دلی کا نمائندہ کشمیرکے جذبات

  ڈوال ڈاکٹرین کے بیچ بی جے پی نے کشمیر کے لئے روایتی انداز میں دنیشور شرما کو اپنے نمائندے کے طور ریاست میں بھیج دیا۔ موصوف دوسری مرتبہ ریاست کے دورے پرآئے اوردونوں خطوں میں کئی لوگوںکے ساتھ ملاقات کر کے واپس دلی لوٹ گئے۔اس دوران انہوں نے کشمیرمسئلے کو اقتصادی نکتہ نگاہ کے بجائے سیاسی نظریہ کے طور پر دیکھنے کی وکالت کی ۔ اس پس منظر میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حکومتی اصطلاح کے مطابق’’ تخریب کاری یا قوم دشمنانہ مظاہروں‘‘ کے 744معاملوں میں قصوروار پائے گئے 4327نوجوانوں کے خلاف مقدمے واپس لینے کے احکامات صادر کر کے اصل مسئلہ کو ایک بار پھر لا اینڈ آرڈر کے ایشو تک محدود کر دیا۔ حالانکہ یہ نوجوان کسی ذاتی مفاد یا کسی جرم کی نیت سے سڑکوں پر نہیں امڈ آئے تھے، بلکہ یہ لوگ دہائیوں سے جاری گھٹن اور زیادتیوں کاقلع قمع کر نے کے لئے اپنے پیدائشی حق کا مطالبہ کر رہے تھے ۔خود محبوبہ مفتی کے والد صاحب سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کئی بار کہہ چکے تھے کہ مسئلہ کشمیر کا ایک داخلی اور ایک خارجی پہلو ہے ۔داخلی سے ان کی مراد ناقص انتظامیہ اور پولیس وفوج کی زیادتیاں تھیں ، جب کہ خارجی پہلو میں وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔مبصرین نوجوانوں کے لئے عام معافی کے اس دورس اثرات والے ا قدام کو سرینگر اور دلی کے مابین کریڈیٹ وار کی حکمت عملی کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے مین سٹریم سیاستدانوں اور عوام کے درمیان رابطہ بحال کرنے کی سعی ہوگی۔بعض حلقوں کو تو یہاں تک خدشہ ہے کہ اس اقدام کے ذریعے مختلف کیسوں میں ملوث نوجوانوں کو مین سٹریم سیاستدانوں کی جانب رجوع کرنے پر مجبور کیا جائے گا، جس کے نتیجہ میں وہ خلیج کسی حد تک پاٹ لی جائے گی جو فی الوقت عوام اور مین سٹریم سیاست کے درمیان پیدا ہوگئی ہے ۔ 1990 میں راجیو گاندھی کی طرف سے تشدد کو ختم کرنے کی کوشش سے لے کریو پی اے حکومت کی جانب سے 2010کی ایجی ٹیشن کے بعد 2010میں مذاکرات کاروں کے ایک گروپ کی تعیناتی تک سبھی کشمیر آئے اور سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں سے ملے، جموں وکشمیر کے مختلف جگہوں کا دورہ کیا ۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور اجتماعی طور فوٹو سیشن میں حصہ لے کر قومی اور بین الاقوامی سیاست کے مفادات کو حاصل کر کے واپس بھی چلے گئے ۔ کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ 2010 کی پرتشدد کشیدگی کے دوران112شہری حلاکتوں اور 3ہزار نوجوانوں کے زخمی ہونے کے بعددلی حکومت نے 13اکتوبر کو اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم کے کہنے پر جموں وکشمیر میں سبھی سٹیک ہولڈریس کے ساتھ مسلسل مذاکراتی سلسلہ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مذاکرات کاروں کا ایک گروپ کشمیر بھیجا گیا جس میں ڈلیپ پڈگاؤنکر بھی شامل تھے۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ رپورٹ دلی میں پڑی فائلوں کے اندر دول چاٹ رہی ہے۔ٹھیک 7سال کی مدت کے بعد2016کی ماس ایجی ٹیشن کے دوران 100سے زائد شہری ہلاکتوں اور 15ہزار سے زائد نوجوانوں کو بندوق کی گولیوں اور پیلٹ گن کے چھروں کا نشانہ بنانے کے بعد فی الآخر23اکتوبر2017 کو ایک مرتبہ پھر دلی نے کشمیر پر سبھی سٹیک ہولڈیرس کے ساتھ مسلسل مذاکرات کا شطرنج بچھایا ۔تاہم دونوں مواقعوں پر منڈیٹ بالکل ایک جیسا تھا جس  کے لئے پی چتامبرم نے 2010میں کہا تھاکہ ’’بات چیت کے لئے کوئی سرخ لکیر قائم نہیں‘‘ کی گئی ہے جب کہ راج ناتھ سنگھ نے اب کی بار کہا کہ شرما کو مذکرات کے لئے پورا منڈیٹ حاصل ہے کہ انہیں کس سے بات کرنی ہے اور کس سے نہیں ۔بہر حال کچھ بھی ہو،یہ عمل اتنا سادہ نہیں ہے جتنا یہ کھلی آنکھ کو دکھائی دے رہا ہے بلکہ اندر سے اتنا ہی پیچیدہ ہے جتنا باہر سادہ لگ رہا ہے۔مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت ہند نے مزاحمتی سرگرمیوںاورمسلح تشدد پر ایک طویل آپریشن کے ذریعہ قابو پانے کے بعد ایک بالادست فریق کی حیثیت قائم کر نے سے اپنی شرائط پر مذاکرات کا آغاز کیا ہے جو دنیا کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ حکومت ہند صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل کے لئے بھی کوشاں ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دلّی نے اس بار دنیشور شرما کے زریعے جو شطرنج کی بساط بچھائی ہے ،اْس پر مہروںکا انتخاب کچھ اس طرح کیا گیا کہ اگر وہ پِٹ بھی جائیں تو دنیا کو لگے کہ وِن وِن سچویشن ہے اور کوئی ہارا نہیں ہے لیکن اصل میں مہروں کی ہار ہونی ہے اور جیت شطرنج کی بساط بچھانے والے کی ہی ہوگی۔ مبصرین کہتے ہیں کہ دلّی بھلے ہی داخلی سطح پر مذاکرات کرے اور کشمیر کو حل کرنے کے دعوے کرے لیکن خارجی محاذ ایک بالکل مختلف کہانی بیان کررہا ہے۔کچھ عرصہ قبل امریکہ نے پاکستان کو بڑی مشکل میں ڈال دیا تھا لیکن یکایک امریکہ کا لہجہ نرم پڑگیا اور پاکستان کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کی بات ہوئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان نے بھی امریکہ کو دانت دکھانا شروع کردئے۔واشنگٹن کو جب پاکستان کے بدلتے تیوروں کا اندازہ ہوگیا تو ڈمیج کنٹرول شروع ہوا اور اس ڈمیج کنٹرول کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر پر اچانک مذاکرات کار کی تقرری عمل میں لائی گئی جبکہ اس سے چند روز قبل تک نئی دلّی مفاہمت کیلئے قطعی تیار نہ تھی۔اب جس طرح امریکہ افغانستان میں پھنسا ہوا ہے اور باعزت واپسی کیلئے پاکستان کی مدداز بس ضروری ہے تو ایسے میں دلّی کا لہجہ نرم پڑنا طے ہے کیونکہ واشنگٹن اسلام آباد کو ناراض نہیں کرسکتا اور اسلام آباد کوبھی اندازہ ہے کہ اس کی مدد کے بغیر کابل سے انخلا ء ممکنات میں نہیں ہے ،اسی لئے اسلام آباد نے بھی بارگین کرنا شروع کردیا ہے اور یہ اسی بارگینگ کا نتیجہ ہے کہ دلّی۔سرینگر نام نہاد ڈائیلاگ کا آغاز ہوا۔ مبصرین کا غالب حلقہ اس بات پر متفق ہے کہ خارجی عنصر اپنی جگہ لیکن تاز ہ پیش رفت کے پیچھے کافی درپردہ سفارتکاری کارفرماہے اور یہ کوئی اچانک کی گئی پیشکش نہیںبلکہ کئی ماہ کی مسلسل اور خفیہ و خاموش مذاکرات کا نتیجہ ہے۔
کشمیر پر مسلسل مذاکرات کے حوالے سے تاریخ مایوسی سے عبارت ہے کیونکہ دنیشور شرما سے قبل کے سی پنتھ ،این این ووہرا اور دلیپ پڈگا وئنکر کی ٹیم نے بھی کشمیر پر مذاکرات کئے جبکہ اس کے علاوہ وزرائے اعظم سے لیکر وزرائے داخلہ اور داخلہ سیکریٹریوں کی کشمیر کی مزاحمتی و عسکری قیادت سے براہ راست مذکرات کے کئی ادوار ہوئے جبکہ گول میز کانفرنسوں کے علاوہ ورکنگ گروپ بھی بنے تاہم ایسے مذاکرات کی کسی بھی پہل کو کامیابی کا ساحل نصیب نہ ہوا بلکہ ہر وقت یہ مذاکرات وقت گزاری ثابت ہوئے اور ایسا کوئی بھی عمل مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کی جانب ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکا بلکہ الٹا مذاکراتی عمل سے وابستہ لوگوں کی سفارشات کو ردی کی نذر کردیا گیا جس سے کشمیریوں کے دل میں بات گھر کر گئی کہ بات چیت کا اعلان محض دکھاوا اور وقت گزاری ہوتا ہے اور اس میں سنجیدگی نہیں ہوتی ہے بلکہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح بگڑے معاملات کو منیج کیاجاسکے اور جب خطرات وقتی طور ٹل جاتے ہیں تو بات چیت کا بوریا بسترا لپیٹ لیاجاتا ہے۔مبصرین مانتے ہیں کہ دراصل دلّی اس زعم میں مبتلا ہے کہ حالات ٹھیک ہوچکے ہیں اور اب انہیں اس کا فائدہ اٹھاکر امن کے قیام کی کوشیں تیز کرنی چاہئیں اور اس سلسلے میں لوگوںکو مذاکراتکاری کے ذریعے سبز باغ دکھاکر انہیں انگیج کیاجائے جبکہ دوسری جانب عسکریت پسند وں اور مزاحمتی قائدین کاتعاقب بھی جاری رکھا جائے۔جس ضمن میںفوجی سربراہ بپن راوت کا بیان کافی اہم ہے جس میں انہوںنے کہا  تھا کہ بات چیت آپریشن آل آ و ٹ کے آڑے نہیں آئے گی اور وہ جاری رہے گا بلکہ وہ بات چیت کیلئے بقول انکے سازگار ماحول کے قیام کو آپریشن آل آوٹ کی دین ہی قرار دے رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق جنرل راوت کہہ گئے کہ یہ آہنی ہاتھوں پر مخملی دستانوں والی پالیسی ہے اور بات چیت کی ڈفلی بھی بجتی رہے گی اور فورسز کی سختی بھی جاری رہے گی۔بی جے پی کے مطابق کشمیر مسئلہ حقیقت میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے جس پر بات چیت ہو بلکہ یہ دیگر ریاستوں  کی طرح بھارت کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے تاہم بقول ان کے مسئلہ کشمیر در اصل پنڈت جواہر لال نہرو کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے معرض وجود آیا ہے اور بین الاقوامی سطح کا حامل مسئلہ بن گیا ہے جبکہ اسی  نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بی جے پی نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے لیکن حقیقت کبھی بھی بناوٹ کے اصولوں سے چھپ نہیں سکتی ہے ۔
کشمیر میں سبھی فریقوں سے بات چیت قائم کرنے سے قبل دلی کو چاہئے کہ وہ پہلے بزاتخود اپنے آپ کے ساتھ مزاکرات کا ایک سلسلہ قائم کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں تاکہ بات چیت کے پیچھے چھپے مقاصد کی خصوصیات کسی حد تک حاصل کی جائیں ۔ دلی کو ازخود تجزیہ کرنا ہوگا کہ وہ کن لوگوں سے مزاکرات قائم کر تے ہیں ،کس مزکرات کار کو کشمیر روانہ کریں اور کن شرطوں پر سبھی سٹیک ہلڈروں کے ساتھ بات چیت قائم کی جانی چاہئے ۔ کیا دلی کی جانب سے مزاکرات کا عمل شروع کرنے کا مطلب ہے کہ مزاکرات میں وہ لوگ شامل ہیں جو دلی میں برسر اقتدار ہیں یا پھر وہ لوگ جو وہاں کی حکومت میں اپوزیشن کا رول نبھا رہے ہیں یا پھر دلی کی سیول سوساٹی یا پھردلی میں رہ رہے وہ سبھی خاص وردی پوش لوگ شامل ہیں ۔دلی جب ایسے سبھی لوگوں کے ساتھ اندرونی مذاکرات کا سلسلہ قائم کرے گی تو اس کے ما بعد ہی کشمیر پرقائم کی جانے والا ڈائیلاگ عمل نہ تو بدلتی حکومتوں اور نہ ہی ماضی کی طرح دلی کی بدلتی حکمت عملیوں سے متاثر ہو جائے گا ۔ دلی میں مذکورہ اندرونی مذاکرات اور بہترین مذاکرات کار کے انتخاب سے ہی کشمیر پر مسلسل مذاکرات کی رپورٹ کچھ حد تک معتبر بن جائے گی ورنہ دلی میں بدلتی حکومتوں کے باعث مذاکرات کی رپورٹوںکی نفی کر کے بالآخر انہیں مسترد کیاجائے گا جیسا ماضی میں اپنے ہی پارٹی کے کارکن یشونت سنہا کی رپورٹ کو دھول چٹانے کے لئے رکھا گیا ہے ۔تاہم آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب دلی میں حزب اقتدار پارٹی کا رنگ اورنشان ہاتھ سے زعفران میں تبدیل ہوجائے تو کشمیر پر مسلسل مذاکرات کی رپورٹ اور سفارشات کا کیا حال ہو جائے گا ؟ دلی میں مذاکرات کو پہلے قومی سطح پر سبھی فریقین کی جانب سے تسلیم کرنے کی ضررورت  ہے جس کے بعد ہی کشمیر اور دلی کے درمیان مسلسل مذاکرات کا سلسلہ پیش کرنا ہوگا۔فی الوقت دلی کی اندورانی مذکرات کے بغیر کشمیر اور دلی کے درمیان مسلسل بات چیت کا کوئی ماحصل سامنے نہیں آئے گا۔ دلی کی مخصوص حکومت جو اپنے پارٹی کے نظریے کی آبیاری کرتی ہے ، کے بجائے اگر بھارت کی طرف سے ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ مسلسل مذکرات سلسلے شروع کئے جائیں توکچھ نہ کچھ نکل آئے گا ۔ تاہم اگر دلی کی سیاسی قیادت ایسا نہیں کر پائے گی جیساکہ سابق داخلہ وزیر نے باضاطہ طورخود تسلیم کیا تھا کہ وہ افسپاقانون سے ایک بھی شق ہٹا نے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں بھلے وہ کیسے مسئلہ کشمیر کے متعلق کوئی بڑا فیصلہ سرانجام دے سکتے ہیں ؟
…………………….
 نوٹ:مضمون نگار کشمیر عظمیٰ کے ساتھ وابستہ ہیں
رابطہ:9797205576،[email protected]