دنیائے حسن و عشق

 عشق  انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ کوئی انسان چاہے وہ کتنا ہی بے حس کیوں نہ ہو، اپنی فطرت کی اس اساسی حقیقت سے بے خبر نہیں ہو سکتا۔ حُسن کی قدر عشق کے بغیر ممکن نہیں۔ عشق اور حُسن کائنات کے اہم مظاہر ہیں۔ حُسن کے ساتھ محبوب اور دنیا جڑی ہے اور عشق کے ساتھ انسانی احساسات اور جذبات۔
حُسن کی نفسیات سے جتنا مرزا اسداللہ خان غالبؔ واقف تھا ،اتنا شاید ا ردو دنیاکا کوئی اور شاعر اتنا واقف نہیں تھا۔ غالبؔ کا مانا ہے کہ محبوب کے حسن میں مختلف کیفیات ہیں۔ کبھی ایک رنگ اُبھرتا ہے تو کبھی دوسرے ڈھنگ میں۔ اُس میں سادگی بھی ہے اور بلا کی ہوشیاری اور چالاکی بھی۔ غالبؔ کی شاعری میں بہت سے اشعار حُسن کی نفسیات کے متعلق ہیں۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ حسن کتنا ہی بے نیاز اور بے پُرا کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی اسے جلوہ گری کی آرزو ہوتی ہے اور آئینہ اس کے لئے زانوئے فکر کا کام دیتا ہے۔ وہ آئینے میں اپنی ادائیں دیکھتا اور سوچتا ہے کہ اپنے تیرمژگاں سے عاشقوں کا دل کس طرح گھائل کرے۔ غالبؔ کے نزدیک ایک حسن کا تصّور وہی ہے جو ایک نکو کاری کا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ کہا ہے ’’چونکہ میری ساری زندگی حسن پرستی میں گزری ہے اس لئے مرنے کے بعد میری قبر میں بہشت کا دریچہ کھل گیا۔ بہشت ان کا حق ہے جن کے پاس نیک اعمال کا سرمایہ ہو‘‘۔ غالبؔ کا تصّور حُسن روشنی بھی ہے اور آگ بھی۔ اس طرح عشق بھی ایک آگ ہے جس سے سینہ روشن ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ اسے جلا کر راکھ کردیتی ہے اور شمع کی آگ جو اس کے پائوں کا کانٹا نکالتی ہے یعنی جب وہ جلتی ہے تو موم پگھل پگھل کر اس کے اندر پھتیلے کو جو مثل کانٹے کے ہے، ختم کر دیتا ہے۔ عجیب و غریب علاقی پیکر پیش کیا ہے جس کا مدعا یہ ظاہر کرنا ہے کہ حسن کی جلوہ گری سے عشق کی ساری مشکلیں دور ہو جاتی ہیں ؎
فروغ حُسن سے ہوتی ہیں حلِ مشکل عاشق
نہ نکلے شمع کے پاس سے نکالے گر نہ خار آتش
غالبؔ نے محبوب کے چہرے کی اس انداز میں تعریف کی ہے کہ اگر محبوب نے ذرا دیر کو اپنی صورت دکھادی تو بھلا عاشق کے دل کو اس سے کیا تسلی ہوسکتی ہے۔ اس کے حسن کی جھلک بس ویسی ہی ہے جیسے بجلی یکایک آنکھوں کے آگے کوند جائے ۔عاشق تو یہ چاہتا ہے کہ تھوڑی دیر اس سے بات بھی کی ہوتی تاکہ شوق کی تھوڑی بہت پیاس بجھ جائے۔غالبؔ کا خیال ہے کہ اگر محبوب نے تشریف لانے کی زحمت گوارا کی لیکن اس کا آنا نہ آنے کے برابر ہے کیونکہ لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں ٹھہرا۔وہ آیا تو لیکن اس طرح جیسے بجلی گری، شعلہ چمکا اور پارہ کی طرح بے تاب کہ ٹھہرنے کا نام نہیں لیتا۔ ایسا آنا نہ آنے کے برابر ہوتا ہے۔ عام طور پر وحل کی کیفیت سکونی اور اطمینانِ قلب کا باعث ہوتی ہے لیکن غالبؔ کے یہاں اس کا الٹا نظر آتا ہے۔ وہ محبوب کو یقین دلاتا ہے کہ وصل کے بعد بھی میرے شوق کی آگ ویسی ہی بھڑکتی رہے گی جیسی کہ وصل سے پہلے تھی۔ کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالبؔ سے زیادہ حسرت وصل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
غالبؔ کو حسن کی رعنائی اور دلربائی کا شدید احساس تھا۔ انہوں نے محبت میں کالے اور گورے میں فرق و امتیاز نہیں کیا۔ غالبؔ بت سیاہ فام کے گھائل ہونے کے ساتھ سفید فام معشوق کو بھی سراہتا ہے۔ جب کلکتہ گئے تو وہاں انہوں نے انگریز اور اینگلو انڈین عورتوں کو بازاروں میں چلتے پھرتے دیکھا۔ انہوں نے انہیں گہری عاشقانہ اور شاعرانہ نظر سے دیکھا اور ان کے حُسن اور خوش ادائی لئے متاثر ہوئے۔ کیوں نہ ہوتے ‘ آخر شاعر کا دل رکھتے تھے   ؎
گفتم ’’ایں  ماہ پیکراں چہ کس اند‘‘
گفت ’’خوبان کشورِ لندن‘‘
غالبؔ کا  جذبہ حسن کا قدر شناس اور اس کے ذریعے سے حِس لذّت کا خواہاں تھا۔ اس کا مسلک حسن کی پرستش نہ تھا بلکہ اس پر تصّرف حاصل کرنا تھا۔ اس لیے جذباتی کیفیت کی شدّت میں بھی اس پر ربودگی اور خودوا رفتگی طاری نہیں ہوتی۔ وہ اپنی حسیّاتی لذت اندوزی میں ہوش باختہ نہیں ہوا اور نہ کبھی اپنی خواہش کو عبادت کا درجہ دیا۔ اس کی آرزومندی اسی دنیا کی چیز تھی نہ کہ مادرائی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبے پر قابو رکھنے کے گُرسے واقف تھا۔ غالبؔ حُسن کی ہر ادا کو پہچانتا تھا۔
عشق میں جو غم اٹھانے پڑتے ہیں ،انہیں آزاد منش لوگ پائدار خیال نہیں کرتے۔ وہ بس دم بھر کو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب ان کے ماتم خانے پر غم کی بجلی گرتی ہے تو وہ اس سے شمع کا کام لیتے ہیں۔ بجلی تباہ کرتی ہے اور شمع سے روشنی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ غم عشق سے ہمارا دل روشن ہوتا ہے اور زندگی کے وہ راز جن پر پردہ پرا ہوا تھا، آن کی آن میں روشن ہوجاتے ہیں۔ غم عشق کی برگزیدگی نرالے انداز میں پیش کی ہے اور شمع ماتم خانہ کے علامتی پیکر اور استعارے معنویت کے حامل ہیں   ؎
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش
برق سے کرتے ہیں روشن ازیک نفس شمع ماتم خانہ غم 
عشق کے میدان میں غالبؔ نے اپنی ذات کو گرایا نہیں اور نہ ہی ختم ہونے دیا۔ وہ اپنی ذات کو محبوب سے زیادہ خیال کرتا تھا۔ اُس کا یقین تھا کہ وہ محبوب کے لیے نہیں بلکہ محبوب اس کے لئے ہے۔ اس وجہ سے عشق و محبت کی گفتگو میں اس کے لہجے میں میر تقی میرؔ کی طرح سوزوگداز کے بجائے مردانہ پن اور بلند آہنگی پیدا ہوگئی    ؎
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے میرا کام
مجنون کو بُرا کہتی ہے لیلیٰ میرے آگے
غالبؔ کا عشق خریدار کی تلاش میں نکلتا ہے تاکہ عقل ودل وجان کا سودا کرے۔ عاشق کے پیش نظریہ ہے کہ اپنی قدرو قیمت رکھنے والی متاع ایسے محبوب کے حوالے کرے جو قدرشناس ہو    ؎
عشق نے غالبؔ کردیا نکما 
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
بس ختم کر یہ بازیِ عشق غالبؔ
مقدر کے ہارے کبھی جیتا نہیں کرتے
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا ، کوئی غم گُسار ہوتا
غالبؔ نے اُردو اور فارسی کی غزلوں میں عشق اور ہوس میں فرق کیا ہے۔ غالب خود محبوب کے طالب ہیں تو وہ عشق ہے لیکن اگر رقیب اس کا طالب ہو تو وہ ہوس ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ رقیب کی ہوس کی مثال ایسی ہے جیسے خس ذرا سی دیرمیں جل کے بجھ جاتا ہے۔ اس کو وفا کا پاس نہیں ۔ جہاں اس کی خواہش پوری ہوئی اور اس کا ناقص عشق ختم ہوا۔ غالبؔ نے اپنے خاص انداز میں روایتی اور رومانی عشق کا مذاق اُڑایا ہے، اس لئے کہ اس میں عاشق کے بجائے معشوق کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
غالبؔ نے اپنی شاعری میں فلسفہ عشق و محبت کو خاص اہمیت دی ہے۔ ان کا محبوب اگر ظالم اور جفاکش ہے تو غالبؔ بھی اس سے کم خود دار اور غیرت مند نہیں۔ وہ ایک فلسفی و مفکر کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتا ہے۔ غالبؔ اپنی شاعری کا بیشتر مواد عشق سے ہی لیتا ہے۔ غالبؔ عشق و محبت کی واردات کو اپنے محسوسات اور اپنی داخلیت کی مدد سے لازوال بنا دیتا ہے۔ غالبؔ کی شاعری میں حسن و عشق ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ مجازی عشق میں انسان کے دل پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے، اس کا تجربہ گہرا اور براہِ راست ہوتا ہے۔ عاشق کی انفرادیت قوی ہوتی ہے لیکن عشق اس کے کافی بالذات ہونے کے احساس کو توڑ دیتا ہے، حُسن کی بدولت عاشق کی آزادی اور خود مکتفی ہونے کا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے۔ الغرض غالبؔ نے اپنی شاعری میں حُسن و عشق کے بارے میں جن کیفیات کا ذکر کیا ہے، اس میں اس کا اور کوئی شریک نہیں، کوئی ثانی نہیں۔ 
