دفعہ 35اے اور 370 کی حفاظت کشمیری قوم متحد و متفق: آغا حسن

سرینگر//انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن نے تنازعہ کشمیر کے حتمی حل تک دفعہ 35A اور دفعہ 370 کی حفاظت کو ناگزیر قراردیتے ہوئے واضح کیا کہ آئین ہند کے یہ دفعات ریاست کی متنازعہ حیثیت اور مہاراجہ کے عارضی الحاق کے منہ بولتے ثبوت ہیں جن سے حکومت ہند کی چھیڑ چھاڑ رواں جدوجہد کیلئے منفی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دفعات کی حفاظت کیلئے کشمیری قوم متحد و متفق ہیں اور اس معاملے میں ریاست کی مقامی سیاسی جماعتیں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گی۔ آغا حسن نے کشمیری طلاب کو ہراسان کرنے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے دیرینہ سلسلے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس صورتحال کو سیاسی انتقام گیری کا بدترین مظاہرہ قراردیا۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ تاریخ بشریت گواہ ہے قوموں نے ایک دوسرے کے ساتھ شدید اختلافات اور دشمنی کے باوجود تعلیم و تدریس کے شعبے کو سیاست سے مبرا رکھ کر اس نور سے استفادہ کی راہوں کو کبھی مسدود نہیں کیا اور آج بھی دنیا کے کئی ممالک جو ایک دوسرے کے ساتھ برسر جنگ بھی ہیںان کے طلاب ایک دوسرے کے تعلیمی اداروں میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ حصول علم میں مصروف عمل ہیں۔ آغا حسن نے افسوس ظاہر کیا کہ کشمیری طلاب کو عرصہ دراز سے تعلیمی اداروں میں خوف و دہشت اور احساس عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ اس افسوسناک صورتحال کے سدباب کیلئے کارگر اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ اس موقعہ پر آغا حسن نے حریت رہنما مشتاق الاسلام اور غلام محمد خان سوپوری کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ برسہا برس سے مقید حریت پسند کشمیر محبوسین بالخصوص جیلوں میں علیل نظر بندوں کی رہائی عمل میں لائی جائے تاکہ اعتماد سازی کا ایک ماحول پیدا کرکے حالات میں مثبت تبدیلیوں کی امید کی جاسکے۔