دفعہ370کی منسوخی کے بعد 2غیر مقامی افراد نے جائیدادیں خریدیں

نئی دہلی//مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ گزشتہ2برسوں کے دوران صرف2غیر مقامی افرادنے جموں و کشمیر میں جائیدادیں خریدی ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ نے ایک تحریری جواب میں پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے باہر سے صرف 2 افراد نے مرکزی زیرانتظام علاقہ میں جائیدادیں خریدی ہیں۔امورداخلہ کے وزیرمملکت نتیا نندرائے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے باہر سے صرف 2 افراد نے مرکزی زیرانتظام علاقہ میں جائیدادیں خریدی ہیں۔انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر میں جائیدادیں خریدتے وقت حکومت اور دیگر ریاستوں کے لوگوں کو مشکلات یارکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔ایک اورسوال کے جواب میں وزیرمملکت برائے ومور داخلہ نیتانند رائے نے کہاکہ جموں و کشمیر سرحدپارکی معاونت والی دہشت گردی کے تشدد سے متاثر ہوا ہے ۔انہوں نے ایوان کوبتایاکہ جموں و کشمیر میں سال1989سے ،ابتک دہشت گردی کے واقعات میں 5886 سیکورٹی اہلکار مارے گئے۔انہوںنے لوک سبھاکوبتایاکہ جموں وکشمیر 1989سے ابتک سرحدپارکی مددومعاونت والی دہشت گردی کاشکار ہے ،اوراس دوران ہزاروں انسانی جانیں تلف ہوئی ہیں ۔مرکزی وزیر نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں سرگرم دہشت گردگروپوں کوسرحدپارکی مدداورمعاونت حاصل رہی ہے، ہتھیاروںکی تربیت اورہتھیار فراہم کرنے کیساتھ جنگجوئوںکویہاں دھکیل دیاجاتا ہے اورپھراُنکی مالی معاونت بھی کی جاتی ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ سال 1989 سے5، اگست 2019 تک جموں وکشمیر میں 5886سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے ۔انہوں نے ایوان کوبتایاکہ گزشتہ دوبرسوں سے جموں وکشمیرمیں امن وقانون کی صورتحال میں کافی بہتری ہوئی ہے ،جنگجوئیانہ واقعات کاگراف بھی کافی نیچے آیاہے ،تاہم اب بھی دہشت گردگروپوں کوسرحدپارکی حمایت ،مدداورمعاونت جاری ہے ۔