دل و دماغ بند کرکے کشمیر نہیں آیا،مزاحمتی خیمے کومذاکرات کی دعوت،شکوہ ہے تو ازالہ ہوگا،کشمیر کو جنت بے نظیر بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا:راجناتھ سنگھ

اننت ناگ// مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ وہ دل و دماغ  بند کرکے کشمیر نہیں آئے ہیں بلکہ (مسئلہ کشمیر پر) کسی سے بھی کھلے دل سے بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس تھانوں کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جارہی ہیں۔انہوں نے لوگوںسے اپیل کی کہ وہ کشمیر کو دہشت گردی سے نجات دلائیں۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ان باتوں کا اظہار اتوار کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میں جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
 بات چیت کی دعوت
 راجناتھ سنگھ نے علیحدگی پسندوں کو بالواسطہ طور پر بات چیت کی میز پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ’میں یہاں تین دنوں کے لئے آیا ہوں۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب کوئی وزیر داخلہ ایک سال کے اندر چار دفعہ کشمیر آیا۔ میں بار بار آؤں گا۔ سب سے اپیل کروں گا۔ کسی کو کوئی شکوہ شکایت ہے تو ہم سے شکایت کرے۔ میں کھلے دل سے بات چیت کرنے کو تیار ہوں۔ دل و دماغ کو بند کرکے میں کشمیر نہیں آیا ہوں‘۔ انہوں نے اہلیان وادی سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کو دہشت گردی سے نجات دلائیں۔ انہوں نے کہا ’میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کو دہشت گردی سے نجات دلائیں، نجات تو ملے گی ہی اور پھر سے یہ ہمارا کشمیر جنت بنے گا۔ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت اسے پھر سے جنت  بے نظیربنانے سے نہیں روک سکتی‘۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ کشمیر میں ریاستی پولیس کے بدولت امن وامان کی صورتحال بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا ’مجھے پورا یقین ہے کہ اس کشمیر میں امن وامان کے حالات آپ کی وجہ سے ہی ٹھیک ہوں گے۔ میں کشمیر کے تمام لوگوں کا تعاون چاہتا ہوں‘۔جنت اور کہیں نہیں ہے۔ ہندوستان کی جنت اگر ہے تو یہ کشمیر ہے۔ میں سبھی سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ جس روپ کے لئے یہ جنت جانا جاتا تھا، اسے اسی روپ میں واپس لایا جائے۔ اس کے لئے تمام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے‘۔
بلٹ پروف گاڑیاں
 وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے ہر پولیس اسٹیشن کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کے احکامات جاری کردئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹ فراہم کرنے اور پولیس اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کے لئے بھی رقومات جاری کردی گئی ہیں۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ آپ کو کتنی بھی سہولیات فراہم کی جائیں ، وہ کافی نہیں ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس کے اہلکار کشمیر، کشمیریوں اور کشمیریت کی حفاظت کے لئے لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’آپ اپنے دلوں میں ایک جذبہ لیکر کشمیر، کشمیریوں اور کشمیریت کی حفاظت کے لئے لڑرہے ہیں۔ اس لئے میں پھر سے آپ کی بہادری کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس حقیقت کو جانتا ہوں کہ آپ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آپ جو بھی کام کررہے ہو اس کشمیر کی حفاظت کے لئے کررہے ہو۔ یہاں رہنے والے لوگوں کی حفاظت کے لئے آپ کام کررہے ہو۔ لیکن کچھ دہشت گرد ایسے ہیں جو صرف دہشت گردی سے مطلب رکھتے ہیں۔ جہاد کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جنت نصیب ہوگی۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ یہاں ہمارے جموں وکشمیر اور دیگر فورسز کے جوان اگر جنت بنانا چاہتے ہیں تو اس کشمیر کو ہی جنت بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملاکر جنت بنانا چاہتے ہیں۔وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں اے ایس آئی عبدالرشید کی بیٹی زہرہ اور ہفتہ کو جاں بحق ہونے والے پولیس کانسٹیبل امتیاز احمد میر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ’میں نے عبدالرشید کی بیٹی زہرہ کی تصویر دیکھی ۔ آنسوؤں سے بھیگا ہوا اس کا وہ چہرہ۔ میرے دوستودل سے درد نکلتا نہیں ہے ۔ کل ہی ہمارے ایک بہادر جوان امتیاز بھی شہید ہوئے۔ آپ کی ان شہادتوں کی قیمت نہیں چکائی جاسکتی ۔ آپ اپنے لئے شہادت پیش نہیں کررہے ہیں بلکہ کشمیر، کشمیریوں اور ملک کے لئے شہادت پیش کررہے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ لوگ اس بات کو سمجھنے کو تیار نہیں۔ آپ فوج اور سی آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ آگے آگے لڑتے ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی شہادتیں معمولی نہیں بلکہ عظیم شہادتیں ہیں جن کو بھارت کبھی فراموش نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف کے جوانوں کا الاؤنس بڑھانے پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا ’بہت ساری سہولیات کی بات کی گئی ہے ۔ بلٹ پروف جیکٹ اور جدید ہتھیار ہمارے جوانوں کو ملنے چاہیے۔ ان سہولیات کو دستیاب بنانے کے لئے رقومات مہیا کی گئی ہے اور آگے بھی رقومات فراہم کی جائیں گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں ریاستی پولیس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑی ہیں۔ہاوسنگ کا ایک مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں بھی میں نے بات چیت کی ہے۔ آپ کے کنبے کیسے محفوظ جگہوں پر رہ سکیں، اس پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔