دفعہ 35اےکادفاع: ریاست کی وحد ت کو زک نہ پہنچایا جائے:جمعیت اہلحدیث

سرینگر//دفعہ35 اےکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کہاہے کہ ریاست کی آئینی حیثیت کو زک پہنچانے کی کسی بھی کوشش کیخلاف عوام سینہ سپر ہونگے ۔انجمن شرعی شیعان و جمعیت اہل حدیث نے کہا ہے کہ ریاست کے آئینی تخصص کو کسی بھی صورت میں زک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اپنے ایک بیان میںصدرانجمن شرعی شیعان وسینئرحریت رہنما آغا سید حسن موسوی نے دفعہ 370 اور 35Aکیساتھ چھیڑچھاڑ کی کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ سازشیں در حقیقت ریاست کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کا پیش خیمہ ہیں۔موصوف نے آرٹیکل 35Aکے تئیں ریاستی عوام کے اٹل موقف پر زور دیتے ہوئے اس کو ریاست جموں وکشمیر کے عوام کے وجود اور تشخص کا ضامن بتایا، موصوف نے تمام سیاسی پارٹیوں اور مذہبی جماعتوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے سیاسی اور مسلکی مفادات سے اوپر اٹھ کر اس دفعہ کے بقا کیلئے متحد ہو جائیں اور اس سلسلہ میں حکومت ہند پریہ واضح کر دیں کہ وہ جموں وکشمیر کے عوام کے صبرکا امتحان نہ لے اور ان کے بارے میں آئے دن نت نئی سازشوں سے باز آجائے۔ سینئرحریت رہنما نے متحدہ مزاحمتی قیادت کی5 اور 6 اگست کی ہڑتال کال کے پیش ِ نظر  ریاست کے تمام لوگوں سے اس ہڑتال کو کامیاب بنانے کی بھرپور اپیل کی اور اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم تاریخ کے اس نازک موڑ پر غفلت شعاری سے کام لیں گے تو ہماری آئندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی لہذا ہم سب کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ جان ودل سے اس دفعہ کی پاسداری کریں، موصوف نے اس قسم کی سازشوں کے سلسلہ میں خبردارکرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری عوام نے ہردور میں ان سازشوں کو ناکام بنانے میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور وہ آئندہ بھی اپنے وجود اور بقا کی جنگ میں ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ۔اس دوران جمعیت اہلحدیث جموں و کشمیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اپنی شناخت اور تشخص کو برقرار رکھنے کے لئے ریاستی عوام کمر بستہ ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ریاست کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی کاوشیں اگرچہ مدت مدید سے جاری ہیں لیکن پچھلے کئی برسوں سے اِن مکروہ اداروں کو عملی جامہ پہنانے کی کاوشیں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔جمعیت کو اِس بات کا برملا اعلان کرنے میں اسے کوئی باک نہیں کہ اس دفعہ کے ساتھ معمولی کھلواڑ بھی کسی طور برداشت نہیں کیا جاے گا۔
 
 
 

اننت ناگ میں وکلاء کا احتجاجی مظاہرہ

اسلام آباد(اننت ناگ)//دفعہ35اے ‘کے دفاع میں دئے گئے احتجاجی پروگرام کے بیچ جنوبی قصبہ اننت ناگ میں وکلاء نے ایک احتجاجی مارچ نکالا ۔تفصیلات کے مطابق اننت ناگ میں وکلاء نے آواز بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔ ضلع کورٹ کمپلیکس اسلام آباد میں وکلاء کی خاصی تعداد جمع ہوئی ،جہاں انہوں نے آرٹیکل35 Aکی پاسداری کوہر حال میںبرقرار رکھنے کے حق میںمظاہرہ کیا ۔یہاں احتجاجی مظاہرہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن (اننت ناگ) کے بینر تلے کیا گیا ۔کورٹ کمپلیکس میں احتجاجی دھرنا دینے کے بعد مذکورہ ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ فیاض احمد سوداگر اور جنرل سیکریٹری شیخ عرفان گلزارکی قیادت میں ایک احتجاجی مارچ بھی نکالا گیا،جس میں وکلاء کی ایک خاصی تعداد نے شرکت کی ۔مظاہرین وکلاء نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر آرٹیکل35Aکے تحفظ کے حق میں نعرے درج تھے ۔یاد رہے کہ گزشتہ روز تاجروں ،صنعت کاروں ،ہوٹل مالکان اور سیول سوسائٹی سمیت27آرگنائزیشنوں نے مزاحمتی قیادت کے دو روزہ احتجاجی پروگرام کی حمایت کا اعلان کیا تھا جبکہ انہوں نے اس ضمن میں منگل سے احتجاجی مہم چھیڑنے کا پروگرام بھی جاری کیا تھا ۔مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے 5اور6اگست کیلئے دو روزہ احتجاجی ہڑتال کی کال دی ۔ادھر طے شدہ پروگرام کے تحت یعنی بدھ کو ٹریڈرس فیڈریشن بٹہ مالو کے بینر تلے بٹہ مالو میں تاجر برداری احتجاج کرے گی جبکہ آل کشمیر ٹرانسپورٹر ویلفیئر ایسوسی ایشن اور فروٹ ایسوسی ایشن کے بینر تلے مشترکہ طور پر جنرل بس اسٹینڈ پارمپورہ میں دوپہر2بجے35اے کے دفاع کے حق میں احتجاج کیا جائیگا ۔(کے این این)