دولت ِبیدار کا بخشندہ۔ گوپی چند نارنگ مختصر تعارف

 ف۔س۔اعجاز

 

نظریہ ساز اردو نقّاد و محقّق ، ما ہرِلسّانیات واسلوبیات گوپی چند نارنگ 15 جون 2022 کو شارلٹ ، امریکہ میں 91 سال کی عمر میں اپنے بیٹے ترون نارنگ کے گھر میں انتقال فرما گئے۔ نارنگ انوکھی صفات کا مجموعہ تھے۔ معلّمِ اردو ،منفرد ادیب، سیمیناروں ، کانفرنسوں اورعلمی تقریبات کے بے مثال انتھک منتظم ، کارواں ساز شخصیت کے مالک ، اردوزبان کی بقا کے لئے ہر ممکن اقدام کرنے والے گوپی چند نارنگ کی ہمسری کا دعویٰ کوئی نہیں کرسکتا ۔ اردو کو وہ تکثیر ی سماج کی علامت گردانتے تھے۔ تحریکِ آزادی اوراردو شاعری ، اردو غزل اور ہندوستانی ذہن وتہذیب جیسی اپنی کتابوں میںیہ بات انہوں نے بارہا پورے پورے جواز کے ساتھ لکھی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ زبانوں پر گفتگو کرتے ہوئے جنونیت اور انتہا پسندی کو رَد کردینا چاہئے۔ ان کا لسّانی نظریہ سائنسی علم اورباہمی رواداری پر مبنی تھا۔ گرچہ نارنگ اردو کو اُس کے اصل رسم الخط کے ساتھ برقرار رکھنے کے حامی تھے لیکن اردو اورہندی کی خلقی حقیقت [یا فطرت] کو برّصغیرکے لسّانی تاریخی پس منظر میں دیکھتے تھے۔ دونوں زبانوں میں انہیں گوشت اور خون کا رشتہ نظر آتا تھا۔ ان کے نزدیک ہندی کے بغیر اردو اردو نہیں تھی اور اسی طرح ہندی بھی اردو کے بِنا مکمل نہیں تھی۔ ہندی اورسنسکرت سے اردو نے بہت کچھ لیا ہے۔ گرامر میں بھی اور صوتی نظام میں بھی اردو نے ہندی اور سنسکرت کے اثرات قبول کئے ہیں۔ اردو میں فارسی اورعربی کا ہر تلفّظ ادا کیا جاسکتا ہے لیکن ٹ، ڑ، ڈ جیسے حروف کی آوازیں اردو میں سنسکرت اورہندی سے ہی آئی ہیں۔عربی میں پ اور گ حروف بھی نہیں ملتے ۔ نارنگ ماہرِ السنہ تھے۔ زبانوں کی ایجاد اورحروف کے مخرج پر غورکرنا ان کی علمی ضرورت تھا۔ اردو اپنے اسکرپٹ میں ہند آریائی زبان ہے لیکن دراوڑی  لہجوں سے بھی متاثر ہے اور ان تمام عناصر نے اردو کو اس طرح مکمل کیاہے کہ ہندوستان کے تکثیر ی نظام میں اسے سب سے الگ مقام حاصل ہے۔ ہر زبان کا رسم الخط اپنی پہچان اور خوبصورتی رکھتا ہے۔ اس لئے ہرزبان کی اصلیت اور انفرادیت کو برقرار رہنا چاہئے۔

گوپی چند نارنگ11فروری 1931 کو بلوچستان کے ضلع دُکّی کے گاؤںلورالائی میں پیدا ہوئے جوتب موجودہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک گاؤں تھا۔ تقسیم کے بعد 1947میں وہ سانحۂ کوئٹہ کے بعد اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ریڈکراس کے جہاز سے اپنی والدہ کے ساتھ دہلی منتقل ہوئے۔ ان کے والد ملازمت سے سبکدوش ہوکر1956میںدہلی آئے۔ گوپی چند نارنگ نے دہلی کالج سے اردو میں ایم اے کیا۔ 1958 میں وزارت تعلیم کے تحت ریسرچ فیلوشپ مکمل کرکے پی۔ ایچ ۔ڈی کی۔ سینٹ اسٹیفنس کالج سے 1957-58 میںدرس و تدریس کا آغازکیا۔ اس کے بعد دہلی یونیورسٹی میں لیکچرر اور 1961 میں ریڈ ر ہوئے۔ 1963 اور 1968 میں وسکونسِن یونیورسٹی امریکہ میں وزِٹنگ پروفیسر ہوئے ۔ اُسی دور میںمِنے سوٹا یونی ورسٹی اوراوسلو یونیورسٹی ، ناروے میںبھی تعلیم دیتے رہے۔ساتھ ہی اٹلی کی راک فیلر یونیورسٹی کے وزِٹنگ فیلو رہے۔ 1974سے تک 1981 تک جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں شعبۂ اردو میں پروفیسر رہے۔ 1981- 82 میں جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے قائم مقام وائس چانسلر تھے۔ 1986 سے 1995 تک دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر رہے۔2005سے دہلی یونیورسٹی میںاور 2013سے جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں  پروفیسر ایمریٹس ہوئے۔ دہلی یونیورسٹی میں اردو کا شعبہ نارنگ کے مشفق استاد اوررہنما خواجہ احمد فاروقی کے زیر قیادت وزیر اعظم پنڈت نہرو کی خیر خواہی سے قائم ہواتھا۔ اس سلسلے میں فاروقی صاحب کے ساتھ نارنگ کی جدوجہد کا احوال نارنگ کی کتاب ’’خواجہ احمد فاروقی کے خطوط گوپی نارنگ کے نام‘‘ سے معلوم ہوتاہے۔ اپنے استاد فاروقی صاحب سے نارنگ کا از حد جذباتی لگاؤ تھا۔

نارنگ  صاحب کے نصیب میں ملک اوربیرون ملک سے کئی قابل فخر اعزازات آئے۔2004میں پدم بھوشن کا اعزاز ملا۔ 1995 میں ان کی کتاب ’’ساختیات ، پس ساختیات ، مابعد جدیدیت ‘‘ پرساہتیہ اکادمی ایوارڈ ، غالب ایوارڈ  (1985)، صدر پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز(2012 )، اقبال سمّان ، کسُم انجلی فونڈیشن ایوارڈ بھیحاصل ہوئے۔ 2002 میںمجلس فروغ اردو ادب، درجہ، قطر کے ایوارڈ سے سرفراز کئے گئے۔ (اس ادارے کے وہ 1996سے بابِ ہند کے جیوری چیئرمین بھی رہے)۔

پروفیسر نارنگ کی پاکستان میں بھی اسی قدر عزت تھی جتنی ہندوستان میں۔ بقول ناول نگار و افسانہ نویس انتظار حسین ’’وہ (نارنگ) جب پاکستان آتے ہیں ہندوستان کو ایک اکائی کی صورت میںپیش کرتے ہیں۔ یہ بات میں کسی اور کے لئے نہیںکہہ سکتا۔ جب وہ اسٹیج پرآتے ہیں ہمیںمحسوس ہوتا ہے کہ پورا ہندوستان مجموعی طورپرہم سے مخاطب ہے‘‘۔ ہندی افسانہ نگارکملیشور کا یہ قول مشہور ہے کہ ہرزبان کو ایک گوپی چند نارنگ کی ضرورت ہے۔ نارنگ کی مقبولیت اورتعظیم ہر اس ملک میںتھی جہاں وہ جاتے تھے۔ انہوں نے کئی ممالک کا سفر کیا اورہر جگہ اردو کی خوشبو اور روشنی پھیلائی۔ نہ صرف انہیں دنیا میں اردو کا سفیر سمجھاجاتاتھا بلکہ حقیقتاً وہ اردو کے سفیرہی  معلوم ہوتے تھے ۔ (میں اس کا شاہد ہوں کیونکہ اتفاق سے چند ممالک میںہم دونوں ہمسفر رہے)۔ وہ ساہتیہ اکادمی کے صدر رہ چکے ہیں چند سال قبل انہیں ساہتیہ اکادمی کا فیلو شپ اعزاز بھی دیاگیا جو اکادمی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ مختلف اعلیٰ اداروں اور یونیورسٹیوں کے باوقار اعزازات سے نوازے گئے تھے۔ جن میں سرسیّد نیشنل ایکیسلینس ایوارڈ بھی شامل ہے۔ اٹلی کامیزینی گولڈ میڈل یا جو اعزاز بھی انہیں ملا ان کے چاہنے والوں کو لگتا تھا کہ وہ اعزاز اردو کو ملا ہے۔

مشہور اردو فکشن رائٹر قرۃ العین حیدر نے ایک بار  گوپی چند نارنگ کو اردو کا ’’مرد ِرینے ساں‘‘ (Renaissance man)قراردیاتھا) ۔ نارنگ اپنی زندگی کو اردو زبان وادب کی راہ میں سفرِ عشق سے تعبیر کرتے تھے۔ گرچہ ان کی مادری زبان سرائیکی تھی لیکن اپنی تقریروں میں اردو کو وہ تمام زبانوں میں تاج محل کا درجہ اورملک کی مختلف قومیتوںمیں رابطے کا پُل قراردیتے تھے۔ اردو کی چاہ میںیہ شعرا کثر وہ اپنی تقریروں میں دہراتے تھے:

اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں

اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں

وہ کہتے تھے اردو میری ضرورت ہے، میں اردو کی ضرورت نہیں ہوں۔ ان کی شخصیت اتنی بلند تھی کہ ان سے قریب ہونے کا ارمان یا ان کے ذریعہ انعام واعزازپانے کی خواہش کرنے والوں کی کمی کبھی نہیں رہی۔ اوراپنا مطلب پورا ہوجانے کے بعد انہیں چرکہ یاہزیمیت دینے والوں کی بھی کمی نہ تھی۔ لیکن وہ نڈر بلوچ تھے اور دشمنوں کو ان کی کرنسی میں جواب دینے کی اہلیت بھی ان میںخوب تھی۔بقول یوسف ناظم وہ ’’نا۔رنگ‘‘ تھے جس پر کوئی رنگ نہیں چڑھتا ۔ طاقتور ارادوں کے آدمی تھے۔ اپنی تقریروں میںیہ بات اکثر کہتے تھے ’’خدا کا شکر اداکرتاہوں کہ اس نے مجھے حاسد نہیں محسود بنایا ہے‘‘۔ موصوف میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ کسی سے اپنے آزمودہ دوستوں کی بُرائی سننا گوارا نہیںکرتے تھے۔ (میں اس کا گواہ ہوں)۔

گوپی چند نارنگ 45 اردو اور 15 انگریزی و ہندی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی سبھی کتابوں کا ایک نظر یا ایک نظریہ سے جائزہ نہیں لیاجاسکتا۔ سب کے موضوع الگ ہیں اورہر کتاب قاری سے ایک الگ ویژن کا مطالبہ کرتی ہے۔ حالیہ کتابوں میں ’’غالب ، معنی آفرینی، جدلیاتی وضع ، شونیتا اور شعریات‘‘ مطالعۂ غالبیات کے کئی نئے رخ دکھاتی ہے۔ کسی متن کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ اس کے صرف نصابی یا جامعاتی پہلو پر غور کرنے تک خود کو محدود نہیں رکھتے تھے۔ معنی کی تلاش میں وقت کی حر َکی صفات ان کے پیش نظر ہوتی تھیں۔ اس میں شک نہیں کہ اطلاقی تنقید وقت کی نئی کروٹوں کے ساتھ لفظوں کے مفاہیم بدل سکتی ہے ۔ اگر اس نظریہ پر گوپی چند نارنگ کاربند نہ ہوتے توغالب ، معنی آفرینی ، جدلیاتی وضع شونیتا جیسی کتاب نہیں لکھ سکتے تھے۔ یہ مانا کہ لکھا ہوا لفظ ٹھہری ہوئی شے بن جاتاہے ۔ لیکن ضروری نہیں کہ معنی کے پاؤں میں وقت بیڑی ڈال دے۔ وقت زبان کا تناظر بدل سکتاہے (اور بدل بھی دیتا ہے) وہ  معنی کی کروٹ بدل سکتا ہے۔ نظریہ ساز نقاد اگر اعلیٰ محقق بھی ہوتو تاریخی حقائق پرنئی شعوری نگاہ ڈال کر متن سے نئے مفاہیم برآمد کر لیتاہے۔ نارنگ اس جدید نظریہ کے حامی تھے کہ لکھاری نہیں لکھتا ، متن لکھتا ہے ۔’’ادب کا بدلتا منظرنامہ‘‘ اور ’’تحریک آزادی اور ہندوستان کی اردو شاعری ‘‘ یا ’’ ترقی پسندی ، جدیدیت، مابعد جدیدیت ‘‘جیسی کتابیں جو نارنگ نے لکھیں اس کے پیچھے ان کا تاریخی حقائق کا از سر نو جائزہ لینے کاجتن شامل ہے۔ بڑے تنقیدی کام یا کارنامے سکّہ بند ذہنوں کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ نارنگ کے مضامین چاہے امیرخسرو پرہوں، میر وغالب پر ہوں ، دلی کی کرخنداری بولی پر ہوں ، ساحر لدھیانوی کے بھجنوں پر ہوں ، فراق، فیض ، قرۃالعین حیدر، انتظار حسین پر ہوں ادب میں سموئی اور سوئی ہوئی تہذیب و ثقافت کو جگاتے ہیں۔ ان پر کئی رسالوں کے خاص شمارے نکلے اور کتابیں شائع ہوئیں۔ لیکن انشاء کا خاص نمبر سب سے زیادہ اہتمام سے نکلا ۔اورعالمگیر اہمیت کا حامل ہے۔  اندیشہ اب اس کا ہے کہ اس زمانے کے  آخری بیدار ذہن اردو نقاد کے دنیا سے کوچ کرجانے کے بعد اردو تنقید خدانہ کرے کہ لمبی نیند سوجائے۔ اردو زبان وادب کو اس دولتِ بیدار کے بخشندہ گوپی چند نارنگ کے کارناموں اور یاد وں کو سلام !

[email protected]