دلِ کے ہاتھوں

جب ولیؔ دکنی دہلیؔ میں تشریف آور ہوئے اور اہل دہلیؔ نے اُن کی غزلیں سنیں تو وہ چونک پڑے اور غزل کی ہیت ، ادائیگی اور مضمون دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اُن کلام ہر جگہ اور ہر محفل میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جانے لگا، نہ صرف یہ بلکہ اُس کی تقلید بھی شروع ہو گئی۔ دہلی کے شعراء نے ابتدا میں غزل کی بنیاد ایہام گوئی پر رکھی تھی اور عام طور پر یہی دستور مروج تھا۔ اُس دور کے مشہور شعراء میں حاتمؔ، آبروؔ، سراج الدینؔ،آرزوؔ وغیرہ اسی طرز پر مشق سخن کرتے تھے مگر ولیؔ دکنی کی شاعری کے اثر سے بعد میں ایہام گوئی کا زیادہ چرچانہ رہا۔ حقیقت میں اس طرز شاعری کے خلاف سب سے پہلے مظہر جانِ جاناں نے نہ صرف آواز ہی بلند کی بلکہ صحیح معنوں میں بغاوت کی۔ مرزا صاحب اصل میں فارسی کے شاعر تھے اور اُردو میں بہت کم شعر کہتے تھے۔ اُن کے عزیز ترین شاگردوں میں سے ایک شاگرد انعام اللہ خان یقینؔ تھے۔ یقینؔ ن ایہام گوئی کے خلاف اپنے استاد محترم کی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی ذاتی شاعری کو اس روش سے بالکل پاک و صاف رکھا۔ اس لئے انعام اللہ خان یقینؔ کو اگر اُردو شاعری کے اس مروجہ سٹائیل کا نجات دہندہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ یقینؔ کے بعد دوسرے بڑے شعراء نے بھی ایہام گوئی ترک کرنا شروع کی۔ یقینؔ وہ پہلے شاعر ہیں جن کے یہاں اُردو زبان نہایت صاف اور نکھری ہوئی شکل میں سامنے آئی۔ اُن کے اشعار پڑھتے وقت محسوس ہوتا ہے گویا یہ اشعار بیسویں صدی کی تخلیق ہیں۔ یقینؔ کا کلام عوام اور خواص میں بے حد پسند کیا جاتا تھا۔ اُن کے کلام میں نفاست، سلاست اور سادگی ہونے کے باعث زندگی میں ہی انہیں وہ شہرت حاصل ہوئی کہ لوگ اُن کے سامنے میر و سوداؔ کو نظر اداز کر دیتے تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب میر تقی میرؔ اور مرزا رفیع سودا کا سارے ہندوستانؔ میں شہرہ تھا اور خود کو دونوں حضرات مملکت شعر و سخن کا بے تاج بادشاہ تصور کرتے تھے۔ لیکن انہوں نے جب یقینؔ جیسے نو عمر شاعر کو شہرت کی بلندیوں پر جاتے دیکھا تو خاص طور سے میر تقی میرؔ کو اُن سے خدا واسطے کا بیر ہو گیا اور انہوں نے نہ صرف زبانی طور سے مجلسوں اور محفلوں میں بلکہ اپنے تذکرۂ شعراء میں یقینؔ کو شاعر ماننے سے ہی انکار کر دیا، بلکہ میرؔ نے یہاںتک بھی کہا کہ یقینؔ کے سارے اشعار اُس کے اُستاد مرزا مظہرؔ جانِ جاناں کے کہے ہوئے ہیں، مگر یقینؔ کے باقی معتقد یں جیسے پنڈت لچھی نراین شفیقؔؔ( جو اُن کے ہم عصر بھی تھے) مولوی عبالحیؔ) گارساںؔ دتاسی، جناب فرحت اللہ ؔ بیگ وغیرہ تذکرہ نگار انعام اللہ خان یقینؔ کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں۔
انعام اللہ خان یقینؔ1140ہجری میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ایسے خاندان کے چشم و چراغ تھے جو ایک طرف اپنی ریاضت، زہد و تقویٰ اور بزرگی میں مشہور تھا تو دوسری طرف خاندانی شرافت، دولت و ثروت اور امارت ووقار میں ممتاز تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تعلیم اُس زمانے کے شہزادوں اور امیر زادوں کے مقررہ معیار کے مطابق اور اہتمام کے ساتھ ہوئی۔ یقینؔ کی زندگی کے بارے میں حالات و واقعات معلوم ہوتا ہے کہ وہ محبت کے مارے تھے۔ نوجوانی کے دنوں میں ہی اُن کا دل کسی کے تیرِ نظر کا شکار ہوگیا تھا جیسا کہ مندرجہ ذیل اشعار سے واضح ہو جاتا ہے ؎
یہ دل ایسا خراب کوچہ و بازار کیوں ہوتا
اگر ملتا نہ گل رُخو ں سے خوار کیوں ہوتا
 کیا ہے عشق ہم نے تجھ سے ہم دم کے بھروسے پر 
خدا کے واسطے اے آہ اس دل پر اثر کیجئو 
عمر فریاد میں برباد گئی کچھ نہ ہوا
نالہ مشہور غلط ہے کہ رسا ہوتا ہے
یقینؔ نے جب شعور کی آنکھیں کھولیں تو اپنی چاروں طرف ایک ایسا ماحول پایا جس میں دنیا اور زندگی سے فرار کے نظریات پائے جاتے تھے ۔ خانقاہی طرز حیات اور تصوف کا دور دورہ تھا اور بیشتر شعراء دنیا کی ناپائیداری اور بے ثباتی کے مضامین اپنے اشعار میں باندھے تھے لیکن اُس کے برخلاف یقینؔ کی شاعری کی اساس زیادہ تر معاملات حسن وعشق اور گل و بلبل پر ہیں۔ اُس میں محبت کے نغمے اور پیار کی سوغا تیں ہیں۔ وہ ایک عاش دل سوز لگتے ہیں اور اسی لئے اُن کی شاعری میں ایک رومانی فضا پائی جاتی ہے۔ یقینؔ جیسا با صلاحیت اور ذہین و فطین شاعر اگر اپنی عمر پوری پاتے تو نہ جانے شاعری کو کن رفعتوں اور بلندیوں سے ہمکنار کرتے مگر شومئی قسمت زندگی نے وفا نہیں کی اور وہ صرف انتیس سال کی عمر میں گویا بھری نوجوانی میں ہی سن1169ہجری میں فوت ہوئے، فوت کیا ہوئے بلکہ قتل کر دیئے گئے۔
انعام اللہ خان یقینؔ کی موت آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ اتنا تو اکثر مورخ اور تذکرہ نویس بتاتے ہیں کہ وہ اپنے ہی باپ کے ہاتھوں قتل ہوئے لیکن کیونکر قتل ہوئے اُس پر آج تک پردہ پڑا ہوا ہے۔ کئی ایک تذکرہ نگاروں کا خیال ہے کہ یقینؔ سے ایسا کوئی فعل سرزد ہوگیا تھا جو خاندان کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بن سکتا تھا، اس لئے اُس بدنامی اور رسوائی سے بچنے کے لئے باپ نے ہی بیٹے کو قتل کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یقینؔ کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ وہ اپنے باپ کے ہاتھوں قتل ہوں گے اس لئے انہوں نے قبل از وقت ہی اس راز کو افشا کیا تھا    ؎
یقینؔ مارا گیا جرمِ محبت پر زہے طالع
شہادت اس کو کہتے ہیں سعادت اس کو کہتے ہیں
ماخذ:دیوانِ یقینؔ از مرزا فرحت اللہ بیگ
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر-190001،کشمیر
  موبائل نمبر:-9419475995 
