دنیا کے بلند ترین ر یلوے پل پر تعمیری کام آخری مراحل میں

 گول//ریاست جموںوکشمیرمیںدنیا کا سب سے بلند ریلوے پل آخری مرحلے میں ہے اور یہ پل جموں سرینگر ریل لائن چناب دریا پر بن رہا ہے ۔اس پل کی اونچائی سے ایندھن ٹاور تقریبا 35 میٹر زیادہ ہو گا۔ 5 نومبر کو 47 میٹر لمبا آرک لگانے کا کام شروع ہوا۔ اس ٹول پر 23 ٹن اوننی آرک کو نصب کرنے کے لئے دنیا کی سب سے بڑی کیبل کا استعمال کیا گیا ہے۔اس میں تقریبا 1100 کروڑ روپے کا لاگت لگ رہا ہے. سمجھا جاتا ہے کہ اس بڑے ساخت کی تعمیرمیں 000 24ٹن سٹیل استعمال کیا جائے گا اور یہ دریائے 359 میٹر بلند ہو گا۔1.315 کلومیٹر لمبائی ہے۔ پل کو بنانے کا کام 2002 میں اٹلی بہاری واجپئی حکومت کے دوران شروع ہوا جس میں 2008 میں غیر محفوظ بیان کرتے ہوئے روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2 سال 2010 میں اس کا کام شروع ہوا۔اس پل کے تعمیر میں سٹیل پلیٹس سٹیل اتھارٹی آف انڈیا کے ویلنگ پلانٹ نے منگائی ہے تو تعمیراتی کام کی تعمیر کے قریب گرڈرز پل تعمیر کیا گیا ہے۔یہ کشمیر ریل لنک منصوبے کا سب سے مشکل حصہ ہے اور مکمل ہونے پر یہ انجینئر کا ایک عجیب اور بہت بڑا خوشی کا مقام ہے ۔ اس پل کی حفاظت کا بھی خاص توجہ کامرکز سمجھا جاتا ہے ۔ انجینئروں کا کہنا ہے کہ اس پل پر تعمیری کام 2019میں مکمل ہو گا اور اُس وقت یہ قابل استعمال بھی ہو گا ۔ آپ کو بتائیں کہ اس پل پر ٹرین کو چلائے جانے کے معیاروں کو بھی مقرر کیا گیا ہے۔اونچائی پہاڑی کے درمیان چناب دریا پر بننے والا اس پل پر ٹرین کو درمیان میں روکا بھی جا سکتا ہے۔تیز ہواؤں کی وجہ سے پل پر ٹرین کو نہیں چلایا جائے گا اور ٹرین کی رفتار 20-25 کلومیٹر فی گھنٹی ہی رہے گی۔  معلومات کے مطابق یہاںپرکافی تیز ہوائیںچلتی ہیں۔ قدرتی نظاروں اور دلکش مناظر کو دیکھنے کے لئے پل کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ 265 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے چلنے والے ہوا کی جھنکو کو پل سے ٹرین سے اس وقت پل سے چلنا پر روک دیا جائے گا، جب ریل کی رفتار 90 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گی۔ ہوا کی رفتار، زلزلہ وغیرہ وغیرہ کی نگرانی کے لئے مخصوص آلات بھی لگائے گئے ہیں۔اس کے ارد گرد حساس علاقے میں ہوا کی پیمائش کیلئے دو پلانٹ لگائے جائیں گے۔جموںوکشمیرکے ریاسی ضلع میں بن رہے ریلوے کے سب سے اونچے ریل پل کی پہلے حصے کا افتتاح ریلوے کے اعلی آفیسران کے کے گپتا، ریلوے آفیسر اور سی اے او بھی یہاں پر موجود تھے ان کا کہنا ہے کہ پل کی تعمیر 2019 تک مکمل ہو جائے گا۔ 2021 کو مسافر ٹرین میں سفر کرتے ہوئے اس پل کے اوپر سے گزر کر وادیٔ کشمیر کی سیر کریں گے ۔