دفعہ 370کیخلاف عرضی

سرینگر// ریاست کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والے دفعہ370 کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دائر مفاد عامہ کی درخواست کی فوری شنوائی سپریم کورٹ زیر غور لارہی ہے۔ آئین ہند کی دفعہ 370 کے خلاف سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت عرضی پیش کی گئی ہے،جبکہ سپریم کورٹ نے پیر کر کہا کہ وہ اس عرضی پر فوری شنوائی کے معاملے کو دیکھے گی۔چیف جسٹس رنجن گگوئے کے سربراہی والے بینچ نے بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپھادیائے کی اس درخواست کا نوٹس لیا،جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی عرضی’’ اہم قومی اہمیت‘‘ کی حامل ہے اور اس کی شنوائی کی فوری ضرورت ہے۔ بینچ میں شامل ایک اور جسٹس،جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا’’ یاداشت کا تذکرہ رجسٹرار کو دیا جائے،ہم اس کو دیکھے گے۔‘‘ اوپھادیائے نے اپنی درخواست  میں گزشتہ برس ستمبر میں یہ دلیل دی تھی کہ آئین کی تشکیل کے وقت خصوصی حیثیت ُ’’عارضی‘‘ طرز کی تھی اور دفعہ370  شق 3بھی جموں کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے26جنوری1957کو تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوا۔عرضی میں عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر کے علیحدہ آئین کو بھی مختلف وجوہات کی بنیاد پر‘‘غیر قانونی اور صوابدیدی‘‘ قرار دیا جائے،جبکہ یہ آئین ہند کی عظمت اور ایک ملک،ایک قانون،ایک قومی ترانہ اور ایک قومی پرچم کے حکم کے برعکس بھی ہے‘‘۔ممکنہ طور پر آئندہ ہفتہ شنوائی ہونے والی اس عرضی میں جموں کشمیر کے آئین کو بھی اس وجہ پر غلط کہا گیا ہے کہ اس کو ابھی تک صدر ہند نے منظوری نہیں دی ہے،جوکہ آئین ہند کی رو سے لازمی ہے۔  اس عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دفعہ370کی مدت زیادہ سے زیادہ آئین ساز اسمبلی کے وجود تک ہی تھی۔