دواپاشی کے دوران احتیاط کریں | باغ مالکان کو ناظم زراعت کا مشورہ

 سرینگر// کوروناوائرس کی مہلک عالمگیر وباء کے پیش نظر جہاں معمولات زندگی تھم گئے ہیں وہیں دوسری جانب کشمیر وادی میںہزاروں کنال اراضی پر پھیلے میوہ باغات میں مزدوروں اور ادویات کی نایابی کے باعث مالکان باغات دوا پاشی نہیں کر سکے ۔اس دوران ناظم زراعت نے مالکان باغات سے اس سلسلے احتیاتی تدا بیر کو اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے دوا پاشی کرنیکی تاکید کی ہے ۔ ملک کے علاوہ کشمیر وادی میں جہاں سخت لاک ڈائون کے نتیجے میں تمام کار وبا ری ادارے اورسرکاری دفاتربندہیں ،وہیں دوسری جانب مزدورںاور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مالکان باغات میوہ باغوںمیں دوا پاشی نہیں کر سکے ہیں جس کے نتیجے میں مستقبل میں انہیں نقصان سے دوچار ہونے کا خدشہ ہے ۔ادھر محکمہ کے ناظم اعجاز احمد اندرابی نے بتایا کہ سپرے کے نظام الاوقات میں تاخیر سے فصل کی پیداوار تباہ ہوسکتی ہے اور یہ ایک معاشی تباہی ہوگی کیونکہ مجموعی آبادی کا 70 فیصدحصہ کا براہ راست انحصار زرعی شعبے پر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو اپنے باغات میں بھیڑ بھاڑ سے بچنے کے لئے نئے اسپرے طریقہ کار اور جدید مشینوں کا استعمال کرنے کے علاوہ اپنی حفاظت کے  لیے دی گئی سخت ہدایات پر عمل کرنا چاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کو مکمل کرنے کے لئے بہت کم لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ، لہذا سپرے کے عمل کے دوران کوئی سماجی اجتماع نہیں ہوتا ہے اور صرف دو افراد کو مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کے دوران دواپاشی کے مناسب عمل کے لئے جانا چاہئے۔دریں اثنا حکومت نے متعلقین کی رہنمائی کیلئے عملہ کوتعینات کیا ہے تاکہ کووڈ19 کے پیش نظر دواپاشی کے دوران کی جانے والی احتیاطی تدابیر کے بارے میں  باغ مالکان کی رہنمائی کی جاسکے۔ یہ امر قابل ذکر ہیں کہ مرکزی سرکار نے کیڑے مار ادویات، کھاد  اور دیگر باغبانی کے سازوسامان کو ضروری اشیاء کے زمرے میں شامل کیا ہے۔