دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے معرفت

محمد تنویر القادری بہاری
موجودہ گھڑیاں اہل ایمان کے لیے پُر آشوب ہیں۔ ملک و ملت جس نازک دوراہے سے گزر رہے ہیں، اس میں بظاہر تاریکی ہی تاریکی ہے۔ ظلمت ایسی کہ ہر نفس بے چین و پریشان ہے۔ گھروں میں،بازاروں میں، سڑکوں پر غرض جہاں آپ چلے جائیں ہیجانی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہرکوئی بے سکون و مضطرب نظر آرہا ہے، زبانوں پر ایک ہی سوال ’’آئندہ کیا ہوگا؟‘‘  اس کا جواب ذکر میں ہے کلامِ الٰہی میں ذکر کے مقابل غفلت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جس کے معنی خدا فراموشی کے ہیں۔ لہٰذا ذکر الٰہی کا مفہوم یہ ٹھہرا کہ بندہ مومن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کبھی غافل نہ ہو اور ہر وقت اور ہر حالت میں خالق ِحقیقی کو یادرکھے، کیونکہ صوفیہ کے قول “جو دم غافل سو دم کافر” کے مطابق جو سانس اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہے، وہ ناشکری کی حالت میں گزر رہا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے، میں اُس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں ۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اُس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔
صلحائے کرام کا بیان ہے “ذکر یہ ہے کہ ذکر کرنے والا ( معرفت ِالٰہی میں ) اس قدر محو ہو جائے کہ اسے ذکر کی خبر نہ ہو ۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت نہ کرے، اس کے حق سے اُچاٹ نہ ہو اور اس کے علاوہ کسی سے اُنس حاصل نہ کرئے”۔ اور جلیل القدر تابعی حضرت کعب احبار رحمہ الله نے فرمایا: اپنے گھروں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روشن کرو، جس طرح اس کے ساتھ اپنے دلوں کو روشن کرتے ہو۔ حضرت ذوالنون مصری رحمہ اللہ نے فرمایا: بندے پر خدا تعالیٰ کے ناراض ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ فقر سے ڈرے۔( الطبقات الكبرى: ٣٠٦)
مختصراً یہ کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم ہر لمحہ اللہ کاذکر کریں اور اسی سے ہر چیزکےطالب ہوں۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: ’’بھولنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ‘‘۔ قرآن مزید کہتا ہے:  ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ بنو، جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے انہیں ایسا بنادیاکہ وہ خود اپنے آپ کو فراموش کربیٹھے! یہی لوگ سرکش اور حد سے تجاوز کرنے والے ہیں‘‘۔(الاعراف)
درحقیقت اللہ کا ذکر ہمیں گناہوں اور دیگر غیر انسانی کاموں سے روکتا ہے۔ اللہ ہمیں دنیا کے فتنوں سے دور رکھے۔
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)