دُعا ہی سبیل ِ واحد

قلب انسانی کے اندر یہ ربانی احساس،اس کے دریچے کھول دیتا ہے۔اس کے سامنے ایک نئی دنیا نمودار ہوجاتی ہے۔یہ دنیا اس محدود دنیا سے بالکل مختلف ہے جسے ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔اس کی نظروں کے سامنے کچھ دوسرے عوامل بھی آجاتے ہیں جو اس کائنات کی گہرائیوں میں کام کررہے ہوتے ہیں،جو معاملات کی کایا پلٹ دیتے ہیں،جو نتائج کی اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں جن میں انسان کو تمنا ہوتی ہے یا وہ ان کی توقع کئے ہوئے ہوتا ہے۔جب قلب مومن تن بہ تقدیر اس ربانی احساس کے تابع ہوجاتا ہے،تو پھر وہ پُرامید ہوکر کام کرتا ہے۔اسے امید بھی ہوتی ہے اور اللہ کا ڈر بھی،لیکن وہ تمام نتائج برضا ورغبت دست قدرت کے سپرد کردیتا ہے، جو حکیم ہے اور علیم ہے۔جس کا علم سب کو گھیرے ہوئے ہے،یہ ہے دراصل سلامتی کے کھلے دروازے کا داخلہ۔نفس انسانی کو اسلام کا صحیح شعور اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتا،جب تک اس میں یہ یقین پیدا نہ ہوجائے کہ خیر اسی میں ہے جسے اللہ نے خیر بتایا،بھلائی اس میں ہے کہ اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کی جائے۔اللہ تعالیٰ کو آزمانے اور اللہ سے براہین طلب کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔پختہ یقین،پرسکوں اُمید اور سعی پیہم ہی سلامتی کے دروازے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انہی دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے اور حکم دیتا کہ نیمے دروں اور نیمے بیروں میں نہیں بلکہ پورے پورے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بڑے سادہ عجیب لیکن بہت گہرے منہاج کے ساتھ اس سلامتی کی طرف لے جارہا ہے۔بڑی نرمی،بڑی آسانی اور دھیمی رفتار سے۔
انسان تو کسی معاملے میں یہ نہیں جانتا کہ خیر کہاں ہے اور شر کہاں ؟بدر کے دن مسلمان نکلے کہ قریش کے قافلے کو لوٹ لیں اور ان کے مال تجارت پر قبضہ کرلیں۔اللہ نے ان سے غنیمت کا وعدہ بھی کر رکھا تھا،وہ سمجھتے تھے کہ یہی قافلہ اور اس کا مال تجارت بس انہیں ملنے ہی والا ہے۔ان کے تصور میں بھی یہ نہ تھا کہ انہیں قریش کی فوج کے ساتھ دوچار ہونا پڑے گا،لیکن اللہ کا کرنا یہ تھا کہ قافلہ بچ نکلا اور ان کا سامنا قریش کی ساز و سامان سے لیس فوج سے ہوگیا اور اس کے نتیجہ میں اہل اسلام کو وہ کامیابی نصیب ہوئی جس کی آواز بازگشت پورے جزیرۃ العرب میں سنی گئی۔اب دیکھئے کہ مسلمانوں کی کامیابی کے مقابلہ میں قافلہ اور اس کے تجارتی سامان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟اب دیکھئے،مسلمانوں نے اپنے لئے جو پسند کیا اس کی قدروقیمت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو اختیار کیا اس کی قدروقیمت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے اور لوگ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساتھی نوجوان اپنا کھانا بھول گیا یعنی مچھلی۔جب پتھر کے پاس پہنچے تو مچھلی دریا میں چلی گئی۔حضرت موسیٰؑ آگے چلے گئے اور اپنے خادم سے کہا :لاؤ ہمارا ناشتہ آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں۔خادم نے کہا آپ نے دیکھا،یہ کیا ہوا؟جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے،اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ میں اس کا ذکر آپ سے کرنا بھول گیا۔مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کردریا میں چلی گئی۔حضرت موسیٰ  ؑ نے کہا:اسی کی تو ہمیں تلاش تھی،چناچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔یہی وہ مقصد تھا جس کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سفر اختیار کیا۔اگر مچھلی کا واقع نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ  ؑ نہ لوٹتے اور وہ پورا مقصد فوت ہوجاتا، جس کے لئے انہوں نے یہ تھکا دینے والا سفر اختیار کیا تھا۔
 انسان اگر تامل کرے تو وہ بعض مخصوص تجربوں میں اس سچائی کو دریافت کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کئی ایسے تجربات سے دوچار ہوا ،جو اسے ناپسند تھے۔لیکن ان کے پس پردہ وہ خیر عظیم کارفرما تھی۔اور کئی پُر ذائقہ اور لذید چیزیں بھی تھیں،لیکن ان کی تہہ میں شر عظیم نہا ںتھا۔کئی ایسے مقاصد ہوتے ہیں کہ جن سے انسان محروم ہوجاتا ہے اور اسے اپنی اس محرومی کا بےحد صدمہ بھی ہوتا ہے لیکن ایک عرصہ کے بعد نتائج دیکھ کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محروم رکھ کر دراصل بلائے عظیم سے نجات دی تھی۔کئی مصائب وشدائد ایسے جاں گسل ہوتے ہیں،کہ انسان بڑی ناخوش گواری سے ان کے کڑوے گھونٹ بھرتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ ان مصائب کی سختی کے نتیجے میں اس کی جان ہی نکل جائے،لیکن ایک طویل عرصہ نہیں گزرتا کہ ان سختیوں کے نتائج اتنے اچھے نکلتے ہیں جتنے ایک طویل پُر آسائش زندگی کے نتیجے میں اچھے نہ ہوسکتے تھے۔
 یہ ہے منہاج تربیت جس کے مطابق اللہ نفس انسانی کو لیتا ہے کہ وہ ایمان لے آئے،اسلام میں داخل ہوجائے اور آنے والے نتائج اللہ کے سپرد کردے۔اس کا کام صرف یہ ہے کہ بقدر استطاعت،ظاہری جدوجہد کے میدان میں اپنی پوری قوت لگادے۔
قرآن و حدیث میں قبولیت دعا سے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر نظر دوڑانے سے پتہ چلتا ہے کہ ہر دعا جو خدا اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر ہو تو وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے،مگر قبولیت کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔جس کا تذکرہ ذیل کی احادیث میں اس طرح آیا ہے:
حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:
’’آدمی جب کبھی اللہ سے دعا مانگتا ہے، اللہ اسے یا تو وہی چیز دیتا ہے جس کی اس نے دعا کی تھی یا اسی درجے کی کوئی بلا اس پر آنے سے روک دیتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے‘‘۔(ترمذی)
اسی سے ملتا جلتا مضمون ایک دوسری حدیث میں ہے جو حضرت ابو سعید خدریؓ نے حضورﷺ سے روایت کی ہے۔ اس میں آپ کا ارشاد یہ ہے کہ:
’’ایک مسلمان جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے،بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو،تو اللہ تعالیٰ اسے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں قبول فرماتا ہے۔یا تو اس کی وہ دعا اسی دنیا میں قبول کرلی جاتی ہے۔یا اسے آخرت میں اجر دینے کے لیے محفوظ رکھ لیا جاتا ہے۔یا اسی درجہ کی کسی آفت کو اس پر آنے سے روک دیا جاتا ہے۔‘‘(مسند احمد)
   جلد بازی بھی ایک ایسی پروبلم ہے جو بندے کو رب کی رحمت سے مایوس کراکے بالآخر اُسے ربّ کے در سے اٹھا ہی لیتی ہے۔دعا کے معاملے میں جلد بازی سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ بندے کے لئے اس کی مانگی ہوئی چیز کب موزوں رہے گی۔ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ ؓ،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:
’’بندے کی دعا قبول کی جاتی ہے بشرطیکہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے،اور جلد بازی سے کام نہ لے۔عرض کیا گیا جلد بازی کیا ہے یا رسول اللہ ؐ!فرمایا جلد بازی یہ ہے کہ آدمی کہے میں نے بہت دعا کی،مگر میں دیکھتا ہوں کہ میری دعا قبول نہیں ہوتی،اور یہ کہہ کر آدمی تھک جائے اور دعا مانگنی چھوڑ دے۔‘‘(مسلم)
      لہٰذا اوپر کی تفصیلی وضاحت کو ذہن میں رکھ کر ہمیں چاہئیے کہ مایوسی اور جلد بازی کا شکار نہ ہوکر رب کے در کا فقیر ہی بنے رہیں،اسی میں ہماری شان وبان اور دُنیوی و اُخروی نجات مضمر ہے۔جو انسان ربِ کریم کا ہمہ وقتی غلام بن جائے گا، اس کے متعلق کوئی کیسے گمان کر سکتا ہے کہ اپنا رب زندگی کے کسی بھی موڑ پر اسے ساتھ دینا چھوڑ دے گا،یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ربِ کریم اپنے پیارے بندے کو موزوں وقت پر دے کر ہی اُسے خوشیوں کا جام پلاتا ہے۔کبھی کبھار وہ اس کی دعا کو روک کر اپنے پاس ایسے نعم البدل سے نوازنے کی پُلاننگ کردیتا ہے کہ جسے آخرت میں دیکھ کر بندے کے سارے گلے شکوئوں کے بادل چھٹ کر ان کی آنکھوں سے خوشیوں کے آنسو ٹپکنے لگیں گے۔‘‘منّا السؤال و منک القبول ۔’’ہمارا کام مانگنا ہے اور پروردگار عالم کا کام عطا کرنا ہے‘‘۔اس اصولی بات کو مدِ نظر رکھ کر اگر ہم اپنی دین ودنیا کی بھلائی چاہتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنا کام کریں اور اللہ اپنا کام کر رہے ہیں۔
میں اُمید رکھتا ہوں کہ خاکسار کو قارئین کرام اپنی خصوصی دعاؤں میں شامل فرمائیں گے ،اِن شاء الله۔