’دلی میں سرکار اپنی، کبھی بھی مل کر بات کر سکتے ہیں‘

سری نگر// اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری کا کہنا ہے کہ دلی میں سرکار اور وزیر اعظم ہمارے ہیں اور ہم ان سے کبھی بھی مل کر بات کر سکتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ دلی اور جموں و کشمیر کے سیاسی لیڈروں کے درمیان کبھی بھی تعلقات منقطع نہیں ہوتے ہیں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی فون کی گھنٹی سنی جاتی ہے تو کبھی نہیں سنی جاتی ہے ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی تنیسخ کے بارے میں نیشنل کانفرنس کا بے خبر ہونا نا ممکن ہے ۔الطاف بخاری نے ان باتوں کا اظہار ایک مقامی نیوز پورٹل کے ساتھ ایک آن لائن انٹریو کے دوران کیا ہے ۔انہوں نے کہا،’’ہمارے دلی کے ساتھ اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن وہاں سرکار ہماری ہے، وزیر اعظم ہمارے ہیں ،ہمیں کسی کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہے، ہم ان کے ساتھ مل کر بالواسطہ بات کر سکتے ہیں‘‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دلی سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا ٹیلی فون بج گیا ہے، کے جواب میں ان کا کہنا تھا،’’دلی سے (جموں و کشمیر کے سیاسی لیڈروں) کے فون ہمیشہ بجتے ہیں لیکن کبھی گھنٹی سنی جاتی ہے تو کبھی نہیں سنی جاتی ہے‘‘۔ بخاری نے کہا کہ میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ نیشنل کانفرنس کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈروں کے درمیان 27 جولائی 2019 کو جو بات ہوئی وہ عوام کو اب تک نہیں بتائی گئی لیکن کسی نہ کسی دن ضرور لوگوں کو وہ باتیں معلوم ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے عدالت عظمیٰ میں دفعہ 370 اور 35 اے کے خلاف محض اس لئے عرضیاں دائر کی ہیں تاکہ وہ یہ باور کر سکیں کہ ہم اس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔بجلی بحران کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ سچ بات بولنی چاہئے کہ وہ بجلی خریدنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے وہ اس کے بجائے لوگوں پر بجلی چوری کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔موصوف صدر نے جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا،’’میں یہاں کی تعلیمی پالیسی آج تک سمجھنے سے قاصر ہوں سال 2018 میں این سی ای آر ٹی کا نصاب رائج کیا گیا اور آج اس کو تبدیل کرنے پر کام کیا جا رہا ہے ۔ میں انتظامیہ کو خبر دار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں اور نہ ہماری تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کریں‘‘۔کورونا کی دوسری لہر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کورونا کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ جموں کے ہسپتالوں میں انفراسٹرکچر کی کمی تھی تاہم کشمیر میں قدرے بہتر تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں گذشتہ 70 برسوں کے دوران شعبہ صحت کو ترجیح نہیں دی گئی۔