دوبارہ مذاکرات نہیں کریں گے: ایران

تہران // ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ "امریکا اور یورپ نے ایران کے خلاف کرداروں کو بانٹ رکھّا ہے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ ان کا ملک جوہری معاہدے کے حوالے سے "دوبارہ’’ مذاکرات ہر گز نہیں کرے گا۔دارالحکومت تہران میں پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ولایتی نے کہا کہ "بعض ممالک نے جوہری معاہدے کو ایک پورا معاہدہ شمار کیا تاہم انہوں نے ایران کے علاقائی کردار کے حوالے سے مذاکرات کی شرط رکھی جب کہ دیگر بعض ممالک کا کہنا ہے کہ یہ ایک ناقص معاہدہ ہے جس کو مکمل کیا جانا چاہیے"۔ایرانی ریڈیو اور ٹی وی کے نشریاتی ادارے"IRIB" کے مطابق خامنہ ای کے مشیر نے خطے میں ایران کی مداخلتوں اور تہران کے میزائل پروگرام کا دفاع کیا اور کہا کہ ایران اس سلسلے میں مغرب کے ساتھ دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا۔ولایتی نے زور دے کر یہ بھی کہا کہ ایران جوہری معاہدے کی شقوں کے حوالے سے پھر سے بات چیت نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ معاہدے کو جاری رکھنے اور اس کو مکمل طور منسوخ نہ کرنے کے واسطے یہ امر امریکی صدر کی شرائط میں شامل ہے۔یاد رہے کہ امریکی موقف کے علاوہ جرمنی ، برطانیہ اور فرانس کے سربراہان نے ایک مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو اپنے میزائل پروگرام اور خطے میں بربادی کے موجب اپنے برتاؤ کے حوالے سے مذاکرات قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ایرانی مرشدی اعلی کے مشیر کا یہ موقف جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران جوہری معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا ہے اور امریکی وزارت خزانہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتے ہوئے اس پر جامع پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک متنازع بیلسٹک میزائلوں کی تیاری ہرگز نہیں روکے گا جس کو امریکا عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ شمار کرتا ہے۔اطلاعات کے مطابق پاسداران کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کی تیاری ایرانی سرزمین پر عمل میں لائی جا رہی ہے اور کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔اگرچہ ایران کی میزائل سرگرمیوں کو حالیہ عرصے میں امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم تہران اس امر کو باور کراتا ہے کہ اس نے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے حوالے سے عالمی برادری کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی یہ بات زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ میزائل پروگرام کے حوالے سے ان کے ملک کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔عالمی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 ایران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ نیوکلیئر ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری روک دے۔امریکا اس بات کو باور کراتا ہے کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کے ذریعے بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو چکا ہے جب کہ تہران کا یہ کہنا ہے کہ اس کے میزائل نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔