دندی دھڑا میں پینے کے پانی کا بحران | محکمہ جل شکتی نا قابل رسائی و خاموش تماشائی

بختیار کاظمی
سرنکوٹ// سرنکوٹ کے گاؤں دندی دھڑاعلاقہ کی عوام کیلئے گزشتہ پندرہ سالوں سے پانی جیسی بنیادی سہولیات کابندوبست نہیں کیاگیا ہے جسکی وجہ سے علاقہ کی خواتین اس جدید دور میں بھی پانی کیلئے میلوں سفر کر کے قدرتی چشموں پر در بدر ہیں ۔مکینوں نے بتایا کہ مذکورہ علاقہ میں پانی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے کروڑ روپے خرچ کر کے واٹر سپلائی سکیم کا کام شروع کیا گیا تھا لیکن محکمہ جل شکتی نا قابل رسائی اور خاموش تماشائی ہونے کی وجہ سے صورتحال جوں کی توں ہی ہے ۔مقامی پنچایت ممبر لعل حسین نے بتایا کہ عرصہ 15 برس قبل سیڑیاں اسکیم جس کا 9 کروڑ روپے کا پروجیکٹ تھا لیکن اس رقم کو زمینی سطح پر کہاں خرچ کیا گیا ہے اس کا محکمہ کے پاس کوئی جواب ہی نہیں ہے جبکہ علاقہ میں بچھائی گئی پاپئیں یاتو بوسیدہ ہو کر ٹوٹ چکی ہیں یا تو ان کو بچھایا ہی نہیں گیا ۔انہوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام نے کئی مرتبہ متعلقہ محکمہ اور مقامی انتظامیہ سے بھی رجوع کیا لیکن ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پانی جیسی بنیادی سہولیات ہی دستیاب نہیں ہو سکی ہے ۔واٹر سپلائی سکیم کے مکمل نہ ہونے و عام لوگوں کی مشکلات کے سلسلہ میں مکمل تحقیقات کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو پینے کا صاف پانی میسر کیا جائے ۔