دفعہ35اے کے دفاع میں ہر مذہب ،ہر خطے ، ہر طبقے کے لوگ شامل

 سرینگر//جموں وکشمیر کے عوام میں 35اے سے متعلق پائی جارہی تشویش اور اس دفعہ کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کو فوری طور پر سپریم کورٹ میں جوابی حلف نامہ دائر کرکے اس کیس کو خارج کروانا چاہئے، آئین ہند کی اس دفعہ کیساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور خرمن امن کو آگ لگنے کا اندیشہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈ کوارٹر پر ایک  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ 35اے کو ختم کرنے کی سازشوں کا انکشاف نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسمبلی کے ایوان میں کیا تھا اور اُسی دن نیشنل کانفرنس نے اس دفعہ کے دفاع کی تحریک کا آغاز کیا اور آج اس تحریک میں ریاست کے کونے کونے سے ہر خطے ، ہر مذہب اور ہرطبقے کے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوموار کو 35اے کی سماعت سے متعلق ایک افواہ سے ریاست بھر میں حالات قابو سے باہر ہوگئے، مرکز میں بیٹھے تھینک ٹینک کو اس سے سبق لینا چاہئے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ مرکزی سرکار کو جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کمزور کرنے کے بجائے ریاستی عوام کا اعتماد اور بھروسہ حاصل کرنے کیلئے ریاست سے چھینے گئے خصوصی مراعات کو بحال کرنا چاہئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جب نیشنل کانفرنس نے عوامی سطح پر 35اے کو ختم کرنے کی سازشوں کا انکشاف کیا تب جاکر سابق پی ڈی پی سربراہی والی حکومت نے مجبوراً سپریم کورٹ میں کیس لڑنے کا من بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی والوں نے بھاجپا اور آر ایس ایس کو ناراض نہ کرنے کی غرض سے اس کیس کو نہ لڑنے کی ٹھان لی تھی لیکن جب عوامی سطح پر دبائو آیا تو سپریم کورٹ میں وکیل بھیجا گیا۔ اجلاس سے محمد اکبر لون نے اپنے خطاب میں کہا کہ دفعہ35A اور 370سے ہی آج تک جموں وکشمیر کی شناخت قائم ہے اور ان کے نہ رہنے سے ہمارا وجود ختم ہوجائے گا اور ہماری تہدیب و تمدن کا کہیں نام و نشان باقی نہیں رہے گا، جس کیلئے آنے والے نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
 

مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام پر عمل کیا جائے گا:عوامی مجلس عمل

سرینگر//عوامی مجلس عمل نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کے مفادات کے خلاف کسی بھی سازش کا مقابلہ کرنے کیلئے لوگ تیار ہیں اوراس سلسلے میں مشترکہ مزاحمتی قیادت نے جو احتجاجی پروگرام دیا ہے ،اُس پر من وعن عمل کیا جائے گا۔ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دفعہ35Aکیخلاف عرضیوں کی سماعت جو31اگست کوہورہی ہے ،اگر اس میں کوئی ایسا فیصلہ سامنے آتا ہے جو یہاں کے عوام کے مجموعی مفاد کیخلاف ہو،تو ایک ہمہ گیرتحریک کے ذریعے اس کا مقابلہ کرکے کوئی بھی قربانی دی جائے گی۔بیان میں اس سلسلے میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کے احتجاجی پروگرام کو عوام کے جذبات واحساسات کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر دفعہ35Aکے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ یا ترمیم وتنسیخ کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ 
 

دفعہ35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ 

 کوشش کامنہ توڑ جواب دیا جائے گا: اشتیاق بیگ 

سری نگر //ریاست جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور دفعہ35Aکے ساتھ کسی کبھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کامنہ توڑ جواب دینے کے لئے ریاست کے تمام طبقے ڈٹ کر مقابلہ کر نے لئے تیارہیں۔ ان باتوں کا اظہار نان گزیٹیڈ ایمپلائز ایسو سی ایشن (نگوا) کے صدر اشیاق بیگ نے ایک بیان میں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور دفعہ35Aکے ساتھ کسی کو بھی چھیڑ نے کی اجازت نہیں دی جائے گئی ۔اشتیاق بیگ نے کہا ریاست جموں کشمیر کے تمام لوگ اس وقت بلا لحاظ مذہب ملت ،رنگ نسل جس طرح دفعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کرنے والے افرادکے خلاف یک زیان ہو کر کسی بھی مقابلے کے لئے تیار ہیںوہ ان لوگوں کے لئے چشم کشا ہے جو اس دفعہ کو ختم کر نا چاہتے ہیں ۔
 

ریاست کی موجودہ صورتحال کے    ذمہ دارعبداللہ اور مفتی خانوادے: وکیل

  سرینگر//جموں وکشمیر بچاؤ تحریک کے صدر اور سابق وزیر عبدالغنی وکیل نے ریاست میں عبداللہ اور مفتی خاندانوں کو موجودہ صورت حال کا ذمہ وار قرار دیتے ہوئے گورنرانتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاست کے سیاستدانوں کامحاسبہ کرنے کیلئے ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کریں،جو معینہ مدت کے اندراپنی رپورٹ پیش کرے گا۔سرینگرمیں پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالغنی وکیل نے ریاست کی تباہی کیلئے عبداللہ اور مفتی خاندانوں کو ذمہ دارقرار دیتے ہوئے کہاکہ  ان دونوں خاندانوں نے اگر اقتدار کے علاوہ کنبہ پروری اقربا پروری اور لوٹ کھسوٹ کو ترجیح نہ دی ہوتی، تو وادی میں موجودہ تباہ کن صورتحال نہ ہوتی اور کشمیر مسئلہ بھی حل ہوا ہوتا اور 35Aکا مسئلہ بھی کھڑا نہیں ہوتا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ان دونوں خاندانوں نے دفعہ 370کو بھی کھوکھلا کرکے رکھ دیا اور بیشتر مرکزی قوانین ریاست میں لاگو کئے ۔عبدالغنی وکیل نے ریاست کے گورنر پر زور دیا کہ وہ سیاستدانوں کا محاسبہ کرنے کے لئے Time Boundکمیشن ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں قائم کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ صحیح معنوں میں ریاست سے رشوت ستانی کا خاتمہ چاہتے ہیں ،تو انہیں فوری طور ان بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں کی تحقیقات کرنی چاہیے جو محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی حکومتوں سے سر زد ہوئی ہیں۔اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے عوام کو ان طاقتوں سے خبردار رہنے کی تلقین کی گئی جو 35Aکے حوالے سے عوام میں اتحاد اور اتفاق کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش میں ہے اور افواہیں پھیلا کر انتشار پیداکرتے ہیں جو تحریک کے مفاد میں نہیں ہے۔ایک اور قرار داد میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور چور دروازے سے کی گئی بھرتیوں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
 

سڑکوں پر لڑنے والے پولیس سمیت پوری قوم کی بقاء کی لڑائی لڑ رہے ہیں:انجینئررشید

نہتے لوگوں پر طاقت کا بے تحاشہ استعمال افسوسناک

سرینگر //عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے دفعہ35-Aکے حق میں مظاہروں کے دوران مقامی پولیس کی طرف سے لوگوں پر بے تحاشا تشدد کااستعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاستی پولیس کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہر گز یہ بات نہ بھولیں کہ سڑکوں پر لڑنے والے لوگ نہ صرف اُن کے اپنے ہیں بلکہ اُن کے مفادات کی بھی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا کہ جس طرح کل شمالی کشمیر سے لیکر جنوبی کشمیر تک جگہ جگہ پولیس اہلکاروں نے نہتے لوگوں پر طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا ،وہ ہر لحاظ سے افسوسناک ہے ۔  انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس اہلکاروں بشمو ل پولیس سربراہ ایس پی وید کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والے یا 35-Aکے تحفظ کی باتیں کرنے والے ہرگز مجرم نہیں بلکہ پولیس اہلکاروں سمیت پوری قوم کے بقاء کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ نئی دلی جان بوجھ کر ریاستی پولیس کو بالواسط یا بلا واسطہ اپنے ہی لوگو ں کے خلاف اکسا رہی ہے تاکہ پنجاب میں چند دہائیاں قبل جس طرح مقامی لوگوں اور پولیس کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا گیا وہی یہاں دہرایا جائے ۔ یہ دیکھنا مقامی پولیس اہلکاروں کا کام ہے کہ وہ ریاست میں خانہ جنگی کے ماحول کو پیدا کرنے سے گریز کریں جس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ جنگجوئوں کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ نہتے لوگوں پر بلا وجہ تشدد نہ کریں ۔ انجینئر رشید نے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ سے اپیل کی کہ وہ وسیع تر قومی مفاد کی خاطر پولیس اہلکاروں کو سختی کے ساتھ اس بات کی تلقین کریں کہ اپنے لوگوں کے ساتھ تشدد کا کوئی جواز نہیں ۔ انجینئر رشید نے کہا کہ ریاست کے لوگ ہرگز خفیہ ایجنسیوں کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں اور وہ ہر اس سازش کا توڑ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کا  مقصد کشمیریوں کو ایک دوسرے کے خلاف الجھا کر دلی کے توسیع پسندانہ عزائم پورا کرنا ہے ۔ انجینئر رشید نے پلوامہ میں فوج کی 44RRکی طرف سے مشتاق احمد میر نامی استاد کو کیمپ کے اندر بلا کر اس پر بے تحاشہ تشدد کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں سے اپنے حدود میں رہنے کی تلقین کی ۔ انہوں نے ساتھ ہی شوپیاں میں ڈاکٹر مدثر ٹھاکر نامی اسکالر سمیت دیگر معزز شہریوں کی تھانے کے اندر بلا وجہ مار پیٹ کی مذمت کرتے ہوئے ریاستی پولیس سربراہ سے واقعہ کی فوری تحقیقا ت کا مطالبہ کیا ۔