دریائے سرن کو عبور کرنا لوگوں کیلئے جوکھم سے کم نہیں

سرنکوٹ// سرنکوٹ کے علاقہ کلرکٹل کی عوام کے پاس دریا ئے سرن کو عبور کرنے کیلئے اس وقت تک کوئی پختہ پل ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کے لکڑی کے ایک عارضی پل سے دریاعبور کرنے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ خطہ میں 2014کے دوران آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے ان کے راستے پوری طرح سے تباہ ہو گے تھے لیکن اس کے بعد سے آج تک متعلقہ محکمہ او ر مقامی و ضلع انتظامیہ نے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوئی عملی قدم ہی نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے ہزاروں کی آبادی والے دیہات آج بھی پسماندہ طرز کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔اس وقت کلر کٹل و ملحقہ علاقوں کی عوام نے دریائے سرن کو عبور کرنے کیلئے ذاتی طورپر ایک لکڑی کا پل بنایا ہوا ہے جس کی مدد سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ دریا عبور کرتے ہیں ۔مکینوں نے بتایا کہ دریا کو عبور کرنے کیلئے انہوں نے دریا کے درمیانی حصے میں عارضی طور پر لکڑی کا پل بنایا ہوا ہے جس سے ان کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔مقامی یوتھ لیڈر سکندر حیات نے بتایا کہ آج کے جدید دور میں بھی علاقہ کلرکٹل کے لوگ جان جو کھم میں ڈال کر دریا عبور کرنے پر مجبور ہیں۔انھوں نے کہا پل کو تعمیر کرنے کے سلسلہ میں کئی مرتبہ مقامی لوگوں نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا لیکن ابھی تک کوئی عملی کام نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے مذکورہ علاقوں کے بزرگوں ،حاملہ خواتین اور طلباء کو دریا عبور کرتے ہوئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ دریا ئے سرن پر ایک پختہ پل تعمیر کیا جائے تاکہ لوگ مشکل وقت میں بھی دریا کو آسانی کیساتھ عبور کر سکیں ۔