دفعہ370ہڈیوں کا ڈھانچہ:حریت

سرینگر// حریت (گ) نے نیشنل کانفرنس کے 370اور جی ایس ٹی (GST) کے حوالے سے گیلانی پر دئے گئے بیان پر ردِّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گیلانی  اور حریت کا تنازعہ کشمیر اور کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے حوالے سے موقف بالکل واضح اور غیر مبہم ہے اور اس موقف پر ہم نے سخت ترین حالات میں کبھی کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ آئندہ ایسا ممکن ہے۔حریت نے کہا کہ کشمیریوں کی تمام مصیبتوں اور مشکلات کی بنیادی جڑ بھارت کا ریاست پر جبری قبضہ ہے اور باقی جتنے بھی مسائل ہیں، وہ اِسی کے آف شوٹس (Offshoots)ہیں اور ان آف شوٹس کا تدارک جب ہی ممکن ہے، جب جموں کشمیر پر جاری فوجی تسلط ختم ہوجائے اور یہاں کے لوگ اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کا تعین کرنے کا موقع حاصل کریں۔حریت نے اپنے اس موقف کی وضاحت کی کہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور دوسری ہندنواز پارٹیوں کے مابین رتّی برابر بھی کوئی فرق نہیں ہے اور نہ ان میں کوئی لیسر اِول (Lesser Evil)ہے۔ دونوں پارٹیاں بھارت کے قبضے کو خود بھی تسلیم کرتی ہیں اور اپنے رول سے اس کو سندِ جواز بھی عطا کرتی ہیں۔ بھارت کشمیری عوام کے خلاف ظُلم کی جو کلہاڑی استعمال کررہا ہے، یہ اس کے دستے کا کام کررہے ہیں اور اپنی قوم کے مفادات کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ انہیں کُرسیٔ اقتدار کے بغیر کسی چیز سے مطلب نہیں ہے اور اس کے حصول کے لیے یہ کسی بھی حد کو پار کرسکتے ہیں۔ جی ایس ٹی (GST)کو ریاست پر لاگو کرنے کے اِشو پر حریت نے کہا کہ بھارت کے حکمران  47ء سے ہی ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے اقدامات اٹھاتے رہے ہیں۔ دفعہ 370اب محض ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن کر رہ گیا ہے اور اس کے لیے تمام ہندنواز سیاستدان کم یا زیادہ برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کا اپنا وزیر اعظم اور صدرِ ریاست ہوا کرتا تھا، جس کو پہلے بخشی غلام محمد اور غلام محمد صادق جیسے لوگوں نے ختم کرانے میں دِلی والوں کا تعاون کیا اور پھر 75ء میں اس کے تابوت میں آخری کیل اس وقت ٹھونکی گئی، جب نیشنل کانفرنس نے محاذ رائے شماری کے نعرے کو دفن کیا اور وزیرِ اعظم کے بجائے وزیرِ اعلیٰ اور صدرِ ریاست کے بجائے گورنر کے اسٹیٹس پر قناعت کرکے اقتدار کی لیلیٰ کو گلے لگالیا۔ حریت کے مطابق 75ء کے بعد بھی ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرانے کے اقدامات برابر اٹھائے جاتے رہے، البتہ کسی ہندنواز پارٹی کی طرف سے کوئی مزاحمت کی گئی اور نہ انہوں نے اس کو روکنے کی کوئی کوشش کی۔ حریت نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اقتدار میں آکر لینڈ گرانٹس بِل پاس کراکے اس پوزیشن پر ایک کاری ضرب لگائی اور غیر ریاستی باشندوں کو 90سال تک زمین لیز پر دینے کی منظوری دیکر 370کی بچی کچھُی ساخت کو ختم کرانے کی شروعات کیں۔ اُس کے بعد یہ سلسلہ کہیں پر بھی نہیں رُکا اور آج بھی یہ جاری ہے۔ ریاست کے آبی وسائل اور پَن بجلی پروجیکٹوں کے انتظام وانصرام کو بھارتی ادارے این ایچ پی سی (NHPC)نے اپنے قبضے میں کرلیا تو یہ پارٹی نہ صرف خاموش رہی، بلکہ اس نے اس لوٗٹ میں دِلی والوں کا بھرپور تعاون اور مدد کیا۔ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی (NIA)نے جموں کشمیر تک اپنے دائرہ کار کو بڑھادیا اور کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے یا جیلوں سے نکال کر تہاڑ جیل پہنچادیا، تو انہیں دفعہ 370کی یاد آئی اور نہ انہوں نے ریاستی آئین رنبیر پینل کوڈ (RPC)کی کوئی دہائی دی۔ حریت بیان میں کہا گیا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے نام نہاد رکھوالے اقتدار میں آکر ایک طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں اور جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو وہ ماضی کے اپنے مجرمانہ رول کو فراموش کرتے ہیں اور انہیں دفعہ 370پر پیار آنے لگتا ہے۔ انہیں جب اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل تھی تو یہ اس وقت اٹانومی کے حق میں آسانی کے ساتھ ایک بِل پاس کراسکتے تھے۔ اسکے بجائے انہوں نے محض ایک قرارداد پاس کرائی جس کو دلی والوں نے ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور ان کی طرف سے اس پر کوئی احتجاج بلند نہیں کیا گیا۔ حریت نے سوال کیا کہ آزاد کشمیر پر بمباری کرنے اور کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بجائے موقعہ واردات پر شوٹ کرنے کی وکالت کس نے کی تھی؟ 2010میں 125معصوم طالب علموں کو قتل کرانے کے کون لوگ ذمہ دار ہیں اور سینئر آزادی پسند لیڈر مسرت عالم بٹ کے قتل کی سُپاری عاشق بخاری کو کس نے دی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ حریت نیشنل کانفرنس کے دفعہ 370کے رول کے حوالے سے ایک تفصیلی وائیٹ پیپر جاری کرے گی، جس سے ان کے رول کی پوری طرح سے وضاحت ہوجائے گی ۔حریت نے وضاحت بھی کہ جموں کشمیر کی سِول سوسائٹی اور تاجر برادری ہر حیثیت سے قابلِ احترام ہے اور ان کا مسئلہ کشمیر اور اس سے پیدا شدہ دوسرے مسائل میں اہم رول بنتا ہے، جس کو وہ آج تک بحُسن وخوبی انجام دیتی رہی ہیں، البتہ حریت کانفرنس یہ احتیاط برتنے کی صلاح ضرور دیتی ہے کہ مسئلہ کشمیر اور دوسرے ذیلی مسائل میں جو حدِّ فاصل مقرر ہے، اس کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور بنیادی قضئیے سے کسی بھی صورت میں توجہ نہیں ہٹنی چاہیے اور نہ اس کو پسِ منظر میں لے جانے کی بھارتی پالیسی سازوں کی کوششوں کو کامیاب ہونے کا موقعہ مل جانا چاہیے۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے، جس کو حریت کانفرنس کے سابقہ بیان میں اُبھارنے کی کوشش کی گئی تھی اور جس کو بنیاد بناکر نیشنل کانفرنس نے قائد تحریکِ آزادی سید علی گیلانی اور حریت کانفرنس کے خلاف اپنی بِھڑاس نکالنے کی کوشش کی ہے۔