دفعہ 370کی بحالی خارج از امکان  | لوگوں کو گمراہ نہ کیا جائے، پارٹی کی تشکیل آئندہ 10روز میں: آزاد

یو این آئی
سرینگر//غلام نبی آزاد نے اتوار کے روز کہا کہ دفعہ370 کی واپسی خارج از امکان ہے کیو نکہ اسکے لئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے، لہٰذا اس حوالے سے لوگوں کو گمراہ نہیں کیا جانا چاہیے۔انکا کہنا تھا کہ گمراہ کن نعروں سے ہی کشمیر میں ایک لاکھ لوگوں کی جانیں گئیں، چار سے پانچ لاکھ بچے یتیم ہوئے اور پچاس ہزار بیوائیاں بنیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی پر چار گھنٹے تک راجیہ سبھا میں بحث کیا ،جو دنیا کے دو سو ممالک میں دیکھا گیا ہے۔اْن کے مطابق جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ غلام نبی آزاد نے دفعہ 370 کے حق میں ووٹ دیا وہ پارلیمانی اصولوں سے پرے ہیں۔ لہٰذا جن لوگوں کو پارلیمنٹ کی علمیت ہی نہیں، اْنہیں اس پر بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ بارہ مولہ میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ مجھے دنیا کی کوئی طاقت خرید نہیں سکتی کیونکہ میں غلام نبی ؐہوں۔ آزاد نے کہاکہ یہاں کے کچھ سیاستدان جو یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ آزاد نے 370 پر بیان نہیں دیا ،وہ دراصل پارلیمانی اصولوں سے نابلد ہے۔انہوں نے الطاف بخاری کا نام لئے بغیر کہا کہ جو لوگ ایسا کہہ رہے ہیں، دراصل اْنہیں پارلیمانی اصولوں کی کوئی علمیت ہی نہیں۔انہوں نے کہاکہ اللہ سے کہتا ہوں کہ ایسے سیاستدان دس بیس سال تک پارلیمنٹ میں رہیں وہ سمجھیں گے کہ ووٹ کس کے خلاف اور کس کے حق میں دینا ہے۔غلام نبی آزاد نے ایسے سیاستدانوں کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے سیکھیں کہ پارلیمنٹ میں ووٹ دینے کا کیا مطلب ہے۔دفعہ 370 کی واپسی کو لے کر دئے جانے والے بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہاکہ میں اْن سیاستدانوں میں نہیں جو لوگوں کو اس قانون کے متعلق گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اللہ کو حاضر رکھ کر کہتاہوں کہ غلام نبی آزاد کشمیریوں کو گمراہ نہیں کرئے گا بلکہ حق اور صداقت کی بات سامنے رکھوں گا۔ آزاد نے کہاکہ پچھلے 32سال کے گمراہ کن نعروں سے ہی ایک لاکھ لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں، چار سے پانچ لاکھ بچے یتیم ہوئے اور پچاس ہزار بیوائیاں بنیں۔ آزاد نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ہزاروں سالوں سے یہاں پر بہت سارے حکمران حملہ آور ہوئے اور یہاں لوٹ کر چلے گئے۔اْن کے مطابق آزادی کے بعد کشمیر اندرونی سیاست کا شکار ہوا ، 53 میں شیخ صاحب کی گرفتاری، 65 اور 71 کی لڑائی اور پھر ملی ٹینسی کا ایسا دور آیا جو پچھلے تیس سالوں سے تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا یہاں پر اصلی انکاونٹر بھی ہوئے اور کھبی کھبار نقلی تصادم آرائیوں کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔اْن کے مطابق جب ریاست کا وزیرا علیٰ بنا تو جعلی تصادم آرائیوں کی تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے جس دوران ملوثین کو سزا دلائی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی تشکیل آئندہ دس روز کے اندر ہوگی جس میں پارٹی کا نام پہلے سامنے لایا جائیگا۔