دُعا ہی سبیلِ واحد

   دعا،عاجزی،انکساری اور بے چارگی کے اظہار کو کہتے ہیں۔عبادت کی اصل روح اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی قدرت و اطاعت اور اپنی کم مائیگی و ذلت کا اظہار کرنا ہے۔انسان رحمِ مادر میں جب نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے تو اس وقت سے ہی وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی حاجتوں اور ضرورتوں کا یہ سلسلہ زندگی کے آخری سانس تک ختم نہیں ہوتا۔دنیا میں اگرچہ انسان کو اپنے ہی جیسے انسانوں سے سابقہ پڑ کر ان کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے لیکن دنیا میں انسان کو سب سے بڑھ کر ضرورت اپنے خالقِ حقیقی کی ہوتی ہے،جو انسان کا سب سے زیادہ مشفق اور خیرخواہ ہوتا ہے۔جو ذات رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہو، اُسے چھوڑ کر کسی اور کے در کا فقیر بننا دانشمندی کا کام نہیں ہو سکتا۔انسان کبھی کبھار مسائل کے بھنور میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ اسے کوئی امید باقی نہیں رہتی،سب سہارے ٹوٹ جاتے ہیں،سارے وسائل جواب دیتے ہیں،وہ لوگ بھی ساتھ دینا چھوڑتے ہیں جو ہمیشہ اور ہر حال میں نصرت و امداد کا،متاع زیست لٹانے کا اور اپنی جان تک نچھاور کرنے کا دم بھرتے رہتے ہیں۔بہ الفاظ دیگر انسانی زندگی میں ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ اپنا سایہ تک بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ایسے میں اُس کی امیدوں کا چراغ،تمناؤں کی کرن،آرزؤوں کا محل،آشاؤوں کی جوتی صرف ایک رہ جاتی ہے اور وہ ہوتی ربّ ِ کائنات کی ذات ۔ ہاں وہی ذات باقی رہ جاتی ہے جو انسان کو کبھی تنہا اور بےسہارا نہیں چھوڑتی۔پوری دنیا سے مایوس ہو کر بے بس،لاچار،مقہور و مجبور،ستم رسیدہ،کمزور و لاغر بندہ جب اُسے پکارتا ہے تو وہ ذات اس کی چارہ جوئی کرتی ہے،وہ اس کے دُکھوں کا مداوا کرتی ہے۔وہ بندے کے زخموں کو ہلکا کر دیتی ہے اور بندہ جو کچھ مانگتا ہے اس کی ذات اسے دے کے ہی رہتی ہے۔وہ ذات ہر وقت منتظر رہتی ہے کہ بندہ کب اسکے دَر پر آجائے ،وہ اُس کی جھولی کو خوشیوں سے بھر دے۔وہ ذات ستم رسیدہ افراد کی فریاد کو سن کر اسے پورا کر دیتی ہے۔وہ ذات حکمت کے تحت اپنے بندے کی حاجت کو مٔوخر تو کر سکتی ہے لیکن تڑپانا اس کے شایان شان نہیں ہے۔وہ ذات بندے کی آہوں سے خوش ہو کر اسے مزید توفیق کا پروانہ سونپتی ہے۔وہ ذات اپنے بندے کو اپنے دربار میں ایک مہمانِ عزیز سمجھ کر اسے خوشی و مسرت کے ساتھ رخصت کر دیتی ہے۔وہ ذات ہے ہی ایسی جس کے درِ اقدس سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا،بس اُسے پکار کر دیکھ تو لو!
    بندہ رب کے علم کو کہاں عبور کر سکتا ہے اور وہ اس کی پُلاننگ کو کیسے سمجھ سکتا ہے؟وہ ’’علیم ‘‘اور’’حکیم ‘‘رب اپنے بندے کے لئے وہی کرتا ہے جس میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہو ۔بندے کو جب تک ’’دعا‘‘کے پورے فلسفے پر گہرائی سے نظر نہ ہو تب تک یہ اس کے لئے سود مند ثابت نہیں ہو سکتا اور غالب گمان یہی ہے کہ بندہ مایوسی کا شکار ہوکر راضی برضائے رب نہ رہ کر اپنے ہاتھوں خود ہی اپنے نقصان کا ارتکاب کر بیٹھے گا۔یہ بندے کے لئے سب سے بڑی ناکامی اور شیطان لعین کے لئے ایک عظیم کامیابی سے کم نہیں ہوتی۔کیونکہ شیطان چاہتا یہی ہے کہ بندے کو کسی بھی طرح رب کے دَر سے اٹھا کر لے اور غیر اللہ کے آستانے پر جبین نیاز خم کرادے۔بندہ رب کے دربار کو چھوڑ کر آخر کہاں جا سکتا ہے؟اس کے پھٹے ہوئے دل اور بے چین روح کو کون محسوس کر سکتا ہے؟یہ اللہ رب العزت ہی ہے جو بندے کی فریادوں کو سنتا ہے اور اپنی حکمت کے تحت ہی انہیں استجابت کے شرف سے نوازتا ہے۔بندے کو چاہئیے کہ وہ اپنے وجود کو اللہ پاک کے حوالے کر کے بس اسی سے مانگتا رہے اور اپنے ہاں یہی امید دامن گیر رکھے کہ میرا رب میرے لئے بہترین فیصلے کر ڈالیں گے۔اسی بھروسہ اور اعتماد سے بندے کے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ استجابت تک بندے کو صبر کے بہت سارے گھونٹ پینے پڑیں،جنہیں دوسروں کو پلانا تو آسان ہے لیکن خود ایک ایک گھونٹ پی کر پتہ چل جاتا ہے کہ ان کو پینا کتنامشکل ہوتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس رب العٰلمین نے بندے کو’’اشرف المخلوقات ‘‘کے لقب سے نوازا ہے، وہ زندگی کے مختلف موڑوں پر اسے اکیلے اور بے یارومددگار چھوڑے گا۔وہ اپنے بندے کو اپنے دربار میں سجدہ ریز دیکھ کر فرشتوں کے سامنے اس کی قدرومنزلت کو بڑھا دیتے ہیں اور اسے اُس مقام پر فائز کر دیتے ہیں کہ فرشتے بھی رشک کرنے لگتے ہیں۔یہ رتبہ آنکھ بند کر کے نہیں دیا جاتا بلکہ عرش پر بندے کی دل کی گہرائیوں میں اٹھتے ہوئے موجوں کو چک کیا جاتا ہے،اس کے خیالات اور وساوس کو تولا جاتا ہے،اس کے امنگوں اور ولولوں کو جانچا جاتا ہے،اس کے درد کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کی روح کی سمت کو دیکھا جاتا ہے۔رب کو پکار کر اس کے فیصلوں کا انتظار کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے،جو بندے کو رب کے دربار کی طرف بار بار کھینچ کر لاتا ہے۔جو بندہ بھی رب کے فیصلوں پر راضی نہیں رہتا اسے بالآخر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
 دعا کے ضمن میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بہت کچھ لکھا ہے لیکن کئی جگہوں پر انہوں نے ایسی تحریریں لکھی ہیں کہ پڑھ کے ہی انسان اندر سے ایک ٹھنڈک سی محسوس کرتا ہے اور آناً فاناً وہ رب کے در کا فقیر بن کر اپنے سارے معاملات کو اللہ کے سپرد کر ہی دیتا ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں:دعا کی حقیقت الله تعالیٰ کے دربار میں درخواست پیش کرنا ہے،جس طرح حاکم کے یہاں درخواست دیتے ہیں،کم سے کم دعا اُس طرح تو کرنا چاہیے کہ درخواست دینے کے وقت آنکھیں بھی اسی طرف لگی ہوتی ہیں،دل بھی ہمہ تن اُدھر ہی ہوتا ہے،صورت بھی عاجزوں کی سی بناتے ہیں،اگر زبانی کچھ عرض کرنا ہوتا ہے تو کیسے ادب سے گفتگو کرتے ہیں اور اپنی عرضی منظور ہونے کیلئے پورا زور لگاتے ہیں اور اس کا یقین دلانے کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہم کو آپ سے پوری امید ہے کہ ہماری درخواست پر پوری توجہ فرمائی جائے گی،پھر بھی اگر عرضی کے موافق حکم نہ ہوا اور حاکم عرضی دینے والے کے سامنے افسوس ظاہر کرے کہ تمہاری مرضی کے موافق تمہارا کام نہ ہوا تو ہم فوراً یہ جواب دیتے ہیں کہ حضور مجھ کو کوئی رنج یا شکایت نہیں ہے،اس معاملہ میں میری پیروی میں کمی رہ گئی تھی یا قانون ہی دوسرا تھا،حضور نے کچھ کمی نہیں فرمائی اور اگر اس حاجت کی آئندہ بھی ضرورت ہو تو ہم کہتے ہیں کہ مجھ کو نا امیدی نہیں،پھر عرض کرتا رہوں گا اور اصلی بات تو یہ ہے کہ مجھ کو حضور کی 
مہربانی کام ہونے سے زیادہ پیاری چیز ہے،کام تو خاص وقت یا محدود درجہ کی چیز ہے،حضور کی مہربانی تو عمر بھر کی اور غیر محدود درجہ کی دولت اور نعمت ہے۔ہم مسلمانوں کو دل سے غور کرنا چاہیے۔دعا مانگنے کے وقت اور دعا مانگنے کے بعد جب اس کا کوئی نتیجہ ظاہر نہیں ہوتا،تو کیا ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہی برتاو کرتے ہیں،سوچیں اور شرمائیں،جب ہم یہ برتاو نہیں کرتے تو اپنی دعا کو دعا یعنی درخواست کس منہ سے کہتے ہیں۔واقع میں کمی ہماری ہی طرف سے ہے،ہماری دعا درخواست ہی نہیں ہوتی،جب ہم اس طرح دعا مانگیں گے،تو پھر دیکھیں کیسی برکت ہوتی ہے اور برکت کا یہ مطلب نہیں کہ جو مانگیں گے،وہی مل جائے گا،کبھی تو وہی چیز مل جاتی ہے،جیسے:کوئی آخرت کی چیزیں مانگے،کیونکہ وہ بندہ کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے البتہ اس میں ایمان اور اطاعت شرط ہے کیونکہ وہاں کی چیزیں قانوناً اُسی شخص کو مل سکتی ہیں اور کبھی وہ چیز مانگی ہوئی نہیں ملتی جیسے:کوئی دنیا کی چیزیں مانگے کیونکہ وہ بندہ کے لئے کبھی بھلائی ہے کبھی برائی،جب اللہ تعالی کے نزدیک بھلائی ہوتی ہے اس کو مِل جاتی ہے اور جب بُرائی ہوتی ہے تو نہیں ملتی جیسے:باپ بچہ کو پیسہ مانگنے پر کبھی دے دیتا ہے اور کبھی نہیں دیتا، جب وہ دیکھتا ہے کہ یہ اس سے ایسی چیز خرید کر کھائے گا جس سے حکیم نے منع کر رکھا ہے۔تو برکت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مانگی ہوئی چیز مل جائے بلکہ برکت کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرنے سے حق تعالیٰ کی توجہ بندہ کی طرف ہوجاتی ہے،اگر وہ چیز بھی کسی مصلحت سے نہ ملے تو دعا کی برکت سے بندہ کے دل میں تسلّی اور قوت پیدا ہوجاتی ہے اور پریشانی اور کمزوری جاتی رہتی ہے اور یہ اثر حق تعالیٰ کی اس خاص توجہ کا ہوتا ہے جو دعا کرنے سے بندہ کی طرف حق تعالیٰ کو ہوجاتی ہے اور یہی خاص توجہ اجابت اور دعا کی قبولیت کا وہ یقینی درجہ ہے جس کا وعدہ حق تعالیٰ کی طرف سے دُعا کرنے والے کے لئے ہوا ہے اور مانگی ہوئی ضرورت کا عطا فرما دینا یہ اجابت اور قبولیت کا دوسرا درجہ ہے،اس کو ایک مثال سے سمجھنا چاہیے،کوئی حکیم سے درخواست کرے کہ میرا علاج فلاں دوا سے کردیجیے،تو اگر حکیم علاج شروع کردیں،تو یہ سمجھا جائے گا کہ علاج کی منظوری حاصل ہوگئی اور یہی اصل منظوری ہے،باقی حکیم سے کسی خاص دوا کا مطالبہ اس کی منظوری حاصل ہونا ضروری نہیں ہے،کبھی حاصل ہوجائے گی اور کبھی نہیں ہوگی،اس بارے میں حکیم مریض کی مصلحت دیکھے گا۔(ماخوذ از حیاة المسلمین)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مضمون جاری ہےباقی اگلے ہفتے)