دورِحاضرہ اورمسلم معاشرے!

 حین حیات اور بعد از وفات تاریخ کے شفق پے بدر منیر کی مانند تاباں و درخشاں ایک عظیم کردار کے خلوص کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے آج پھر,ایک مدت کے بعد لاحاصل مشغولیات کے شکنجے سے قدرے فراغت ملتے ہی ضمیر نے انگڑائی لی اور دل و دماغ نے قلم زنی کے لئے مستعد کر دیا۔بہت شوق سے اور بڑی محبت سے قارئین کی نذر یہ سوغات پیش کرونگا،اس آرزؤ کے ساتھ کہ کہیں کوئی اس سوغات کو اپنی لوح مغز میں جما کر اور تخت دل پے سجا کر کسی روبہ زوال معاشرے یا فرد کے سفینہ حیات کو غرقاب ہونے سے بچانے کی ٹھان لے۔ برق رفتاری سے بدلتے ہوئےانسانی معاشرے کے اندر اشرف المخلوقات کی تصویر کے ساتھ سمٹتے ہی جا رہے ہیں اور احتمال اغلب ہے کہ عنقریب ایسا دور آنے والا ہے کہ صفحہ ہستی پے انسان صرف خد وخال سے انسان نظر آئینگے مگر اعمال اور کردار سے بہیمیت کی ساری حدوں کو توڑ کر نفس امارہ کی آہنی زنجیروں میں یاجوج ماجوج کی مانند جکڑ کر صرف اور صرف اپنی انا کی تسکین کو زندگی کی معراج سمجھیں گے اور حالت جب ایسی ہوگی تو اپنے نفس کے تقاضوں کی تکمیل کے وقت شکار چاہے زندہ ہو یا مردہ حد فاصل کو ایک فرسودہ عمل سمجھ کر نشانہ سادھ لیا جائیگا،یوں کمزوروں کی زندگی اجیرن بھی اور عذاب بھی بنکر رہ جائیگی۔ دنیا بھر کے معاشروں میں اس صورتحال کا آغاز ہو چکا ہے گو کہ کہیں کم تو کہیں زیادہ۔
یہ صورتحال کیونکر ابھر رہی ہے۔ اسکا سب سے بڑا سبب تاریخی کرداروں کے اسباب عظمت کی نسبت لا علمی ہے۔گو کہ ہر دور میں اور ہر مذہب میں ایسے کردار پیدا ہوتے رہے ہیں جنکی سوانح حیات کی جانکاری انسانی مزاج سے زہر یلے مواد کو خارج کرکے جذب باہم کی شیرینی اور اخلاص عمل کی لذت کو رگ و پے میں شیر وشکر کردیتی ہے۔جب انا فنا ہو جاتی اور جب حب جاہ و جلال اور مال و منال کو انسانی ڈھانچے کے طول و عرض میں کوئی گوشہ قرار نہیں ملتا ہے تو پھر کچھ ایسا کردار ابھرتا ہے، جس سے عرش و فرش کی وسعتوں میں مہک چھا جاتی ہے ۔اس لئے آج ایک ایسی عظیم شخصیت کا ذکر اس قلمی تصویر کا سبب ہے جنہیں حق گوئی کی خاطر وطن سے دور توحید کی قندیلوں کو چراغاں کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی بد حالی کی زنجیروں کو بھی توڑنا تھا اور جو آج جنت البقیع میں محو استراحت ہے۔صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ کی رہنمائی نے صراط مستقیم کی راہ دکھا دی مگر ایام جہالت میں بھی شراب سے نفور ہی نہیں تائب بھی تھے۔صراط مستقیم کا چراغ در دست لیتے وقت عمر کی تیس بہاریں دیکھ چکے تھے اور حق گوئی کی صفوں میں شامل ہوتے ہی ابتلاوں کے دور کا آغاز ہوا۔اصلی نام عبد عمرو تھا مگر سپاہ سالار قافلہ محمد الرسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عبد الرحمان ابن عوف ؓرکھ دیا۔ پہلے حبشہ کی طرف تو پھر مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی، جہاں پہ سب سے زیادہ مالدار اور فیاض طبع حضرت سعد ابن ربیع سے رسول الله ؐنے مواخات یعنی بھائی چارہ کروایا۔سعد ابن ربیع نے نصف مال پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ایک رفیقہء حیات کو طلاق دے کر انکے نکاح میں دینے کی پیش کش کی مگر عبد الرحمان کی غیرت کو یہ گوارا نہ ہوا بلکہ تجارت کو ذریعہ معاش بنایا۔زیادہ زمانہ گذر نہ پایا تھا کہ عظیم الشان دولت کے مالک ہو گئے۔ایک بار انکا تجارتی قافلہ مدینہ میں آیا تو ان میں سات سو اونٹوں پر گہیوں اور آٹا بشمول دیگر اشیائے خوردنی لدا تھا۔ اس عظیم الشان تجارتی قافلے کا پورے مدینے میں چرچا ہوا۔جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓکو خبر ہوئی تو فرمایا کہ محمد الرسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عبد الرحمان ابن عوف ؓ جنت میں رینگتے ہوئے آئیں گے۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا تو عائشہ صدیقہ ؓ کے سامنے حاضر ہوئےاور حضرت عائشہ ؓسے مخاطب ہو کر فرمایا میں آپکو گواہ بنا کر یہ سارے اونٹ مع اسباب و کجاوے راہ خدا میں وقف کر دیتا ہوں۔ وہاں دستور تھا کہ جو جتنا دولت مند ہوتا اسکا دست کرم اتنا ہی کشادہ اور طبیعت فیاض مگر یہاں یہ دستور ہے جو جتنا مالدار وہ اتناہی مغرور اور حاتمندوں سے بے نیاز ۔شمع رسالتؐ کے سایوں میں پروردہ کرداروں نے ہر میدان میں انسانیت کو جلا بخشی۔اخلاص و ایقان کی رفعتوں کو پانے کے لئے مالی و جانی قربانیوں کا سلسلہ تا دم آخر جاری رکھا۔سورت برأت نازل ہوئی ،ہادیٔ اعظم خیرات کی ترغیب دے رہے تھے تو عبد الرحمان ابن عوف ؓ نے اپنا نصف مال پیش کردیا پھر پے در پے چالیس ہزار دینار،پانچسو گھوڑے اور پانچ سو اونٹ سپہ سالار اعظم کے قدموں میں ڈال دیئے۔
ذریعہ معاش پہلے تجارت اور پھر زراعت۔رسالت مآبؐ نے ایک وسیع جاگیر مرحمت فرمائی تھی اور خود بھی بہت سی قابل زراعت اراضی خریدی تھی۔صرف مقام جرف کی کھیتی میں بیس اونٹ آبپاشی کے لئےمقرر تھے۔الله کی راہ میں عرق ریزی سے کمایا ہوا مال لٹانے والے کے دست کرم میں یہ تاثیر تھی کہ اگر کوئی پتھر ہلاتے تو سونا ہاتھ لگتا۔ فیاضی اور انفاق فی سبیل الله کی برکت نے ما ل کی فروانی میں رفتار اور بھی تیز کردی اور اسقدر خیرات و صدقات کے باوجود ،ورثاء کے لئے وافر دولت چھوڑ گئے اور چاروں ازواج نے جائداد متروکہ کے آٹھویں حصے سے اسی ہزا دینار فی کس حاصل کئے۔سونے کی اینٹوںکے بشمول نقدی ایک ہزار اونٹ ،سو گھوڑے اور تین ہزار بکریوں کو مال متروکہ کی زینت بنا گئے۔دو ہجری سے اکتیس ہجری تک برابر اکثر معرکوں میں شجاعت و پا مردی کا ثبوت دیتے رہے۔ عمر فاروق ؓپر جب مسجد کے اندر جان لیوا حملہ ہوا تو عبد الرحمان ابن عوف کا ہاتھ پکڑ کر مصلے پر امامت کے لئےکھڑا کردیا۔اکتیس ہجری میں روح اطہر جسد پاک سے پرواز کر گئ اور عثمان غنیؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آسودہ خاک ہوگئے۔
ایک عظیم الشان دولت کے مالک اپنی زندگی کے ابتدائی دور کے فقر و فاقہ کو کبھی بھولتے نہیں تھے اور جب ایک روز دن بھر کے روزے کے بعد شکم سیر ہونا چاہا تو گذشتہ فقر و فاقہ حالت کو یاد کرکے رو پڑے،کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور رقت طاری ہوگئ اور کہنے لگے کہ معصب ابن عمیر ؓ مجھ سے بہتر تھے،شہید ہوئےتو کفن میں صرف ایک چادر تھی جس سے سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا۔ حمزہ ؓ مجھ سے بہتر تھے۔لیکن اب دنیا ہمارے لئے اسقدر کشادہ ہو گئ ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا معاوضہ دنیا میں ہی نہ مل گیا ہو۔
ایک ایک دن میں تیس تیس غلاموں کو رہا کرنا انکا معمول تھا۔حضرت عثمان کے ہاتھ فروخت کردہ اراضی کی ساری قیمت راہ الله میںلٹا دیا۔ معرکہ بدر میں شریک اصحاب جو ابھی تک بقید حیات تھے،کی تعداد سو کے قریب تھی اور فی کس چار ہزار دینار کی وصیت کر گئے۔امہات المومنین کے لئے ایک بڑا باغ وصیت کر گئے جو چار لاکھ درہم میں فروخت ہوا۔ اسکے باوجود فکرمند رہتے تھے کہ اسقدر دولت کی فروانی آخرت کے لئے موجب نقصان نہ ہو۔اسی لئے عبد الرحمان ابن عوفؓ کے فرزند ارجمند ابو سلمہؓ سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ان دعائیہ کلمات کے ساتھ مخاطب ہوئیں۔"خدا تمارے ابو کو سلسبیل جنت سے سیراب کرے"۔ اس مرد خدا نے غزوہء احد میں بہت زخم کھائے تھے۔ابوبکر،عمر،عثمان ،علی ،زبیر،طالحہ ،سعد،سعیداور ابو عبیدہ رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کی قطار میں کھڑے ہوکے عشرہ مبشرہ کی خلعت سے سرفراز ہوئے اور امت مسلمہ کے لئے ایک مثال قائم کردی۔
 مگر وائے نا کامی کہ اس معاشرے کا انحطاط اور زوال اور اخلاقی پستی کا حال ،ننگ انسانیت ہے۔یہاں کہیں افراط تو کہیں تفریط کا سیلاب امڈ رہا ہے۔ہر جائز و نا جائز طریقے سے دولت سمیٹنے والوں کی آنکھوں میں چاند اتر آیا ہے۔دولت کے غرور نے مواخات کے تصور کو نیست و نابود کر دیا ہے,انفاق فی سبیل الله کی کلیوں کو مسل ڈالا ہے۔محبت کی فضاؤں کو مسموم کردیا ہے،رشتوں ناطوں کو بھسم کر دیا ہے،سخاوت و فیاضی کی قبا کو چاک کر دیا ہے۔خلوص کی عمارت کو زمیں بوس کردیا ہے۔جس معاشرے کے صاحب ثروت جب اسقدر سفلہ مزاجی کے رنگ میں رنگے ہو توں نتیجہ اسکے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ شراب ،کباب اور رباب کی کثرت اور رقص و سرود کی محفلیں قریہ قریہ ڈیرہ نہ جمائیں۔عیاشی اور زن پرستی پروان نہ چڑھے۔قحبہ خانوں میں جسم فروشی کا دھندا ،رہے سہے ایمان کے لئے خطرہ نہ بنے۔ نوجوان نسل منشیات کے دلدل میں نہ پھنسے۔ درہم و دینار پے جب پہرے بٹھائے جاتے ہیں اور حاجتمندوں کی خبر گیری نہیں کی جاتی ہے تو بدیر ہی سہی نتیجہ اسکے سوا اور کچھ نہیں کہ ہر طرف بے راہ روی کے سیاہ بادل منڈلاتے نظر آتے ہیں اور ضمیر مردہ ہو جاتے ہیں۔ تھوڑی ہی مدت کے بعد دولت بھی لٹ جاتی ہے اور کردار بھی فنا ہو جاتا ہے اور سوائے حسرت اور نا کامی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دولت کو کبھی بھی اپنی برتری اور خوش نصیبی کا معیار نہ سمجھو۔اگر امانت کے طور الله کی یہ نعمت تمہارے مقدر میں آئی ہے تو اس دولت کی نگرانی قارون کی طرح نہیں بلکہ عبد الرحمان ابن عوفؓ کی طرح راہ خدا میں لٹا دو، کہیں کسی فاقہ کش کی آہ تمہارے سفینہ حیات کو ان ابتلاؤں کی نذر نہ کر دے ،جہاں سے واپسی کی تمامتر راہیں مسدود ہوں۔
فون نمبر۔ 8493990216۔(سوہل ساکنہ نیل ۔تحصیل بانہال ,ضلع رام بن)