دواساز کمپنیوں کے85 نمائندوں کی اسپتالوں میں روزانہ حاضری

سرینگر // پرنسپل میڈیکل کالج کی جانب سے صحافیوں کے اسپتالوں میں داخلے پر پابندی کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے تحت کام کرنے والے 8بڑے اسپتالوں میں مختلف دوا ساز کمپنیوں کے قریب 85نمائندے روزانہ دوائیوں کی تشہیر کیلئے صبح سے ہی اسپتالوں میں موجود ہوتے ہیں جبکہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کرنے والے صحافیوں پر پابندی عائد کی گئی۔پرنسپل میڈیکل کالج ہی اس بات کا جواب دے سکتی ہیں کہ اگر85دوا ساز نمائندوں کی موجودگی سے ڈاکٹروں کے کام کاج میں خلل نہیں پڑتا ہے تو دو چار صحافیوں کی موجودگی سے ڈاکٹر کیوں خوفزدہ ہیں۔ صدر اسپتال سرینگر، لل دید، جی بی پنتھ سونہ وار، سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ اورذہنی امراض میں مبتلالوگوں کیلئے مخصوص اسپتال کاٹھی دروازہ سرینگر میںصحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم کشمیر عظمیٰ کو ذرائع سے معلوم ہے کہ صدر اسپتال سرینگر میں روزانہ اوسطاً  20دواساز کمپنیوں کے نمائندے، لل دید سرینگر میں20، جی بی پنتھ میں 20سے زائد، ذہنی امراض کیلئے مخصوص اسپتال میں10اور سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں بھی روزانہ 15سے زائد ادویات فروخت کرنے والے کمپنیوں کے نمائندے صبح آٹھ بجے سے ہی موجود ہوتے ہیں۔ میڈیکل کالج ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف دوا ساز کمپنیوں کے نمائندے آپریشن تھیٹروں ، وارڈوں اور ڈاکٹروں کے آرام کیلئے مخصوص کمروں میں جاکرڈاکٹروں کو فہرست تھمادیتے ہیں تاکہ انکی دوائیاں ہی تجویز کی جائیں۔یہاں معاملہ چونکہ تحائف کاہے اس لئے ان کی رسائی کی کبھی بھی اجازت ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ میں خامیوں اور سینئر ڈاکٹروں کی من مانیوں کو روکنے میں ناکامی، اسپتالوں میں غریب مریضوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اورنجی کلنکوں میںمریضوں کو دھکیلنے کی روکھتام میں ناکامی کو چھپانے کیلئے پرنسپل میڈیکل کالج سرینگر نے محکمہ صحت پر خصوصی رپورٹنگ کیلئے تعینات صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ کئی سینئر ڈاکٹر  پابندی کے فیصلے سے حیران  ہیں، تاہم نجی کلنکوں پر گزارنے والے ڈاکٹروں کو پریشانی تھی جن کے اثر میں آکرمیڈیاکے داخلے پر پابندی  لگا دی گئی۔وزیر صحت بھالی بھگت نے کہا ’’ہمیں کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا ، کسی کے کام میں کوئی بھی رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہئے۔‘‘