دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 6.3 فیصد

نئی دہلی//یو این آئی// رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی جولائی تا ستمبر 2022 کے دوران مستقل قیمتوں (بنیادی سال 2011-12) پر ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ یہ اطلاعات وزارت شماریات اور پروگرام کے نفاذ کے قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کی طرف سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار میں دی گئی ہے ۔مالی سال 2022-23 کی پہلی سہ ماہی میں ترقی کی شرح 13.5 فیصد تھی اور مالی سال 2021-22 کی دوسری سہ ماہی میں شرح نمو 8.4 فیصد تھی۔ کووڈ کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کی شرح نمو میں کمی کے مقابلے اس سال شرح نمو کے اعداد و شمار زیادہ پرکشش نظر آتے ہیں، لیکن موازنہ کی بنیاد آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے ۔این ایس او کے اعداد و شمار کے مطابق مستقل قیمتوں پر ہندوستان کی جی ڈی پی کا تخمینہ 2022-23 کی دوسری سہ ماہی میں 38.17 لاکھ کروڑ روپے ہے جبکہ مالی سال 2021-22 کی اسی سہ ماہی میں 35.89 لاکھ کروڑ روپے تھا۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2022 کی سہ ماہی میں موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی 65.31 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 16.2 فیصد زیادہ ہے ، جبکہ مالی سال 2021 کی دوسری سہ ماہی میں موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی -22 56.20 لاکھ کروڑ روپے تھا۔اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالیاتی سال کی پہلی ششماہی میں مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی 9.7 فیصد کی ترقی کے ساتھ 75.02 لاکھ کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے ۔ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی 13.7 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ 68.36 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی کا تخمینہ 130.26 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے ، جو ایک سال پہلے کی اسی مدت میں 107.47 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے میں 21.2 فیصد اضافہ دکھاتا ہے ۔ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی میں سال بہ سال 25 فیصد اضافہ ہوا۔