے خلاف جنگ نے کس حد تک متاثر کیا ہے اور کیسے عوام الناس کے شہری و سیاسی حقوق سلب کر لئے گئے۔ افضل گورو کو تختہ دار پہ چڑھانے کے تقریباََ ایک سال بعدسپریم کورٹ نے بھارتی انتظامیہ کی شدید تنقید کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا کہ جو مجرمین پھانسی کی سزا پانے کے مستحق قرار دئے گئے تھے اور جنہوں نے رحم کی درخواست کی ہے انتظامیہ کی جانب سے لیت و لیل کے سبب اُنہوں نے سالہا سال جیلوں میں گذارے لہذا پھانسی کے بجائے اُن کی سزا عمر قید میں تبدیل ہونے کا قانونی جواز بنتا ہے۔عدالت عالیہ کے فیصلے کے بعد تامل ناڈو کی با اختیار سرکار راجیو گاندھی کے قاتلوں کو چھوڑنے کے ضمن میں پر تولنے لگی اور پنجاب کی اکالی سرکار بھی بینت سنگھ کے قاتلوں کو بچانے کی فکر لگ گئی ۔یاد رہے کہ پنجاب کے وزیر اعلی بینت سنگھ ایک مبینہ دہشت گرد حملے میں مارے گئے تھے۔ جہاں اِن سرکاروں کی کوششیں جاری رہیں وہی افضل گورو ایک سال پہلے ہی تختہ دار پہ چڑھا لئے گئے تھے۔سپریم کورٹ کے فیصلے پہ میرزا اسد اللہ غالب کا شہرہ آفاق قطعہ شعر یاد آیا:
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا! 
 نوم چومسکی کی تجزیہ کاری میں یہ آیا ہے کہ دہشت گردی کا خلاف جو پروپگنڈا جاری و ساری ہے اُس سے اقوام عالم جو نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مبینہ دہشت گردی کو دبانے کے بجائے اُبھار رہا ہے ۔ نوم چو مسکی کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کی پس منظر میں جو بھی حقائق ہیں اُن پہ غور کرنے کے بجائے اُس سے نبٹنے کے طریقہ کار سے کئی ممالک سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ایسے ممالک امریکہ کی روش پہ چلتے ہوئے کوتاہ مدتی فوائد کی تلاش میں ہیں اور اِس بات پہ توجہ مرکوز نہیں ہے کہ دراز مدت میں کیا کیا نقصانات اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔چومسکی کے تبصرے میں توجہ امریکی اقدامات پس از9/11 پہ متمرکزہیں۔یادرہے کہ2001ء کے ستمبر مہینے کی گیارہ تاریخ کو امریکہ ایک دہشت گرد حملے کا شکار ہوا  
ماضی قریب پہ نظر ڈالی جائے تو عیاں ہے کہ نوم چومسکی کیا کہنا چاہتے ہیں ۔نوم چومسکی کا ماننا ہے کہ 9/11 سے پہلے امریکی کی بش سرکار کے خلاف رائے عامہ کے تاثرات اُبھرنے لگے تھے چونکہ وہ اُن وعدوں کو پورا کرنے میں بری طرح نا کام ہورہے تھے جو وعدے اُنہوں نے امریکی عوام سے کئے تھے ۔ایسے مقامات کے بارے میں جہاں ایک رہبر کی غلطیاں منظر عام پہ آ جاتی ہیں زمانہ قدیم سے روایت چلی آئی ہے کہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوششوں کا آغاز ہوتا ہے اور اِن کوششوں میں سر فہرست ایک دشمن کھڑا کرنے کی ترغیب ہے ایک ایسا دشمن جس کے بارے میں لوگوں کو یقین دلائے جائے کہ وہ وطن کے لئے خطرہ ہے اور جب وطن پرستی سامنے آتی ہے تو لوگ حکمرانوں کی زیادتیوں کو بھول جاتے ہیں ۔نوم چومسکی کا ماننا ہے کہ ایک خوف کی فضا طاری کی جاتی ہے جہاں لوگ وہ قوانین بھی ماننے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں جو سریحاََ حقوق بشر کے خلاف ہوتے ہیں کیونکہ خود ساختہ دشمن سے یاایسا کہیں ایک ایسے دشمن سے جس کا وجود تو ہے لیکن جس کے مضمرات کو بڑھا چڑھا کے پیش کیا جاتاہے تاکہ حکمراں ایسے سوالات سے بچتے رہیں جو لوگ اُن سے ایک فراغت کے ماحول میں پوچھ سکتے ہیں لیکن جہاں یہ دہائی دی جائے کہ وطن دشمن کے اوچھے واروں کی زد میں ہے وہاں لوگوں کی توجہ بھی قومی دفاع کے موضوع پہ متمرکز ہو جاتی ہے۔ 
9/11 کے بارے میں متضاد اطلاعیں ہیں ۔یہاں القاعدہ کے منظم حملے سے لے کے صہیونی سازش تک کی باتیں سننے میں آئیں۔ ایسے سوالات بھی پوچھے گئے کہ ایک مخصوص فرقے کی منجملہ غیر حاضری کو کس پیمانے میں پرکھا جائے؟ اور بھی کئی سوالات ہیں جن کا خاطر خواہ جواب آج تک معلوم نہیں ہو سکا لیکن ایک غیر جانبدار تحقیق کے بجائے امریکی حکام نے اُسے القاعدہ کی سازش قرار دیا گیا اور افغان طالبان سے جو اقتدار کی رسی کو تھامے ہوئے تھے یہ تقاضا کیا گیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کریں اور اِس مانگ سے طالبان نے سریحاََ انکار نہیں کیا بلکہ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ طالبان نے جہاں امریکہ پہ دہشت گرد حملے کی مذمت کی وہی  صرف و صرف یہ شرط رکھی کہ ایک غیر جانب دار عالمی تحقیق اگر اسامہ کو سازش میں ملوث پائے تو وہ اسامہ بن لادن کو بچانے کی کوشش بالکل نہیں کریں گے لیکن فیصلہ ہو چکا تھا کہ امریکہ کو دشمنوں کے نرغے میں ہونے کا پروپگنڈا شد و مد سے شروع کرنا ہے لہذا مسلے کے پُر امن حل کی کوششوں کو بالائے طاق رکھا گیا۔
 نوم چومسکی کے نقطہ نظر کی تائید میں کئی باتیں سامنے آتی ہیں بالفرض امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ (وزیر خارجہ) کولن پاول کا پاکستانی صدر جنرل مشرف کو ٹیلفون پہ یہ دھمکی آمیز پیغام دینا کہ وہ جلد فیصلہ کریں کہ وہ کس صف میں کھڑے ہیں امریکہ کے ساتھ یا امریکہ کے دشمنوں کی صف میں ؟ الفاظ کی تراش کچھ بھی رہی ہو مدعا و مقصد یہی رہا اور اُسی کے ساتھ جدید ترین جنگی سامان حرب و ضرب سے افغانستان پہ چڑھائی کی گئی جو آج تک قائم ہے البتہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے اور ایک ہاری ہوئی بازی کو عالمی نشریاتی اداروں پہ بلا شرکت غیرے قابض ہونے کے سبب جیت کے نقارے بجانے میں مصروف نظر آتا ہے۔ کابل پہ اور کچھ شہری ٹھکانوں پہ قابض ہونے کو افغانستان پہ مسلط ہونے کی دلیل نہیں مانا جا سکتا اور افغانستان میں تاجکوں اور پختونوں کے مابین دراڑ کو فروغ دینے میں جو رول امریکا کا رہا ہے وہ عکاسی ہے اُس رول کی جو عراق میں دہرایا گیا۔
دہشت گردی سے جنگ کی آڑ میںامریکی شہریوں کو حفاظتی دائرے میں کستے ہوئے کیسے شہری و سیاسی حقوق محروم کیا گیا وہ بھی ایک المناک داستاں ہے ۔نوم چومسکی کا ماننا ہے کہ ایک خوف کی فضا قائم کرنا ریاستی مشغلہ بن جاتا ہے اور اِس ماحول میں شہری اُن قوانین کو ماننے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں جو وہ عادی یعنی نارمل حالات میں اعتراض کا سبب بن سکتے ہیں۔ امریکہ میں 9/11 کے بعد ایک قانون لاگو کر دیا گیا جسے پٹر یاٹ ایکٹ (Patriot Act۔۔۔قانون وطن پرستی)کہا گیااور اِس قانون کی آڑ میں امریکی مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیاحالانکہ امریکی مسلمانوں کی اکثریت مطلق نہ صرف ملکی وفاداری میں پیش پیش رہی بلکہ مسلمانوں نے قومی زندگی میں  ہمیشہ ہی اپنا رول بہ نحو احسن نبھایا البتہ بش کو اپنی خامیوں کو چھپانے کا ایک بہانہ چاہیے تھا۔افغانستان کے بعد عراق پہ مہلک ہتھیار جمع کرنے کا الزام عائد ہواجن میں مہلک گیس اور شیمیائی ہتھیار بھی شامل رہے ۔اِس سے پہلے کہ غیر جانبدارانہ تحقیق سے حقائق کا پتہ لگایا جائے افغانستان کی مانند عراق پہ چڑھائی کی گئی ۔صدام حسین کی حکومت سرنگوں ہوئی اور صدام کو پھانسی کی سزا دی گئی اور بعد میں متفرقہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ جن مہلک ہتھیاروں کا رونا رویا جا رہا تھا وہ عراق میں موجود تھے ہی نہیں بلکہ نوم چومسکی کا ماننا ہے کہ عراقی حملے کے بعد مہلک ہتھیاروں کی تولید عالمی ہتھیار منڈی میں بیشتر ہوئی اور دنیا بھر میں القاعدہ کی بھرتی میں اضافہ ہوا جبکہ 9/11 سے پہلے بھرتی ماند پڑ گئی تھی۔2003ء میں عراقی پہ چڑھائی کے بعد اور بھی شہری و سیاسی حقوق سلب کر لئے گئے اور مضافتی داخلی حفاظتی ایکٹ (Domestic Security Enhancement Act of 2003) کو وسیلے سے عدالتی مداخلت کے بغیر خفیہ گرفتاری کے لئے قانونی جواز کی صورت پیدا کر لی گئی۔بش سرکار کی مانند ہی بھاجپا اور اُن کے حواریوں کی ملی جلی سرکار جسے این ڈی اے (NDA) کا نام دیا گیا، 1999 ء میں انتخابا ت میں کامیابی کے بعد عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں بری طرح نا کام ہوئی تھی اور وسط مدتی چناؤ ایک ایک کر کے ہار رہے تھے۔وزیر دفاع جارج فرنڈیز پہ کرگل کے تصادم کے بعد سستے تابوت مہنگے داموں خریدنے کا الزام تھا ایسے میں  13 دسمبر کا واقعہ پیش آیا اور وہی نسخہ آزمایا گیا جو بش نے امریکہ میں دہشت گردی کو دبانے کیلئے آزمایا تھا۔پوٹا (Pota) جیسا کالا قانون جسے پہلے رد کر لیا تھا 13دسمبر کے بعد پوٹا دو(Pota-II) کی صورت میں قابل قبول بن گیا ۔ فاروق عبداللہ وزارت پوٹا کو پہلے سے ہی گلے لگانے کو تیار تھی۔راقم السطور کاماننا ہے کہ اقلیتوں کو مخصوصاََ نشانہ بنایا گیا۔گجرات کے فسادات پیش آئے جہاں ایک اندازے کے مطابق 2000 بیگناہ افراد کا خون بہایا گیا اور آج بھی بیشمار خاندان بے خانماں زندگی گذار رہے ہیں ۔سیاسی اقدامات جو امریکہ اور بھارت میں دہشت گردی کو دبانے کی آڑ میں کئے گئے اُن اقدامات سے دہشت گردی پہ قابو پایا گیا یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن شہری و سیاسی حقوق جو سلب کر لئے گئے اُس میں افضل گورو جیسے افراد پہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے سزائے موت سنائی گئی اور ایک سال بعد یہ بات عدالتی فیصلوں سے ہی عیاں ہوا کہ عجلت میں فیصلہ لیتے ہوئے دوہرا قانونی معیار قائم کیا گیا ہے ۔ اِن اللہ مع الصابرین!۔
