’دھیرہ کی گلی‘ بفلیاز پونچھ میں گھات لگاکر حملہ|| 4فوجی ہلاک، 3زخمی ملی ٹینٹ فرار،وسیع پیمانے پر آپریشن کا آغاز، راجوری پونچھ روڑ پر ٹریفک بند

 سمیت بھارگو

راجوری // تھانہ منڈی پونچھ میں بفلیاز کے نزدیک( دھیرہ کی گلی ) علاقے میںبھاری ہتھیاروں سے لیس ملی ٹینٹوںنے فوج کی دو گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4فوجی ہلاک اور 3دیگر زخمی ہوئے ہیں، جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے،جن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔مہلوک فوجیوں کی شناخت بیرندر سنگھ، چندن کمار، کرن کمار اور گوتم کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ جبکہ زخمیوں میں سندیپ کمار،ایس ایس داس اور ٹی ڈی بھاسکراو شامل ہیں۔واقعہ کے بعد فوج نے ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن کا دائرہ مزید کئی علاقوں تک وسیع کیا ہے۔علاوہ ازیں تھانہ منڈی بفلیاز شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ تھانہ منڈی راجوری میں انکاونٹر کے پیش نظر بفلیاز روڈ پر فی الحال گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔پولیس کے مطابق جمعرات کی سہ پہر تھانہ منڈی راجوری کے بفلیاز علاقے میںدھیرہ کی گلی علاقے میں جمعرات سہ پہر 3بجکر 45منٹ پر ملی ٹینٹوں نے دو فوجی گاڑیوں پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا جب یہ گاڑیاں تھانہ منڈی سرنکوٹ روڈ پر ڈی کے جی سے بفلیاز کی طرف جا رہی تھیں جو مغل روڈ سے بھی ملتی ہے۔حکام نے بتایا کہ واقعہ کی جگہ بفلیاز سے تقریبا تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جو مغل روڈ کا ٹیک آف پوائنٹ ہے۔”

 

جب آپریشنل ٹیموں کو لے جانے والی گاڑی بفلیاز جا رہی تھی،تو ملی ٹینٹوں نے ان پر دنار سوانیہ موڑ کے علاقے میں اندھا دھند فائرنگ کر دی جو ہر طرف گھنے جنگل سے گھرا ہوا ہے۔سرکاری ذرائع نے مزید بتایا کہ جائے وقوعہ پر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم ملی ٹینٹ قریبی جنگل میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔سرکاری ذرائع نے مزید بتایا کہ جاں بحق ہونے والے چاروں اہلکاروں کی لاشیں جائے وقوعہ سے نکال کر قریبی فوجی کیمپ منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ علاقے میں فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت، جن کی تعداد تین بتائی جاتی ہے ،کا پتہ لگانے کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔فوج نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ 20 دسمبر کی رات سے دھیرہ کی گلی کے عام علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے۔ترجمان نے کہا”21 دسمبر کو تقریباً 03:45پر، فوجیوں کو لے کر دو فوجی گاڑیاں آپریشنل سائٹ کی طرف بڑھ رہی تھیں جن پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی۔”فوج کا مزید کہنا تھا کہ فائرنگ کا فوری طور پر اپنے دستوں نے جواب دیا۔فوج نے مزید کہا”جاری آپریشن میں،فوجیوں نے تین مہلک اور تین غیر مہلک جانی نقصان اٹھایا” ۔فوج نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن جاری ہے اور مزید تفصیلات معلوم کی جا رہی ہیں۔پچھلے ایک ماہ میں راجوری، پونچھ کے علاقوں میں انسداد دہشت گردی کے محاذ پر یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے جیسا کہ اس سے قبل 23-24 نومبر کو راجوری ضلع کے کالاکوٹ علاقے کے بجی مال، بریوی میں ایک انکانٹر ہوا تھا جس میں فوج کے پانچ اہلکار مارے گئے تھے۔ جس میں دو کیپٹن بھی شامل تھے اوردو ملی ٹینٹ بھی مارے گئے۔یہ خطہ گزشتہ چند سالوں میںملی ٹینٹوں کا گڑھ اور فوج پر بڑے حملوں کا مرکز بن چکا ہے۔اس سال اپریل اور مئی میں راجوری پونچھ علاقے میں دو حملوں میں 10 فوجی مارے گئے تھے۔ یہ خطہ 2003 سے 2021 کے درمیان بڑی حد تک دہشت گردی سے پاک رہا تھا جس کے بعد متواتر انکانٹر ہونے لگے۔پچھلے دو سالوں میں اس علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 35 سے زیادہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔