دفاترمیں آئی سی سی کی عدم موجودگی

کشمیر میں پہلے سے ہی ایسے پلیٹ فارم کی کمی محسوس کی جا رہی تھی جہاں اپنی شکایات درج کر ائی جا سکیں۔ لیکن دفاترمیں خواتین کے لئے داخلی شکایت کمیٹی(آئی سی سی) کی عدم موجودگی کی وجہ سے کام کرنے والی خواتین کو کو نہ صرف پریشانی کا سامناکر نا پڑ رہا ہے بلکہ ان کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے معاملات میں انصاف کا دروازہ تقریبا ًبندہوتا نظر آرہاہے، جس کی وجہ سے خواتین کے ساتھ نہ صرف جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان کا بیجا استحصال بھی کیاجا رہا ہے۔2013 میں کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو جنسی تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے ایک ایکٹ لایا گیا تھاجسے POSH ایکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ خواتین کو ان کے کام کرنے کی جگہوں پرنہ صرف جنسی زیادتی سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی تمام شکایات کا بھی ازالہ کرتا ہے۔ پوش ایکٹ کے تحت ہر دفتر، خواہ وہ سرکاری ہو یا نجی، میں آئی سی سی یعنی داخلی شکایت کمیٹی کا ہونا لازمی ہے تاکہ اس جگہ کام کرنے والی خواتین کے جنسی زیادتی سے متعلق شکایات موصول ہوں نے پر اس سے متعلق تفتیش کی جائے،متعلقہ اتھارٹی کو اس کی سفارشات پیش کی جا سکیں اورجرم ثابت ہونے پر ضروری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
تاہم کشمیر کے زیادہ تر دفاترمیں ایسی کوئی کمیٹی موجود ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے خواتین کو مرداکثریتی جگہوں پر کام کر نے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔سری نگر میں جموں و کشمیر بینک کی ایک برا نچ میں کام کرنے والی خاتون ملازمہ کو جنسی ہراساں جیسے تلخ تجربات سے صرف اس لیے گزرنا پڑا کیوں کہ ان کے آفس میں اس طرح کی کوئی کمیٹی موجود نہیں تھی جہاں وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت درج کرا سکتی۔ نجی اسکولوں اور اداروں میں کام کر ے والی خواتین کے ساتھ بھی اب اسی طرح کا سلوک ہوتا ہے۔ استاد کی حیثیت سے بڈگام کے ایک مشہورپرائیوٹ اسکول میں کام کر نے والی خاتون کہتی ہیں ’’میں اپنے ایک مرد ساتھی کی طرف سے کئی بار ہراساں کی گئی۔ مجھے اپنی فیملی کو سپورٹ کرناتھا اس لیے میں ملازمت سے استعفیٰ دیکراپنے گھر پر نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ لہذا میرے پاس اسے نظرانداز کرنے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں تھا‘‘۔ وادی کے کسی بھی سرکاری یا نجی اسکول میں آئی سی سی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے کام کر نے والی خواتین کو انصاف حاصل کرنے میں نہ صرف دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
وادی کے ایک ممتاز سرکاری اسپتال میں کام کر ے والی نرس نے کہا کہ میں اپنے آپ کو اس وقت غیر محفوظ محسوس سمجھتی ہوں جب مجھے رات کے اوقات میںڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔ ہا نیہ الطاف (تبدیل شدہ نام) کہتی ہیں ’’مجھے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام سے سفر کرنا پڑتا تھا۔ ہر روز سفر سے بچنے کی غرض سے میں نے ہاسٹل کی سہولیات سے فائدہ اٹھانا چاہا اور اس کے لئے متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ بھی کیا۔ ایک شخص مجھے ہاسٹل کا کمرہ دکھانے لے جا رہا تھا۔ جب میں نے اس سے ہاسٹل کی فیس کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا’اگرآپ کہو تو سب فری کرا دوں آپ کے لیے‘ میں سمجھ گئی کہ اس کا ارادہ نیک نہیں ہے ‘ مزکورہ واقعہ کے بعد اس نے کبھی ہوسٹل میں رہنے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ وہ روز اپنے گھر سے ہی ہسپتال تک کی لمبی مسافت طے کرتی تھی۔اس کی ایک ساتھی  خاتون کو بھی اسی طرح کی بد سلوکی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب وہ اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر معمور تھی۔ ’’سردیوں کا موسم تھا اور وہ اسٹور روم سے کمبل لینا چاہتی تھی۔ جب اس نے کمبل لینے کے لیے اسٹور روم کے انچارج سے رابطہ کیا تو اس نے ایک گستاخانہ تبصرہ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور پیش کش کی کہ اس کے ساتھ پہلے ایک کپ گرم چائے پیؤں پھر وہ کمبل دے گا۔ اس رات اُس نے سخت سردی کی رات بنا کمبل کے کسی طرح کانپتے ہوئے گزار۔‘
اس طرح کے واقعات سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والی اکثروبیشتر خواتین کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں اور مجبوراً ان کو اس طرح کی نازیبا حرکات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ قابل گرفت بھی ہے۔ کشمیر کے دفاتر میں آئی سی سی کی عدم موجودگی نے خواتین کے خلاف تشددکے معاملات میں اضافہ کردیا ہے اور اس طرح خواتین کے لئے کام کرنے کی جگہیں تنگ ہوتی جا رہی ہیں۔ پیشہ وارانہ کام کرنے والی خواتین کے کیریئرکی دیکھ بھال کرنے اوراس کے لیے سازگار ماحول کوفروغ دینے والی ایک تنظیم پینک لیڈر نے 2020  میں ’’ہندوستان میں جنسی زیادتیوں سے متعلق قوانین تک پہنچ اور ان کے اثرات‘‘ نام سے ایک اسٹڈی رپورٹ جاری کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 56فیصد خواتین کا خیال ہے کہ کام کرنے کی جگہوں پر جنسی زیادتی اورخواتین کو ہراسا ں کیے جانے کے معاملات میں پہلے کے مقابلے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس مطالعے میں بنگلور، ممبئی، چنئی اور نئی دہلی کے 80اداروں کی 200 خواتین کو شامل کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 53فیصد خواتین کام کرنے کی جگہوں پر جنسی تبصرے، اشارے اور لطیفوں کاشکار ہوتی ہیں۔ اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ قریب 30 فیصد خواتین اس وقت اپنی ٹیم یا کیمپ میں جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔ مطالعے کے مطابق قریب 80 فیصد خواتین کام کاج کی جگہوں پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف موجود پالیسیوں سے آگاہ ہیں لیکن قریب30 فیصد خواتین اب بھی اس طرح کے واقعات کے بارے میں داخلی کمیٹی کو شکایت کر نے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔ سروے میں شامل نصف کے قریب جواب دہندگان اس کشمکش میں تھیں کہ آیا وہ اسی جگہ کام کرنا جاری رکھیں گی یا نہیں،جہاں انہیں جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔مگر 65 فیصد سے زیادہ خواتین کا خیال تھا کہ کمپنیوں میں حساسیت پیدا کرنے کے لیے ورکشاپ کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ ان کے ساتھی ان کے ساتھ کسی طرح کی ناانصافی نہ کریں اور ان کے ساتھ معاون ومددگار بن کر رہیں۔
کشمیر میں کام کرنے والے سماجی کارکنان کا خیال ہے کہ ایسے تمام ادارے جہاں خواتین کو اپنی شکایات درج کرانے کے پلیٹ فارم مہیا نہیں ہیں وہاں پر خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ جنسی معاملات میں زیادتی کیے جانے کے گراف میں اضافہ ہوا ہے۔اس لیے کام کر نے والی جگہوں پر خواتین کے لئے ایسے پلیٹ فارم کا ہونا اشد ضروری ہے جہاں وہ اپنے ساتھ ہوئے جنسی زیادتی کے معاملات کی شکایت درج کرا سکیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عزبیرعلی نامی خاتون کہتی ہیں ’’خواتین کے لیے کام کرنے کے مقامات پرفوری امدادی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ کام کرنے کے مقامات کے ماحول خواتین کے لیے سازگار نہیں ہیں اور دفاتر میں آئی سی سی ونگ کی عدم موجودگی خواتین کو ان بند جگہوں پر مزیدہراساں کیے جانے کا سبب بن رہی ہے‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ بدقسمتی سے کشمیر کمیشن برائے حقوق خواتین واطفال اور اس طرح کے تما م دیگر اداروں کو 05 اگست 2019 کے بعد ختم کردیا گیا ہے اور ایسی صورتحال میں خواتین کو اپنی شکایات درج کرانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔دفاتر خواہ سرکاری ہوں یا نجی ہر ایک میں آئی سی سی ونگ ضرورہونا چاہئے تاکہ خواتین اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی رپورٹ با آسانی درج کرا سکیں۔مزید یہ کہ آئی سی سی کے تحت قواعد کو واضح طورپراس بات کی نشا ندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ کون سے عمل غیر قابل قبول ہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ خواتین کے ساتھ صرف چھیڑ چھاڑ ہی ہو بلکہ دوسرے طریقوں سے بھی ان کو ہراساں کیا جاتاہے۔جس کا بروقت ازالہ نہایت ہی ضروری ہے۔