’دم ہے تو لیکر دکھائے‘:ڈاکٹر فاروق

اوڑی// نیشنل کانفرنس صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر ہندستان کے باپ کی جاگیر نہیں، اگر ہندوستان میں دم ہے تو پاکستان سے وہ کشمیر لے کر دکھائے۔وہ سرحدی قصبہ اوڑی میں ایم ایل اے محمد شفیع اوڑی کے صاحب زادے ڈاکٹر سجاد شفیع کے اگلے انتخابات میںپارٹی امیدوار کا اعلان کرتے ہوئے عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جو حصہ پاکستان کے پاس ہے وہ پاکستان کا ہے اور جو ہندستان کے پاس وہ ہندستان کا ہے لیکن ہندستان پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو لینے کے خواب دیکھتا ہے اور وہ خواب، خواب ہی رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہندستان میں دم ہے تو وہ کشمیر لے کر دکھائے کیونکہ پاکستان نے چوڑیاں پہن کے نہیں رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیری عوام کے حقوق پر شب خون مار کر ریاست سے اس کی اٹانوامی (خود مختاری) چھیں لی۔ فاروق نے کہا کہ کشمیر میں مکمل امن کی بحالی کیلئے کشمیریوں کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلہ کشمیر کا حل کشمیر کے دونوں حصوںکو اٹانومی دینے میںپنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمارا بھروسہ توڑا، ہمارے آئینی و جمہوری حقوق پر شب خون مارا ،کشمیریوں سے اٹانومی چھین لی ۔ڈاکٹر فاروق نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ 1953کے بعد جموں وکشمیر پر غیر آئینی اور غیر جمہوری طور لگائے گئے قوانین منسوخ کئے جائیں اور ساتھ ہی ریاست کی اندرونی خودمختاری مکمل طور پر بحال کی جائے تاکہ ریاست کے لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کے تینوں خطوں کے عوام ہی اس سرزمین کے اصلی مالک ہیں اور کوئی بھی طاقت ان کی تقدیر نہیں بدل سکتی، اس قوم نے کئی ادوار دیکھے ہیں اور بہت کچھ سہا ہے ،لیکن یہ قوم کبھی بھی پست نہیں ہوئی،یہ قوم اپنے آئینی اور جمہوری حقوق حاصل کرکے ہی دم لے گی۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو ایک نہ ایک دن بات چیت کرنی ہی ہے اور کسی بھی صورت مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنا ہے، اسی لئے دانشمندی اسی میں ہے کہ مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔ہندوستان اور پاکستان سے سرحدوں پر فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق کہاکہ دونوں ممالک کے آپسی رنجشوں میں آر پار کشمیری پس رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی اور دھمکیاں دینے کی روش ترک کرے اور سرحدوں پر امن کو پنپنے کا موقعہ فراہم کریں تاکہ آر پار سرحدی آبادی امن، چین اور سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔ ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لاکر پی ڈی پی والوں نے اپنی کرسی تو بچا لی لیکن ریاست کو اقتصادی بدحالی کی نذر کرنے کے ساتھ ساتھ مالی خودمختاری بھی سرنڈر کردی۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ مرکزی حکومت کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے، اس لئے بہت سی چیزوں پر جی ایس ٹی کی شرح کم کی جارہی ہے۔لیکن اس قانون کے اطلاق سے جموں وکشمیر کی مالی خودمختاری پر جو شب خون مارا گیا اُس کی برپائی کرنا مشکل ہے۔