دستکاری شعبے کو ٹیکس رعایت جاری رہے گی

سرینگر//جموں کشمیر میں دستکاری شعبے کی بحالی پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے کل کہا کہ اس صنعت کو گذشتہ ٹیکس نظام کے تحت حاصل رعایت جی ایس ٹی نظام کے تحت بھی جاری رہے گی ۔ درابو نے کہا ’’ دستکاری شعبے کے لئے جی ایس ٹی میں مکمل رعایت کا معاملہ مرکزی وزارت خزانہ کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے تا ہم اگر یہ شرح پانچ فیصد رہے تو بہتر ہے کیوں کہ یہ پیسہ اِن پُٹ کریڈیٹ کی شکل میں واپس آئے گا جو کہ مکمل رعایت کی صورت میں ممکن نہیں ہے‘‘۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاستی حکومت جموں وکشمیر میں دستکاری اور سیاحتی شعبۂ کی بحالی کے لئے ایک وسیع پیکج پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ ان دو شعبوں پر ہی ہم نے مشکل حالات میں انحصار کیا ہے اور اب ہمیں ان شعبوں کو بحال کرنا ہے‘‘۔وزیر کل بینکوٹ ہال سرینگر میں منعقدہ میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے جس میں پرنسپل سیکرٹری خزانہ ، کمشنر سیلز ٹیکس اور محکمہ خزانہ کے دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سے وابستہ مختلف تجارتی انجمنیں بشمول ہوٹل مالکان، ٹور اینڈ ٹریول آپریٹرس، دستکار انجمنیں، ہاؤس بوٹ مالکان اور کے سی سی آئی سے وابستہ تجارتی تنظیموں کے نمائندے بھی میٹنگ میں موجود تھے جن کی قیادت مشتاق احمد وانی کر رہے تھے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے ٹیکس نظام کے سبب عارضی طور نظام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور اگلے 6 سے8 ماہ تک حالات معمول پر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ نئے نظام سے رشوت ستانی کا قلعہ قمع ہوگا اور تمام تفاوتیں دور ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت دستکاروں اور دستکاری شعبۂ کی بحالی کے لئے پُر عزم ہے۔ انہوں نے تاجروں اور دستکاروں کو اُن مصنوعات کی فہرست مرتب کرکے اُن کے لئے نئے ٹیکس نظام کے تحت ٹیکس کی شرح تجویز کرنے کے لئے کہا۔