دورِ جدید میں جہالت کی راہیں! بیٹے کا جنازہ باپ کےکندھے

ناصر شاہؔ
اللہ ربُّ العزت کا احسان وکرم ہے جس نے ہمیں ایمان عطا کیا اور ہمیں مسلمان ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اسکی عطا کی گئی نعمتوں کا ہم کبھی اندازہ نہیں لگا سکتے۔ہم خود بھی کبھی اس بات کی طرف اپنی عقل وشعور یا اپنے توجہ کو مبذول نہیں کرتےکہ ہم تو لاتعداد چیزوں اور نعمتوں سے سرفراز ہوئے ہیں۔ آخر یہ آیا کہاں سے یہ چیزوں خود ہی ہماری زندگی کا حصہ نہیں بنیں بلکہ انکو ہمارے لئے مہیا رکھنے والا بھی کوئی ہے۔دراصل اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں اس کا ذکر کرتا ہے۔’’اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔‘‘اس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔انہی نعمتوں میں ایک بیش قیمتی نعمت جسے ہم ’’زندگی‘‘کہتے ہیں خاصی اہمیت کی حامل ہے۔نعمتیں تو ساری عزیز اور قیمتی ہیں مگر زندگی کا مقام ہی کچھ منفرد اور نمایاں ہے۔زندگی قدرت کی طرف سے عطا کی گئی وہ بیش قیمتی شۓ ہے جو انسان کو ایک بار ہاتھ آتی ہے۔اور ہم اس نعمت کو پروا کئے بغیر یوں ہی گزارتے ہیں جیسے یہ ہماری اپنی ملکیت ہے اور جسکا ہم پورا حق رکھتے ہیں۔زندگی اللہ کی طرف سے عطا کی گئی ایک امانت ہے جس کی خیانت کرنا ایک مسلمان کا شیوا نہیں ہونا چاہئے۔امانت کو امانت کے طور لوٹانا ایک مسلمان کی اصل پہچان کی دلیل ہے۔امانت کی خیانت کرنے والے کو اللہ کبھی پسند نہیں کرتا۔ہمارا ایمان ہے کہ خیر اور شر اللہ کی طرف سے ہے اور اسکا اعتراف ہم پہلے ہی کرچکے ہیں۔جب ہم یہ بات تسلیم کر چکے ہیں تو کیوں ناامیدی کا شکار ہوتے ہیںاور اپنی زندگی کو سنوارنے اور اسکا صحیح حق ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔قرآن کریم میں آیا ہے ’’ناامیدی کفر ہے۔‘‘
زندگی جینے کا نام ہے اور جو جیتے ہیں کمال کرتے ہیں۔نادان لوگ مرنے سے پہلے کئی بار مرتے ہیں اور دانا لوگ کبھی مرتے نہیں ہیں مگر ایک بار۔ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ مقررہ وقت پر ان کو اس دنیا سے جانا ہے۔تو کیونکر موت سے پہلے کئی بار مریں۔موت سے پہلے کئی بار مرنے سے میرےکہنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ موت کے مقررہ کردہ وقت تک کئی بار مرتے ہیں، انکی زندگی میں معمولی سی کوئی تکلیف آئے، معمولی سا کوئی مسئلہ درپیش آئے، زندگی کی آرزو چھوڑتے ہیں اور زندگی کو یوں ہی ضایع کرکے چھوڑتے ہیں۔ دراصل زندگی چلنے کا نام ہے، راستے میں آپ کو تکلیفیں بھی جھیلنی پڑیں گی مگر آپ کو ڈٹ کر ان کا سامنا کرنا ہے اور ان کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا ہے بلکہ مسلسل رب کا شکرادا کرتے رہنا ہے۔اپنی زندگی سے محبت کرنا سیکھیں۔تب جاکر آپ اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔نوجوانی خود ہی اس چیز کی دلیل ہے کہ وہ عظیم ہیں اور نوجوانوں سے  بہت ساری امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، خواہ وہ سماجی ذمہ داری ہو ،گھر کی ہو یا دینی، غرض نوجوان ہی قوم میں بجھائی ہوئی شمع روشن کرسکتا ہے۔نوجوان کو قوم کا معمار کہا گیا ہے۔نوجوان اگر چاہے تو قوم میں انقلاب برپا کر سکتا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب نوجوان میں حوصلے کی پختگی اور قوت ِارادی کی صحیح کرن موجود ہو۔نوجوان اگر چاہے تو قوم کو نئی بلندیوں سے روشناش کرائیںگے۔نوجوان والدین کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔
جس طرح باغبان اپنے باغات میں ابتداء سے لیکر پروان چڑھنے تک دن دگنی رات چگنی محنت و مشقت کرتا ہے۔ٹھیک اسی طرح والدین بھی اپنے نوجوان اولاد کی فکرمندی میں اپنی پوری زندگی صرف کرتے ہیں۔خود تو مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور اپنے اولاوں کی فکر میں وہ سارے چیزیں میسر کرتے ہیں جنکی وہ فرمائش کرتے ہیں۔وہ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیںتاکہ بڑھاپے میں وہ ان کا سہارا بنیں گے ۔اگر یہی نوجوان خود کو ہلاکت میں ڈال کر اپنی زندگی خطرے میں ڈالے،تو آپ ہی بتائیں کیا وہ صحیح معنوں میں ماں باپ کی اُمیدوں پہ کھرا اترتا ہے، کیا وہ واقعتاً اپنے فرائض اور اپنی ذمہ داریوں کی لاج رکھتا ہے۔اصل میں جس چیز کی طرف مجھے آپکا دھیان لے جانا ہے وہ یہ کہ دنیا کے مختلف ممالک میں خوشیوں کے تہوار جوش وخروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔مسلمان بھی عیدین کے تہوار کافی جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہماری نوجوان نسل خوشیوں کے ان موقعوں پربھی اپنی کم عقلی،غلط روی ، جلد بازی اور بے راہ روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتےہوئے نظر آرہے ہیں،اور اپنے والدین ،رشتہ داروں،ہمسایوںاور اپنے دوستوں کو المناک درد میں ڈبو دیتے ہیں،جس کے نتیجے میں اُن کی خوشیاں غم میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ہم اکثر دیکھتے اور سُنتےچلے آرہے ہیں کہ اب ہمارے یہاں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا ،جس دن کہیں نہ کہیںکسی سڑک حادثے میںانسانی جان تلف نہیں ہوتی رہتی ہےاور اُس کے متعلقین میں ماتم بچھ جاتی ہے۔
نہ معلوم کیوں ہماری نوجوان نسل اس صورت حال کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اپنی خُو بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔وہی کچھ کرتے چلے جاتے ہیں ،جس سے دوسروں کی زندگی درد ناک بن جاتی ہےجبکہ حیرت ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارےنوجوان اس سے کوئی عبرت بھی حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنی روایتی جہالت سے کام لے کر جہاں لوگوں کی زندگیاں اجیرن بناتے ہیں ، وہیںاپنے والدین کی اُمیدوں پر بھی پانی پھیر دیتے ہیں۔نوجوان نہ صرف عیدین یا کسی اور تہوار کے موقعے پر بلکہ ہر وقت میں اپنی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے رہتے ہیں اورتیزرفتاری کے ساتھ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے چلانے سے اپنی زندگیوں کو موت کی آغوش میں لے جاتے ہیں۔ موت اگرچہ برحق ہے مگر خود کشی بھی تو دین اسلام نے حرام قرار دی ہے۔یہ بات میں یہاں واضح کرنا چاہوں گا، میں یہاں سماج کے ایک خاص طبقے سے مخاطب ہوں، سارے اس گروہ میں نہیں آئیں گے۔والدین کو آرزو ہوتی کہ ہمارا بیٹا مرنے کے بعد انکے جنازے کو کاندھا دے گا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں اکثر جنازوں میں والدین کو اپنے نوجوان بیٹوں کے جنازوں کو کاندھا دینا پڑتا ہے۔اس لئے نوجوانان ملت کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کریں،انکے سماج کے تئیں جوذمہ داریاں دی گئی ہیں،اُن کو خوب اچھی طرح جانیں ۔اپنے والدین کا سہارے بنیںاور دین کےتئیں انہیں جو کام سونپے جاچکے ہیں،اُن کو بروئے کار لائیںاور اپنی زندگی کو ربّ کی امانت سمجھ کر امانت کے طور ہی واپس لوٹائیں، تب جاکر وہ دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی منزل مقصود تب پہنچ سکیں گے۔اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین