دورِ جدّت میںجدید ٹیکنالوجی کے کمالات پیچیدہ امراض کی تشخیص بھی آسان ہوگئی

پروفیسرعطاء الرحمٰن

جدت سے بھر پور ٹیکنالوجی دنیا کا نقشہ بدلنے میںنہ صرف اہم کردار ادا کررہی ہیں بلکہ لوگوں کو حیرانی میں بھی مبتلا کررہی ہیں ۔ایسی ایسی ایجادات منظر ِعام پر آرہی ہیں ،جن کے بارے میں کبھی سوچابھی نہیں تھا ۔ان جدید ٹیکنالوجیز میں سے چند کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے ۔
کینسر کی ابتدائی تشخیص میں ڈرامائی ترقی : ۔
ہر سال 80 لاکھ افراد کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کے ساتھ اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ اس وقت شناخت ہوتا ہے جب یہ کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔ پھیپھڑے کے کینسرمیں رسولی (ٹیومر) اس وقت نظر آتی ہے جب اس کا سائز کرکٹ کی گیند کے برابر ہو چکا ہوتا ہے۔ صحت کے حوالے سے معمولی اسکریننگ میں ابتدائی کینسر کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی دیر سے تشخیص مرض کوپیچیدہ کر چکی ہوتی ہے اور اس کا علاج کافی دشوار ہوجاتا ہے ۔ Nottingham (UK) اور کنساس (امریکا) کے سائنس دانوں اور ڈاکٹروں نے 15 سال کی تحقیق کے بعد کینسر کی تشخیص کے لیے ایک سادہ سا خون کا ٹیسٹ تیار کیا ہے، جس کو اس مرض کی تشخیص کے حوالے سے اہم سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی میں کینسر کی پہلی مالیکیولی علامت کا سراغ لگانا شامل ہے جب کینسر کے خلیات بننا شروع ہوتے ہیں تو بعض مخصوص پروٹین (Antigens)پیدا ہوتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو تیز کر دیتے ہیں اوراینٹی باڈیز کی تشکیل کے ذریعے ردعمل دیتے ہیں۔
تیا رکیا گیا خون کا ٹیسٹ اس کو دریافت کرے گا اور سائنس دانوں کو بالکل درست Antigens اور اس سے منسلک اینٹی باڈیزکی شناخت میں مدد ملے گی، جس کے ذریعے زیر تشکیل کینسر کی رسولی کی قسم کی شناخت ہو سکے گی۔ یہ کام مریض کے صر ف10 mlخون سے ہو سکے گا جو کہ معمول کے ٹیسٹ میں شامل ہو گا۔اس کے ذریعے کینسر کا سراغ ابتدائی اسٹیج پر لگا لیا جائے گا جو کہ عام طو رپر قابل علاج مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ ٹیسٹ پائلٹ مطالعہ میں پھیپھڑے کے کینسر کے مریضوں کے علاج میں ڈرامائی بہتری اور 90فی صد دوسرے ٹھوس کینسر میں اہم پیش رفت کا حامل رہا ہے۔
فالج (Stroke)کا ویکیوم کے ذریعے علاج : ۔
دل کی بیماریوں کے بعد فالج دنیا بھر میں اموات کا دوسرا بڑا سبب ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والی10فی صد اموات فالج کی وجہ سے ہوتی ہیں جو کہ دماغ کو خون کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے واقع ہوتا ہے۔ یہ رکاوٹ خون میں لوتھڑوں کے بننے(Clot Formation)یا پھر خون کی شریان پھٹنے،جسے ہیمبرج کہا جاتا ہے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 80 فی صد اسٹروکIschemic Stroke ہوتے ہیں، جس میں دماغ میں لوتھڑا Clot بن جاتا ہے۔ اسٹروک کے علاج کے لیے ایک نیا طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے، جس میںbased technique vaccumکا استعمال کیا جائے گا۔
اس طریقہ کار میں خون کی شریانوں سے لوتھڑےکو باہر نکال دیا جائے گا۔ اس طریقے کا اطلاق اسٹروک کے چند گھنٹے کے اندر کیا جائے گا ،تا کہ دماغ کو خون کی سپلائی کو فوری بحال کر کے دماغ کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کو ایک کمپنی Penumbra نے تیار کیا ہے، جس میں مریض کی خون کی شریانوں میں رانوں کے درمیان جگہ میں کیتھڈرل ڈالی جاتی ہے۔
یہ کیتھڈرل گردن تک لے جائی جاتی ہے اور پھر اس میں سے ایک اور چھوٹی کیتھڈرل نمودار ہوتی ہے اور اس کو دماغ کے متاثرہ حصے تک پہنچا کر ویکیومVaccumکا استعمال کیا جاتا ہے اور پھر لوتھڑے کو اس کے ذریعے باہر کھینچ لیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کا استعمال کرتے ہوئے اب تک 72مریضوں کی زندگی بچائی جا چکی ہے۔ یہ کارنامہ Seaman MR Research Center یونیورسٹی آف کیلگری کینیڈا میں انجام دیا گیا ہے۔ تاہم، یہ صرف بڑےاسٹروک کی صورت میں کارآمد ہے نیزاس کو کامیابی سے استعمال کرنے کے لیے مناسب تربیت کی بھی ضرورت ہو گی۔
ذیابطیس مریضوں کے لیےنینو پارٹیکل ویکسین :۔
ہر 400 بچوں میں سے ایک بچہ ذیابطیس قسم اول کا شکار ہے، جس کو Juvenile Diabateseیا بچوں کا ذیابطیس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب خون کے سفید ذرّات بکھرجاتے ہیں اورلبلبے میں انسولین پیدا کرنے والے ذرّات پر حملہ کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان بچوں کے خون اور یورین میں گلوکوز کی سطح بڑھ جاتی ہے اور اگر انسولین سے علاج نہ کیاجائے تو صورت حال جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔
چناں چہ ایسے مریضوں کو مستقل انسولین دینی پڑتی ہے کیوں کہ اس کا اس کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہے،مگر اب یونیورسٹی آف کانگری البرٹا کینیڈا جولیا میک فارلینس ذیابطیس ریسرچ سینٹر میں کام کرنے والے محققین کے کام سے اُمید کی کرن نمودار ہوئی ہے، اس تحقیقی گروپ نے قسم اول ذیابطیس کا شکارچوہوں کا نینوپارٹیکل ویکسین سے کامیاب علاج کیا ۔اس میں ایسے ذرّات کا استعمال کیا گیا جو کہ خلیات کے مقابلے میں ہزاروں گنا چھوٹے تھے۔
ان ذرّات پر بعض مخصوص پروٹینی حصوں (پیپٹائڈ) کا غلاف چڑھایا گیاتھاجو کہ ذیابیطس قسم اول کے کیے مخصوص ہے۔ اس طریقہ کار کا ایک فائدہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے لبلبے میں انسولین پیدا کرنے والے خلیات پر حملہ کرنے کے رجحان کو مدافعتی نظام کے ذریعے پلٹ دیا گیا۔ جب کہ اس سے مدافعتی نظام پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوا جو کہ مختلف بیماریاں پید اکرنے والے جراثیم اور وائرس سے جنگ کے لیے ضرور ی ہے۔ اس حوالے سے ایک بایو ٹیکنالوجی کمپنی نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے، تا کہ اس کو تجارتی پیمانے پر پیش کیا جا سکے۔
DNAٹیسٹنگ ،چند گھنٹوں میں : ۔
گزشتہ صدی کے ابتدائی نصف سے مجرموں کی شناخت کے لیے انگلیوں کے نشانات کے بعد ڈی این اے ٹیسٹنگ کا طریقہ دریافت ہوا ہے۔ جائے وقوع سے نمونے حاصل کرنے کے بعد لیبارٹری میں لے جانے اور شناخت کے عمل کے مکمل ہونے میں دو ہفتے کا وقت لگ جاتا ہے جب کہ اکثر جینیاتی ٹیسٹ24 سے 27 گھنٹے لیتے ہیں ۔ چناں چہ تیز رفتاری سے انجام دیے جانے والے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جارہا ہے۔
ایری زونا میں واقع یونیورسٹی آف کینساس نے برطانیہ کی فورنسک سائنس سروس کے ساتھ مل کر نئی چپ تیار کی ہے جو کہ4گھنٹے کے اندر نتائج تیار کر دیتی ہے۔کوشش کی جارہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں مزید بہتری لا کر ٹیسٹ میں لگنے والے وقت کو کم کرکے 2گھنٹے کر دیا جائے۔ یہ ٹیکنالوجی جلد ہی تجارتی پیمانے پر پیش کر دی جائے گی۔
نینو فائبر گولیوں کی مدد سے نرم ہڈیوں کا علاج:۔
Cartilage یا نرم ہڈیوں میں آنے والے زخموں کا علاج مشکل ہوتا ہے ان کو عام طور پر خود ہی ٹھیک ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن اگرنئی بننے والی ہڈی صحیح طور سے نہ بنے تویہ عمل بہتر ثابت نہیں ہوتا، یعنی اگر وہ اسی شکل میں نہ بنے یا اس طرح کام نہ کرے جس طرح پہلے والی ہڈی انجام دیتی تھی تو یہ کام اسی طرح انجام نہیں دے پاتی ہے۔ اکثر زخم بھرنے کے عمل کو شروع کرنے کے لیے مریض کے اپنے خلیات انجکشن کی مدد سے ہموار اندازسے داخل کردیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ان خلیات کو زخم کے گرد ہموار انداز سے داخل نہ کیا جائے تویہ طریقہ قابل اطمینان نہیں ہوتا۔(جاری)