دفعہ 370 اور35- اے سے عسکریت ، علیحدگی پسندی اورپتھر بازی کو فروغ ملا

جموں//آر ایس ایس کے ایگزیکٹیوممبر اور مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست اعلیٰ اندریش کمار نے کہا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور 35- اے کے خاتمے سے خطے میں ترقی کی نئی لہرشروع ہوگی اور ملی ٹینسی، علیحدگی پسندی ، امتیازی سلوک ، پتھر بازی ، ناخواندگی ، بدامنی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔جموں پریس کلب میں مسلم نیشنل فورم کے زیر اہتمام دانشوروں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے آل انڈیا ایگزیکٹو کے رکن اور مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست اعلیٰ اندیش کمار نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور35-Aملی ٹینسی ، علیحدگی پسندی ، امتیازی سلوک ، پتھر بازی ، ناخواندگی ، بدامنی بے روزگاری کا کا مترادف بن گئی تھی اور جبکہ یہ دفعات ختم ہوچکی ہیں تو اب سب کو مل کر ایک نیا جموں و کشمیر بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آرٹیکل 370 اور 35 اے اتنے ہی فائدہ مند یا ضروری تھے تو سابقہ حکومتوں نے انہیں مستقل کیوں نہیں کیا؟۔انہوںنے کہا کہ اس کے ذریعے آپ لوگوں کو تمام حقوق سے محروم کرنے اور ہر قسم کا استحصال کرنے کا موقع ملتا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔ کمار نے کہا’’  اگر آرٹیکل 370 اور 35 اے اتنا اہم تھا تو پھر کشمیر میں لوگوں کو پتھراؤ اور فائرنگ کیوں کرنا پڑی ، ہزاروں لوگوں کی جانیں کیوں گئیں اور بے روزگاری کی حوصلہ افزائی کیوںکی گئی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صرف چند لیڈروں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور آپ سب کو گمراہ کیا جبکہ انہوں نے مرکزی حکومتوں سے ہزاروں کروڑ روپے لے کر ترقی کے نام پر کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا ’’ ہزاروں فوجیوں نے پاکستانیوں اور بندوق برداروں کے خلاف لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں دیں ، اگر کوئی بندوق بردرای نہ ہوتی تو آپ سبھی ہر طرح سے ترقی کرتے۔ اب اگر باہر سے آنے والے لوگ تعلیم کے بڑے ادارے ، صنعتی ادارے یہاں لائیں گے تو روزگار خود بخود بڑھ جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں صحت کے اچھے ادارے ہونے سے صحت کے فوائد بھی حاصل ہوں گے اور اس کے لیے آپ کو کہیں جانا نہیں پڑے گا۔ زمین کی قیمت بڑھ جائے گی اور آپ کو زیادہ منافع ملے گا۔ اندریش کمار نے کہا’’اگر پاکستان اتنا سمجھدار اور اچھا ہوتا تو وہ مسلمانوں پر ظلم کیوں کرتا؟ وہ آپ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے ، ان کے اپنے بچے ہندوستان اور دوسرے ممالک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ایسا کرکرکے انہوں نے آپ کو گمراہ کر کے اپنے مفادات کی خدمت کی ہے‘‘۔ان کا مزید کہناتھا’’ اب آپ کو ایک نیا جموں و کشمیر بنانے کا موقع ملا ہے۔ جموں و کشمیر سمیت ہمارا ملک امن ، ترقی ، خوشحالی کا ملک بنانے کے لیے ہمیں آگے آنا ہوگا اور یہ پیغام گھر گھرپہنچانا ہوگا کہ ہمارے ملک میں گمراہوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے‘‘۔