دفعہ 370سے متعلق ہمارا کیس مضبوط:بخاری ۔5 اگست 2019کے بعدروایتی سیاستدانوں نے لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ ا

عظمیٰ نیوز سروس+یو این آئی

سرینگر// جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں گذشتہ تین چار برسوں سے جو امن قائم ہے اس کا کریڈٹ یہاں کے لوگوں کو بھی جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے متعلق عدالت عظمیٰ میں ہمارا کیس مضبوط ہے۔موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کرنے پر زور دینے کے بارے میں پوچھے جانے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا’’اگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ جموں وکشمیر کو دلی کے ساتھ بات چیت کرائیں گے تو وہ زیادہ بہتر ثابت ہوگا‘‘۔ان کا کہنا تھا: ‘جموں وکشمیر کے لوگ چیخ و پکار سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم وہ بھارت کے ویسے ہی باشندے ہیں جیسے دوسری ریاستوں کے لوگ ہیں ہمارے ساتھ دوہرا معیار نہ برتا جائے”۔الطاف بخاری نے کہا کہ ہمارے سیاسی قائدوں کی کرسیاں اور ڈراما بازی ڈگمگارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگ پر امن ہیں، ذی عزت ہیں ان کو کسی چیز کی طرح بیچا نہیں جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘جو گذشتہ تین چار برسوں سے یہاں امن قائم ہے اس کا کریڈٹ لوگوں کو جاتا ہے جب ان کے دلوں میں تبدیلی آئی تب زمینی سطح پر حالات بدل گئے’۔عدالت عظمیٰ میں دفعہ 370 کی شنوائی کے بارے میں پوچھے جانے پر اپنی پارٹی کے صدر نے کہا: ‘عدالت عظمیٰ ہمارا کیس بہت مضبوط ہے اور جو بھی لڑا رہا ہے وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے لئے لڑ رہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی عدلیہ دنیا بھر میں مشہور ہے ہمیں انصاف ضرور ملے گا۔ اس دوران الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے روایتی سیاستدانوں نے 5 اگست 2019 کے واقعات کے بعد لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ تاہم اپنی پارٹی نے اس پریشان کْن وقت پر اپنے عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوجانے اور ان کے حقوق کیلئے لڑنے کا فیصلہ کیا اور مرکزی سرکار کے ساتھ بات چیت کرنے میں پہل کی۔موصوف سرینگر میں پارٹی کے صدر دفتر پر ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ یہ تقریب بنیادی طور پر سابق وزیر مرحوم قاضی محمد افضل کے بیٹے قاضی عمر فاروق اور ان کے ساتھیوں کی اپنی پارٹی میں شمولیت کرنے پر اْن کا استقبال کرنے کیلئے منعقد کی گئی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ مرحوم قاضی نے 2002 سے 2008 تک قانون ساز اسمبلی میں گاندربل حلقے کی نمائندگی کرتے رہے۔ انہوں نے سال 2008 کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے اْس وقت کے اْمیدوار عمر عبداللہ کو شکست دی تھی۔قاضی عمر فاروق اور اْن کے ساتھیوں کا پارٹی میں استقبال کرتے ہوئے الطاف بخاری نے اْمید ظاہر کی کہ قاضی عمر فاروق اپنے والد مرحوم کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے عوامی حمایت کو حاصل کرنے اور عوام کی بے لوث خدمت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا ’’میں قاضی فاروق اور ان کے ساتھیوں کو اپنی پارٹی میں تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ ان کی شمولیت سے گاندربل میں ہمارے پارٹی کیڈر کو مزید تقویت ملے گی‘‘۔ پارٹی قیادت نئے اراکین کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور اْنہیں اپنے علاقے عوامی خدمت کیلئے مواقع فراہم کئے جائیں گے‘‘۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا ’’5 اگست 2019 کے واقعات کے بعد، جب ہم نے لوگوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں بے بسی اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا پایا تو ہم نے اس مشکل گھڑی میں اْن کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوجانے کا فیصلہ کیا جبکہ روایتی سیاست دانوں نے اس نازک وقت میں خاموشی اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ لیکن اپنی پارٹی نے دہلی جاکر وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کی اور مرکزی سرکار سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی کہ جموں کشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ یہاں کی زرعی زمینوں اور ملازمتوں پر یہاں کے لوگوں کا ہی خصوصی حق ہوگا۔‘‘اس موقع پر پارٹی کے جو سرکردہ لیڈران موجود تھے، اْن میں سینئر نائب صدر غلام حسن میر، پارلیمانی امور کمیٹی کے چیئرمین محمد دلاور میر، ریاستی سکریٹری، ضلع صدر بڈگام اور ترجمان منتظر محی الدین، میڈیا ایڈوائزر سید فاروق اندرابی، ضلع صدر کپوارہ راجہ منظور خان، ضلع صدر گاندربل جاوید احمد میر، صوبائی صدر خواتین ونگ دلشادہ شاہین، جنرل سیکرٹری یوتھ ونگ اور حلقہ انچارج عیدگاہ محمد اشرف پالپوری، ڈی ڈی سی ہارون شبیر احمد ریشی، جوائنٹ سیکرٹری سرینگر بلال احمد خان، مصرا جی، آفس انچارج ضلع گاندربل فرحت جی، ڈسٹرکٹ آرگنائزنگ سیکرٹری شیخ نثار، وارڈ صدر بڈشاہ نگر محمد جمال بٹ، انچارج صدر دفتر توصیف بشیر اور دیگر لیڈران شامل تھے۔