دفعہ 370اور 35اے کے دفاع کا معاملہ

سرینگر//آئین ہند کے دفعہ 370 اور 35اے کے دفاع کیلئے انجینئر رشید اور ڈاکٹر شاہ فیصل کی جماعتوں کے مشترکہ اتحاد پیپلز یونائیٹڈ فرنٹ نے دستخطی مہم شروع کردی ہے۔ راجباغ میں پیپلز یونائیٹڈ فرنٹ کی پریس کانفرنس کے حاشیہ پر ریاست کی خصوصی حیثیت کی دفاع کیلئے شروع کی گئی دستخطی مہم میں معروف کشمیری پنڈت اشوک کارہلونے سب سے پہلے دستخط کئے۔ اس سے قبل انجینئر رشید نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ جموں کشمیر میں غیر قانونی حد بندی نافذ نہ کریں۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو متنازعہ معاملات میں گھسیٹنے سے ریاستی عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلنا بند نہ کیا گیاتو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔انجینئر نے ریاست کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔انجینئر رشید کا کہنا تھا ’’ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے لہٰذا ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کے بجائے متحدہ طور پر خصوصی پوزیشن کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔انجینئر رشید کے بقول ’’میں عمر عبداللہ پر زور دیتا ہوں کہ وہ فوری طور پر سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلائے جہاں سبھی سیاسی پارٹیاں مشترکہ طور پر متفقہ لائحہ عمل تشکیل دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر عمر عبداللہ وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کل جماعتی اجلاس بلانے میں ناکام رہے تو پیپلز یونائیٹڈ فرنٹ آگے آکر خصوصی پوزیشن کے تحفظ کی خاطر آل پارٹیز میٹنگ بلائے گی۔ انجینئر رشید نے سہ طلاق بل پر پی ڈی پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مذکور پارٹی عین وقت پر جب کہ سہ طلاق معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرنا تھا، پارلیمنٹ میں غیر حاضر رہی۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ لوگوں کو یہ بات جاننی چاہیے کہ دفعہ 35Aصرف کشمیر کے مفاد میں نہیں بلکہ اس کا تعلق جموں اور لداخ کیساتھ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند عناصر جموی اور لداخی عوام کو خصوصی پوزیشن کے معاملے پر گمراہ کررہے ہیں لیکن میں یہاں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ دفعہ 35Aکا برقرار رہنا جتنا کشمیر کیلئے اہم اور ناگزیر ہے اتنا ہی جموں اور لداخ صوبوں کیلئے ہیں۔ڈاکٹر شاہ فیصل نے اس موقعے پر جموں بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف معاملے کی حساسیت کا ادراک کرتے ہوئے ریاست کے تشخص کو بچانے کیلئے سامنے آئے۔